بدلے کی شادی

ہمارے ملک کے بعض حصوں میں بدلے کی شادیوں کا رواج ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا مودودیؒ نے رسائل و مسائل جلد دوم میں لکھا ہے کہ ’’عام طور پر ادلے بدلے کے نکاح کا، جو طریقہ ہمارے ملک میں رائج ہے وہ دراصل اسی شغار کی تعریف میں آتا ہے، جس سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔‘‘ مولانا مودودیؒ نے شغار کی تین صورتیں بتائی ہیں : ایک یہ کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اس شرط پر اپنا لڑکا دے کہ وہ اس کے بدلے میں اپنی لڑکی دے گا اور ان میں سے ہر ایک لڑکی دوسری لڑکی کا مہر قرار پائے۔ دوسرے یہ کہ شرط تو وہی ادلے بدلے کی ہو، مگر دونوں کے برابر برابر مہر (مثلاً ۵۰، ۵۰ہزار روپیہ) مقرر کیے جائیں اور محض فرضی طور پر فریقین میں ان مساوی رقموں کا تبادلہ کیا جائے، دونوں لڑکیوں کو عملاً ایک پیسہ بھی نہ ملے۔ تیسرے یہ کہ ادلے بدلے کا معاملہ فریقین میں صرف زبانی طور پر ہی طے نہ ہو، بلکہ ایک لڑکی کے نکاح میں دوسری لڑکی کا نکاح شرط کے طور پر شامل ہو۔ آگے مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے کہ ’’پہلی صورت کے ناجائز ہونے پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔ البتہ باقی دو صورتوں کے معاملے میں اختلاف واقع ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے فقہاء کے اختلاف کی تفصیل نہیں دی ہے۔ البتہ خود ان کے نزدیک تینوں صورتیں خلاف شریعت ہیں ۔ بہ راہِ کرم موخر الذکر دونوں صورتوں میں اختلافِ فقہاء کی کچھ تفصیل فراہم کردیں ۔
جواب
صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ نَھٰی عَنِ الشِّغَارِ۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب الشغار، حدیث: ۵۱۱۲، صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب تحریم نکاح الشغار وبطلانہ، حدیث: ۱۴۱۵) ’’رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔‘‘ اسی روایت میں آگے نکاح شغار کی تعریف بھی بیان کی گئی ہے۔ ’’شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح دوسرے شخص سے اس شرط پر کردے کہ دوسرا اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردے اور دونوں لڑکیوں کا کوئی مہر طے نہ ہوا ہو۔‘‘ دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعریف حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے شاگرد حضرت نافعؒ نے کی تھی۔ ان کے شاگرد نے ان سے پوچھا کہ حضرت! شغار کیا ہے؟ تو انھوں نے یہ وضاحت کی۔ (صحیح بخاری، کتاب الحیل، باب الحیلۃ فی النکاح، حدیث: ۶۹۶۰) ایک حدیث حضرت عمران بن حصینؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: لاَ شِغَارَ فِی الْاِسْلاَمِ۔(جامع ترمذی، ابواب النکاح، باب ماجاء فی النھی عن نکاح الشغار، حدیث: ۱۱۲۳، صحّحہ الالبانی) ’’اسلام میں شغار کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔‘‘ امام ترمذیؒ فرماتے ہیں : ’’اس مضمون کی حدیث حضرات صحابہ: انس، ابو ریحانہ، ابن عمر، جابر، معاویہ، ابو ہریرہ اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ مذکورہ احادیث کی بنیاد پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ نکاح شغار جائز نہیں ہے۔ البتہ ان کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ اگر ایسا نکاح ہوجائے تو کیا مہر مثل لازم کرنے سے وہ درست ہوجائے گا؟ ائمۂ ثلاثہ (امام مالکؒ، امام شافعیؒاور امام احمدؒ) فرماتے ہیں کہ مہر مثل لازم کرنے کے باوجود وہ درست نہ ہوگا۔ دلیل میں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ اور حضرت زیدؓ نے ایسے نکاح میں تفریق کرادی تھی۔ اگر بدلے کی شادی کے ساتھ دونوں لڑکیوں کا مہر طے کردیا جائے تو امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک نکاح صحیح ہوگا۔ امام مالکؒ کے نزدیک اگر ایک لڑکی کا نکاح دوسری لڑکی کے نکاح کے ساتھ مشروط نہ ہو تو دونوں کا مہر طے ہونے کی صورت میں ان کا نکاح صحیح ہوگا۔ حنبلی فقیہ امام خرقیؒ کے نزدیک اس صورت میں بھی نکاح صحیح نہ ہوگا۔ دلیل میں وہ سنن ابی داؤد کی ایک روایت پیش کرتے ہیں ، جس میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے صاحب زادے عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبد الرحمن بن حکم سے اور عبد الرحمن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس سے کردیا تھا۔ دونوں لڑکیوں کا مہر بھی طے ہوا تھا، لیکن حضرت معاویہؓ نے حضرت مروان کو حکم دیا کہ دونوں نکاحوں میں تفریق کرادی جائے، کیوں کہ یہ نکاح شغار ہے، جس سے نبی ﷺ نے منع کیا ہے۔ (کتاب النکاح، باب فی الشغار، حدیث: ۲۰۷۵، حسّنہ الالبانی) تابعین میں حضرات عطا، عمرو بن دینار، مکحول، زہری اور ثوری رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح شغار، جس کی ممانعت حدیث میں آئی ہے، یہ ہے کہ بدلے کی شادی میں کسی لڑکی کا مہر طے نہ کیا جائے۔ لیکن اگر مہر مثل لازم کردیا جائے تو یہ نکاح صحیح ہوگا۔ حنفیہ کے نزدیک بھی یہ نکاح صحیح ہے اور دونوں لڑکیوں کو مہر مثل ملے گا۔ مولانا مودودیؒ نے نکاح شغار کی، جو تین صورتیں بتائی ہیں ان میں پہلی اور تیسری صورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دراصل مالکیہ نے نکاح شغار کی تین قسمیں کی ہیں : اول: وہ بدلے کا نکاح، جس میں کسی لڑکی کا مہر طے نہ ہوا ہو، اسے شغار صریح کہتے ہیں ۔ دوم: وہ بدلے کا نکاح، جس میں دونوں لڑکیوں کا مہر طے ہو، لیکن ایک لڑکی کا نکاح دوسری لڑکی کے نکاح کے ساتھ مشروط ہو، اسے وجہ شغار کہتے ہیں ۔ سوم: اول اور دوم کی مرکب صورت، یعنی ایک لڑکی کا مہر طے ہو اور دوسری کا نکاح بغیرمہر کے ہو۔ شغار کی پہلی صورت مالکیہ کے نزدیک باطل ہے۔ ایسا نکاح فسخ کردیا جائے گا، خواہ خلوت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ خلوت نہ ہوئی ہو تو ان لڑکیوں کو کچھ نہ ملے گا۔ خلوت ہوچکی ہو تو وہ مہر مثل کی مستحق ہوں گی۔ دوسری صورت بھی باطل ہے، لیکن اس میں نکاح اس وقت فسخ ہوگا جب خلوت نہ ہوئی ہو۔ خلوت ہوچکی ہو تو عقد ہوجائے گا اور وہ لڑکیاں طے شدہ مہر اور مہر مثل میں سے، جو زیادہ ہو اس کی مستحق ہوں گی۔ البتہ اس دوسری صورت میں اگر ایک لڑکی کا نکاح دوسری لڑکی کے ساتھ مشروط نہ ہو تو ایسا نکاح صحیح ہوگا۔ تیسری صورت میں ، جس لڑکی کا مہر طے ہوا ہو اس سے اگر خلوت نہیں ہوئی ہے تو نکاح فسخ کردیا جائے گا۔ خلوت ہوچکی ہے تو نکاح باقی رہے گا اور وہ طے شدہ مہر اور مہر مثل میں سے جو زیادہ ہو اس کی مستحق ہوگی اور جس لڑکی کا مہر طے نہ ہوا ہو اس کا نکاح بہ ہر حال فسخ ہوگا، خواہ خلوت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ خلوت ہوچکی ہو تو وہ مہر مثل کی مستحق ہوگی۔ (الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، ۴/۱۲۶)

Leave a Comment