ام المومنین حضرت عائشہؓ کا کم سنی میں نکاح

عمر عائشہؓ کے حوالے سے آپ کا جواب نظر سے گزرا۔ غالباً اس حوالے سے جناب حکیم نیاز احمد کی کتاب ’کشف الغمۃ‘ مولانا حبیب الرحمن کاندھلوی، علاّمہ تمنا عمادی، جناب رحمت اللہ طارق اور علامہ محمود احمد عباسی کی تحریروں کو سامنے نہیں رکھا گیا ہے۔ شاید آپ کے زیر مطالعہ رہی ہوں ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ جناب حکیم نیاز احمد کے دلائل کافی مضبوط ہیں ۔ اگر ممکن ہو تو اس حوالے سے تھوڑی تسلی کرادیں ۔
جواب
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عمر کے سلسلے میں جمہور ِ امت کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نکاح کے وقت ان کی عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال تھی۔ تاریخ، سیرت النبی، سیر الصحابہ، طبقات اور دیگر علوم کی قدیم کتابوں میں مختلف راویوں سے اس کی صراحت ملتی ہے۔ البتہ ماضی قریب کے بعض محققین کی رائے ہے کہ نکاح کے وقت ام المومنین کی عمر سولہ سال اور رخصتی کے وقت انیس سال تھی۔ آپ نے ان میں سے بعض حضرات کے نام درج کردیے ہیں ۔ مولانا محمد فاروق خاں کا بھی اس موضوع پر ایک مختصر رسالہ ہے۔ وہ بھی ان محققین کے ہم خیال ہیں ۔ اس سلسلے میں اصولی طور پر چند باتیں عرض ہیں : (۱) اس موضوع کا تعلق دین کی اساسیات سے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے۔ اس لیے دونوں آرا میں سے، جس پر بھی اطمینان ہو، اسے اختیار کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (۲) نئی تحقیق اس زمانے میں پیش کی گئی جب غیروں کی طرف سے رسول اکرم ﷺ کی ازدواجی زندگی کو ہدف ِ تنقید بنایا جانے لگا اور خاص طور پر ام المومنین کی کم سنی اور ان کی اور رسول اللہ ﷺ کی عمروں میں تفاوت کو بہت زیادہ نمایاں کیا جانے لگا۔ اس تحقیق سے بھی ان لوگوں کو مطمئن اور خاموش نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ انیس سال کی عمر میں رخصتی مان لینے کی صورت میں بھی اس وقت رسول اللہ ﷺ کی عمر ۵۶ سال تھی اور اس تفاوت کو بھی جدید زمانے کے لوگ بہت زیادہ مانتے ہیں ۔ (۳) نئی تحقیق پیش کرنے والوں کی تحریروں میں غالباً اس سوال کا کوئی جواب نہیں ملتا کہ اگر نکاح کے وقت ام المومنین کی عمر سولہ سال تھی تو رخصتی کو مزید تین سال موخر کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ نکاح کے بعد رخصتی فوراً ہوجانی چاہیے تھی اور اس زمانے کا یہی دستور بھی تھا۔ (۴) زوجین کا ہم عمر ہونا متعدد پہلوؤں سے مفید، مطلوب اور پسندیدہ ہے۔ قرآن و سنت میں اس کے اشارے موجود ہیں ۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ کا معاملہ ایک استثناء ہے، جس کے مختلف مصالح تھے۔ اس کی تفصیل متعلقہ موضوع کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

Leave a Comment