بعض احادیث کی تحقیق

ایک حدیث نظر سے گزری کہ ’’ جس شخص کی موت جمعہ کے دن یا رات میں ہوگی وہ قبر کے فتنے سے محفوظ ہوگا۔‘‘ بہ راہ کرم بتائیں  ، کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس سے جمعہ کی فضیلت کا اثبات مقصود ہے؟
جواب
اس مضمون کی روایت بعض کتبِ حدیث میں ان الفاظ میں  مروی ہے: مَنْ مَاتَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اَوْلَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ وَقٰی فِتْنَۃَ الْقَبْرِ۔ ’’جس شخص کی موت جمعہ کے دن یا رات میں ہوگی وہ قبر کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔‘‘ اس کی تخریج امام احمد(۶۵۸۲،۶۶۴۶) اورامام ترمذی (۱۰۷۴) نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی سند سے کی ہے۔ بعض الفاظ کے فرق کے ساتھ یہ حضرت انس ؓ اور حضرت جابرؓ سے بھی مروی ہے ۔ حضرت انسؓ کی روایت ابویعلیٰ نے اور حضرت جابرؓ کی روایت ابو نعیم نے نقل کی ہے۔ علامہ البانیؒ نے اپنی کتاب ’احکام الجنائز ‘میں  لکھا ہے کہ ’’ اس کے تمام طرق کو دیکھتے ہوئے یہ حسن یا صحیح قرارپاتی ہے۔ ‘‘ لیکن علامہ شعیب الارناوؤطؒ نے مسند احمد کی تعلیق میں اس پر ان کا تعاقب کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی جو شاہد روایتیں ہیں  وہ بھی علّت سے خالی نہیں ہیں ۔ اس لیے وہ اس روایت کی تقویت کے لیے کافی نہیں  ہیں ۔‘‘ امام ترمذیؒ نے بھی اس کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ’حدیث غریب ‘ہے اور اس کی سند متصل نہیں  ہے(منقطع ہے)۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے شرح بخاری میں یہ روایت نقل کرکے لکھا ہے :’’ اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے اور ابو یعلیٰ کی روایت کردہ حدیثِ انس ؓ کی سند اوربھی ضعیف ہے۔‘‘ امام بخاریؒ نے ایک باب قائم کیا ہے: باب موت یوم الاثنین (دوشنبہ کے دن وفات کابیان)۔ اس میں  بیان کیا ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات دوشنبہ میں ہوئی تھی اورحضرت ابوبکرؓ کی وفات بھی۔‘‘ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ جمعہ کے دن وفات کی فضیلت میں  مروی روایت ان کے معیار پرپوری نہیں اترتی۔ خلاصہ یہ کہ جس روایت کے بارے میں سوال کیاگیا ہے وہ صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ منقطع ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی ضعیف ہے اور اس مضمون کی دیگر روایتوں کے بھی ضعیف ہونے کی وجہ سے اس میں کوئی تقویت پیدا نہیں ہوتی۔

Leave a Comment