الکوہل آمیزسینیٹائزر(Sanitizer) کے استعمال کا حکم

کورونا وائرس کے اثرات سے بچنے کے لیے آج کل ہینڈسینیٹائزر(Hand Sanitizer) کا استعمال کثرت سے ہورہاہے۔اس میں الکوہل کی آمیزش۶۰ فی صد سے ۷۰فی صد تک ہوتی ہے۔ الکوہل کا استعمال علمانے حرام قراردیا ہے۔سوال پیداہوتاہے کہ کیا وائرس کے اثرات سے بچنے کے لیے ہینڈسینیٹائزر کا استعمال کیاجاسکتا ہے؟
جواب
انگوراورکھجوروغیرہ سے بنی ہوئی شراب کو عربی زبان میں  ’خمر‘ کہتے ہیں ۔اسے قرآن میں حرام کہاگیا ہے ۔وجہ حرمت اس کا نشہ آورہونا ہے ۔حدیث میں  بھی ہرنشہ آور چیز کو حرام کہاگیا ہے ۔اس بناپر تمام نشہ آورچیزوں کا کھانا پینا فقہا نے حرام قراردیاہے۔ دوائوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس میں الکوہل کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اس میں چوں کہ اس کی بہت قلیل مقدار استعمال ہوتی ہے،اس لیے فقہا نے ایسی دوائوں کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ خارجی استعمال کی بہت سی چیزوں میں الکوہل کی بڑی مقدار شامل کی جاتی ہے،مثلاً صفائی ستھرائی کا سامان(Cleaning Products)،رنگ وروغن کا سامان(Paints Varnises)، ہوا کی صفائی والے اسپرے(Air Freshners) وغیرہ۔ فقہانے ایسی چیزوں کا استعمال جائز قرار دیا ہے،ان میں چاہے جتنی مقدار میں الکوہل کی آمیزش ہو۔

Leave a Comment