بچے کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا حق

ایک حدیث نظر سے گزری ہے جس کا مضمون کچھ یوں ہے: ’’ایک عورت اپنے دودھ پیتے بچے کو لے کر اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے۔ میں نے حمل اور وضع حمل کی تکلیفیں برداشت کی ہیں ، ابھی یہ میرا دودھ پیتا ہے اور میری آغوش تربیت کا محتاج ہے، لیکن اس کا باپ، جس نے مجھے طلاق دے دی ہے، چاہتا ہے کہ اسے مجھ سے چھین لے۔ یہ سن کر آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’تم اس کی زیادہ حق دار ہو جب تک تمھارا کہیں اور نکاح نہ ہوجاے۔‘‘ اس حدیث کے ضمن میں درج ذیل سوالات ابھرتے ہیں : ۱- اگر ماں کسی اور سے نکاح کرلے تو ایسی صورت میں کیا ماں کا حق حضانت پوری طرح ساقط ہوجاتا ہے اور بچے کو مطلقہ سے لے لینے کا باپ پوری طرح حق دار ہوگا؟ حدیث کے الفاظ سے تو یہی بات مترشح ہوتی ہے۔ ۲- بچہ ماں کے پاس ہو یا ماں جس کے پاس بھی اسے پرورش کے لیے رکھے، وہ مقام کہیں اور ہو اور بچے کا باپ جہاں اپنے اہل خاندان مثلاً بچے کی دادی، دادا، پھوپھی اور چچا وغیرہ کے ساتھ مقیم ہو اور وہیں اس کا پھیلا ہوا کاروبار بھی ہو وہ مقام بچے کی جاے قیام سے ہزاروں کلو میٹر کے فاصلے پر ہو، تب بھی بچے کی ماں اگر فقہ کے اس مسئلے کا حوالہ دے کہ ماں کے بعد بچے کی پرورش کا حق نانی کو منتقل ہوجاتا ہے اور بچے کو اپنی ماں کے پاس رکھنے پر مصر ہو تو یہ کہاں تک صحیح اور درست ہوگا؟ جب کہ بچے کی پرورش اس کی صحت اور تعلیم و تربیت پر نگاہ رکھنا اور وقتاً فوقتاً بچے سے ملنا اور ملتے رہنا اور بچے کو اپنے سے مانوس رکھنا، طویل فاصلے کی بنا پر باپ کے لیے ممکنات میں سے نہ ہو۔ ایسی صورت میں ماں کا یہ طرز عمل اور اس پر اصرار کیا شرعاً صحیح اور درست ہوگا؟ ۳- پھر یہ کہ طلاق کے بعد بچے کی ماں کے گھر والوں یعنی نانا، نانی وغیرہ سے اس کے باپ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہوں اور وہ ان کے گھر میں قدم رکھنا بھی پسند نہ کرتا ہو تو ایسی صورت میں بچے کو نانی کے پاس رکھنا بچے سے باپ کے تعلق کو کیا عملاً ختم کردینے کے مترادف نہیں ہوگا۔ شرعاً یہ کہاں تک درست ہے؟ ۴- پھر ایک بات اور یہ کہ اگر نانی اپنے گھر کی اکیلی خاتون ہوں ، لڑکیوں کی شادی ہوچکی ہو، بڑے لڑکے شادیوں کے بعد ماں باپ سے علیٰحدہ رہتے ہوں ، ایسی صورت میں نانی پر بچے کی پرورش کی ذمہ داری ڈالنا کہاں تک صحیح اور درست ہوگا، جب کہ بچے کا باپ اس کے لیے بالکل تیار نہ ہو اور اس کو وہ اپنی اور اپنے بچے کی بہت بڑی حق تلفی قرار دیتا ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا شریعت اس طرح کے جبر کی اجازت دے گی؟ ۵- دوسری طرف بچے کے باپ کے گھر والے مثلاً بچہ کی دادی، دادا، پھوپھی، چچا وغیرہ بچے کو اپنانے اور دل و جان سے اس کی پرورش اور نگہداشت کرنے کے لیے تیار ہوں تو شرعاً ترجیح کس کو دی جائے گی؟ جب کہ بچے کا باپ بھی اپنے والدین ہی کے ساتھ رہتا ہو اور کاروبار بھی مشترک ہو اور بچے کا باپ بھی دل و جان سے یہی چاہتا ہو کہ اس کا لخت جگر ہر قسم کے ضرر سے محفوظ رہے اور پیار و محبت کے ماحول میں اس کی راست نگرانی میں بچے کی پرورش، تعلیم و تربیت اور تعمیر اخلاق کا نظم ہو اور عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ سہولتیں اور آسائشیں بھی بچے کو ملیں ۔ بہ راہ کرم حدیث بالا کے ضمن میں ابھرنے والے سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں ۔
جواب
اسلام نے بنیادی انسانی حقوق کی پاس داری کی ہے۔ اس نے بچے کا یہ حق بتایا ہے کہ پیدایش کے بعد اس کی پرورش و پرداخت کی جائے، اس کی صحت کا خیال رکھا جائے، اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے، اس کی دینی و اخلاقی تربیت پر بھر پور توجہ دی جائے اور اسے پال پوس کر اس طرح بڑا کیا جائے کہ کاروبار ِ زندگی میں وہ اپنا مطلوبہ کردار سر انجام دے سکے۔ اصطلاحِ شریعت میں اس حق کو حضانت کہا جاتا ہے۔ اس حق کی ادائی جس پر واجب ہے اگر وہ کوئی ایک فرد ہو، جیسے صرف ماں ہو، یا دیگر افراد بھی ہوں مگر بچہ ماں کے علاوہ کسی دوسرے کو نہ قبول کرتا ہو تو یہ وجوب عین ہے اور دیگر افراد ہوں اور بچہ ان کے پاس رہ سکتا ہو تو یہ وجوب ِ کفایہ ہے، کوئی فرد اس ذمہ داری کو قبول کرلے تو دوسروں سے وجوب ساقط ہوجائے گا۔ جن لوگوں پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے اگر وہ اس کی ادائی میں کوتاہی کریں گے تو ان سے باز پرس ہوگی۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔(بخاری: ۷۱۳۸ مسلم: ۱۸۲۹) ’’تم میں سے ہر شخص راعی یعنی نگراں ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘ بچے کی پرورش کی بہترین صورت تو یہ ہے کہ وہ اپنے ماں باپ دونوں کے زیر سایۂ عاطفت پروان چڑھے، دونوں مل کر اس کی جسمانی و عقلی نشو و نما اور تعلیم و تربیت پر توجہ دیں اور اس کی بنیادی ضروریات پوری کریں ۔ لیکن بسا اوقات دونوں میں علیٰحدگی ہوجاتی ہے۔ اس صورت حال میں شریعت میں بچے، اس کی ماں اور اس کے باپ تینوں کے حقوق کی رعایت کی گئی ہے، تاکہ ایک طرف بچے کی صحیح ڈھنگ سے پرورش و پرداخت ہوسکے، دوسری طرف ہر حق دار کو اس کا جائز حق ملے اور تیسری طرف کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ چناں چہ کسی کی بے جا طرف داری کی گئی ہے نہ کسی کے حق کو پامال کیا گیا ہے۔ ذیل میں مسئلہ حضانت کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی جا رہی ہے: (۱) نو مولود اور چھوٹے بچے کی پرورش کا پہلا حق اس کی ماں کا ہے۔ وہی اس کو دودھ پلاتی ہے، وہی اس کی اچھی طرح پرورش کرسکتی ہے۔ چھوٹے بچے کی جتنی اچھی طرح دیکھ بھال ماں کرسکتی ہے، باپ نہیں کرسکتا۔ نہلانا، دھلانا، تیل کی مالش کرنا، پیشاب پاخانہ کردینے کی صورت میں صفائی کرنا، گندے کپڑے بدلنا اور صاف ستھرے کپڑے پہنانا، کھلانا، پلانا اور دیگر ڈھیر سے کام جتنی تن دہی سے ماں انجام دے سکتی ہے، باپ نہیں انجام دے سکتا۔ وہ اس کے لیے اپنا جتنا وقت فارغ کرسکتی ہے، باپ نہیں کرسکتا۔ اسی لیے بچے کے مفاد میں ماں کا حق مقدم رکھا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ’’یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کی جائے قرار تھی، میری آغوش نے اسے پالا ہے، میرے سینے سے اس نے دودھ پیا ہے، اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور چاہتا ہے کہ اسے مجھ سے چھین لے۔ آپؐ نے فرمایا: اَنْتَ اَحَقُّ بِہٖ مَالَمْ تَنْکِحِیْ ’’تم اس کی زیادہ حق دار ہو جب تک تمھارا نکاح کہیں اور نہ ہوجائے (سنن ابی داؤد: ۲۲۷۶، اسے احمد، بیہقی اور حاکم نے بھی روایت کیا ہے) بعض روایات میں ہے کہ اسی طرح کے ایک تنازعہ میں حضرت ابوبکرؓ نے ماں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: ’’بچے سے پیار، محبت و رافت، لطف و کرم، رحم دلی و ہم دردی اور بھلائی ماں کو زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اس کی زیادہ حق دار ہے، جب تک اس کا کہیں اور نکاح نہ ہوجائے۔ (فقہ السنہ، السید سابق، دار الکتاب العربی، بیروت، ۱۹۸۳ء ، ۲؍۳۴۰) ’کہیں اور نکاح ہوجانے‘ کی قید بہت حکمت پر مبنی ہے۔ ممکن ہے کہ ماں نے جس شخص سے نکاح کیا ہے وہ بچے کے لیے اجنبی ہو، اسے اس بچے سے ویسی محبت نہیں ہوسکتی جیسی اپنے بچے سے ہوتی ہے۔ اس لیے اندیشہ ہے کہ اگر بچہ اپنی ماں کے ساتھ رہے گا تو صحیح طریقے سے اس کی دیکھ بھال نہ ہوسکے گی۔ لیکن ایسا ہر حال میں ضروری نہیں ہے۔ اس بچے کی خبر گیری کرنے والا ماں کے علاوہ کوئی نہ ہو، یا ہو مگر کسی وجہ سے اس کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہو، یا ماں کے بعد جس شخص کو حق حاصل ہو وہ خاموش رہے، اسے ماں کے ساتھ بچے کے رہنے پر کوئی اعتراض نہ ہو، بچے کی ماں نے جس شخص سے نکاح کیا ہے وہ بچے کا رشتہ دار ہو، یا رشتہ دار نہ ہو مگر بچہ کو بہ خوشی اپنے ساتھ رکھنے پر تیار ہو تو ان صورتوں میں ماں کا حق حضانت ساقط نہیں ہوتا۔ حضرت ام سلمہؓ کا نکاح جب رسول اللہ ﷺ سے ہوا اس وقت ان کے سابق شوہر حضرت ابوسلمہؓ سے ان کی بچی زینب بہت چھوٹی تھی، ابھی دودھ پیتی تھی، وہ برابر ان کے ساتھ رہی اور رسول اللہ ﷺ کے گھر میں اس کی پرورش ہوئی۔ (۲) عام حالات میں بچے کو وہیں رکھنا ضروری ہے جہاں اس کے باپ کا قیام ہو۔ اس لیے کہ شریعت نے باپ کو بچے کی تعلیم و تربیت اور مجموعی خبر گیری کا ذمہ دار بنایا ہے اور اسے بچے کو دیکھنے کا بھی حق حاصل ہے۔ اس لیے ماں باپ میں سے کوئی بھی اگر دوسری جگہ منتقل ہورہا ہو تو ماں کا حق حضانت ساقط ہوجائے گا۔ یہ مالکیہ، شوافع اور حنابلہ کا مسلک ہے۔ احناف کے نزدیک ماں بچے کے ساتھ کسی دوسرے قریبی شہر میں رہ سکتی ہے، جہاں باپ کی بہ آسانی آمد و رفت ہوسکتی ہو۔ اسی طرح وہ اسے کسی دور دراز شہر میں بھی لے جاسکتی ہے اگر وہ شہر اس کا وطن ہو۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ، کویت، ۱۷؍۳-۳۱۱) اس سلسلے میں شیخ سید سابق کی درج ذیل بات صحیح معلوم ہوتی ہے: ’’بچے کے ماں باپ میں سے کوئی ایک دوسری جگہ منتقل ہو رہا ہو تو بچہ کس کے پاس رہے؟ اس سلسلے میں یہ دیکھا جائے گا کہ بچہ کا کس کے پاس رہنا زیادہ بہتر اور مفید ہے اور کس کے پاس وہ زیادہ محفوظ رہے گا۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس کی دوسرے شہر منتقلی کہیں دوسرے فریق کو پریشان کرنے اور اس کو بچے سے محروم کرنے کے مقصد سے تو نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو بچے کو اس کے ساتھ نہیں بھیجا جائے گا۔‘‘ (فقہ السنۃ، ۲؍۳۵۲) (۳) اگر بچہ اپنی ماں ، نانی یا کسی اور مستحق ِ حضانت کے پاس ہو تو باپ کو بچے سے ملاقات کرنے، اسے دیکھنے اور اس کی خبر گیری کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ صحیح ہے کہ طلاق کے بعد باپ کے تعلقات اس کی سسرال والوں سے کشیدہ ہوجاتے ہیں ، لیکن دین داری کا تقاضا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے حقوق پہچانیں اور ان کی پاس داری کریں ۔ کشیدگی کی بنا پر ماں یا نانی کو ان کے حق ِ حضانت سے محروم کیا جاسکتا ہے نہ باپ کو اپنے بچے سے تعلق رکھنے سے روکا جاسکتا ہے۔ (۴) کوئی مستحق حضانت اپنے حق سے دست بردار ہونا چاہے تو اس کی گنجائش ہے۔ لیکن اگر وہ اپنا حق استعمال کرنا چاہے تو اسے اس سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ نانی تنہا رہتی ہو، اسے بچے کی پرورش کی ذمہ داری اٹھانے میں دشواری ہو تو وہ اس سے معذرت کرسکتی ہے۔ اس صورت میں بچہ کو اس شخص کی پرورش میں دیا جائے گا جو اس کے بعد مستحق ِ حضانت ہو۔ استحقاق ِ حضانت کی بنیاد شریعت میں اس بات پر نہیں رکھی گئی ہے کہ باپ اس کے لیے تیار ہے یا نہیں اور بچے کے کسی دوسرے کے پاس رہنے کو وہ اپنی حق تلفی سمجھتا ہے یا نہیں ۔ البتہ فقہاء نے استحقاق حضانت کے لیے بعض شرائط بیان کی ہیں ، مثلاً یہ کہ مستحق ِ حضانت مسلمان ہو، بالغ و عاقل ہو، دین دار ہو اور اس کا فسق و فجور عام نہ ہو، وہ بچے کی پرورش کرنے پر قادر ہو، بڑھاپے، مرض یا کسی مصروفیت کی بنا پر اس سے معذور نہ ہو، اسے کوئی متعدی مرض نہ ہو، جہاں اس کا قیام ہو وہ جگہ محفوظ و مامون ہو، وغیرہ۔ ان میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو اس کا حق حضانت ساقط ہوجائے گا۔ (۵) فقہاء نے روحِ شریعت کو پیش نظر رکھ کر مستحقین ِ حضانت کی ایک ترتیب قائم کی ہے، جو درج ذیل ہے: ماں ۔ نانی۔ دادی۔ بہن۔بھانجی۔ خالہ۔ بھتیجی۔ پھوپھی۔ ماں کی خالہ۔ باپ کی خالہ۔ ماں باپ کی پھوپھی۔ باپ۔ دادا۔ بھائی۔ بھتیجا۔ چچا۔ چچازاد بھائی وغیرہ۔ اس ترتیب میں یہ بات ملحوظ رکھی گئی ہے کہ بچے کی اچھی طرح پرورش و پرداخت کس کے پاس رہ کر ہوسکتی ہے۔ کسی غیر مستحق ِ حضانت کے لیے روا نہیں کہ محض اپنی خواہش کی بنا پر حق ِ حضانت کا دعویٰ اور اسے حاصل کرنے پر اصرار کرے۔ اس لیے یہ کہنے کے کوئی معنی نہیں ہیں کہ بچے کے باپ کے گھر والے بچے کو اپنانے کے لیے پوری طرح تیار ہوں اور باپ بھی یہی چاہتا ہو تو بچے کو ان کے حوالے کردینا چاہیے۔ (۶) اس سلسلے میں مدت ِ حضانت کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ حضانت کا آغاز بچے کی پیدائش سے ہوجاتا ہے اور اس کی آخری مدت یہ ہے کہ وہ سن ِ شعور کو پہنچ جائے اور اپنے بنیادی ضروری کام خود سے انجام دینے لگے۔ احناف نے لڑکے کے لیے اس کی مدت سات سال اور لڑکی کے لیے نو سال متعین کی ہے۔ لڑکی کی مدت ِ حضانت زیادہ رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ اس کی اچھی طرح نسوانی تربیت ہوجائے۔ مدت ِ حضانت پوری ہونے کے بعد بچہ کس کے پاس رہے گا؟ اس سلسلے میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں ۔ عہد نبوی کے بعض واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بچے کو اختیار دیا تھا کہ وہ ماں باپ، جس کے ساتھ چاہے، رہے۔ حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ اور قاضی شریحؒ نے بھی بعض مقدمات میں یہی فیصلہ کیا تھا۔ اس بنا پر شوافع اور حنابلہ کا یہی مسلک ہے۔ امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ مدت ِ حضانت ختم ہونے کے بعد باپ بچے کو اپنے پاس رکھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اسی کو اس کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ باپ کی یہ ولایت بچے کے بالغ ہونے تک ہے۔ اس کے بعد اسے اختیار ہوگا کہ وہ جس کے ساتھ رہناچاہے رہے۔ ملحوظ رہے کہ اس رائے کی بنیاد اس چیز پر ہے کہ بچے کی صحیح ڈھنگ سے تعلیم اور دینی و اخلاقی تربیت کس کے پاس ہوسکتی ہے۔ اگر باپ لا ابالی ہو، یا کسی بنا پر بچے کی تعلیم و تربیت سے قاصر ہو اور ماں اس کام کو بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہو تو بچے کو اسی کے پاس رہنے دیا جائے گا۔ حق ِ حضانت کے مسئلے پر فریقین یعنی بچے کے ماں باپ کو جذبات سے بالا تر ہوکر غور کرنا چاہیے، اور کسی ایسے فیصلے پر باہم رضا مند ہوجانا چاہیے جس میں بچے کا زیادہ فائدہ ہو، خواہ اس کے لیے انھیں اپنی خواہشات کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ (۲) سوال: آپ نے عورت کے حق حضانت کے سلسلے میں حضرت عبد اللہ بن عمروؓ سے مروی حدیث اور حضرت ابوبکرؓ کا فیصلہ نقل فرمایا ہے، اس سے چند سوالات ابھرتے ہیں جو درج ذیل ہیں : ایک خاتون اپنا مقدمہ آں حضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کرتی ہے، اس پر آپؐ کا یہ فرمانا کہ تم ہی اس کی زیادہ حق دار ہو جب تک تمھارا نکاح کہیں اور نہ ہوجائے۔ اس جواب سے جو مفہوم نکلتا ہے اور اخذ کیا جاسکتا ہے وہ یہی ہے کہ کن حالات میں کس کا حق مقدم ہے۔ یقینا جب تک ماں نکاح نہ کرے، اس کا حق مقدم اور جب نکاح کرلے تو باپ کا حق مقدم۔ اگر باپ کے علاوہ کسی اور کو حق حضانت ہونے کی بات ہوتی تو حضوؐر اس کا بھی ذکر یقینا فرماتے۔ مگر آپؐ کا یہ اصولی جواب کافی غور طلب ہے۔ مقدمہ میں عورت یہ کہتی ہے کہ بچے کا باپ طلاق دے دینے کے بعد بچے کو مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے اور حضور فرماتے ہیں کہ جب تک تو نکاح نہ کرے تو اس کی زیادہ حق دار ہے۔ گویا نکاح ہوجانے کے بعد، پہلے تجھے جو حق حاصل تھا، وہ باقی نہیں رہ سکتا۔ اب باپ کا حق، جو پہلے مؤخر تھا، مقدم بن چکا ہے۔ یہی مفہوم اس حدیث رسول کا نکلتا ہے۔ اب اس سیدھے سادے جواب کی موجودگی میں یہ کہنا کہ نانی کو یا فلاں اور فلاں کو اس کا حق ملتا ہے یا ملنا چاہیے، حضوؐر کے جواب پر ایک اضافہ ہے۔ باپ اگر بچے کی پرورش کا پوری طرح اہل ہو اور اس کے اہل خاندان مثلاً اس کی ماں (جس کا حق ِ حضانت آپ کی بیان کردہ فہرست کے مطابق نانی کے بعد آتا ہے) وغیرہ بھی سلامت ہوں اور وہ حضانت کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار بھی ہوں تو کسی اور طرف دیکھنا کیوں کر درست ہوسکتا ہے؟ آپ نے اس سلسلے میں حضرت ام سلمہؓ اور حضوؐر کی مثال پیش فرمائی ہے اور اس سے جو استدلال فرمایا ہے اس سے اتفاق نہایت مشکل ہے۔ حضوؐر کا مثالی اخلاق اور آج کل امت مسلمہ کی جیسی کچھ اخلاقی صورت حال ہے دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ لہٰذا ایسی بلند و بالا اور منفرد مثالوں سے استدلال عملی طور پر صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ لہٰذا ادباً گزارش ہے کہ ایسی اونچی مثالوں سے استدلال نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ماں کے بعد باپ ہی اپنے بچے کا زیادہ خیرخواہ ہوتا ہے۔ اگر وہ بچے کو اپنی نگہ داشت میں رکھ سکتا ہو تو اسی کو اوّلیت دینی چاہیے۔ میرے خیال میں روحِ شریعت سے یہی بات زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ واقعی اگر باپ کسی وجہ سے اس کا اہل نہ ہو، یا اہل تو ہو مگر اس کے حالات اس کے متحمل نہ ہوں یا اس کی ماں یعنی بچے کی دادی صحت مند نہ ہو (یا حیات نہ ہو) اور بار حضانت اٹھانے کی متحمل نہ ہو، اس صورت میں دوسرے مستحقین ِ حضانت کے تعلق سے سوچنا چاہیے۔ لیکن اگر باپ کو ایسی کوئی مجبوری یا معذوری لاحق نہ ہو تو ماں کے بعد اسی کو حق ِ حضانت دینا چاہیے، تاکہ وہ بچے کو اپنے سے قریب اور اپنی نگرانی میں رکھے اور اگر ضرورت متقاضی ہو تو ملازمین کی خدمات بھی اپنی ماں کی سرپرستی میں فراہم کرے، تاکہ بچے کی بہتر سے بہتر انداز میں پرورش و نگہ داشت ہوسکے۔ فقہاء نے حضانت کے سلسلے میں جو ترتیب بیان فرمائی ہے وہ کوئی ایسی نص نہیں ہے کہ اس ترتیب میں حالات اور مصالح اگر متقاضی ہوں تب بھی کوئی تقدیم و تاخیر روا نہ رکھی جائے۔ فقہاء نے ایک مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو یقینا بیان فرمایا ہے، لیکن مصالح اور حالات جس بات کے متقاضی ہوں ان کو ترجیح دینا حکمت ِ شریعت اور عقل عام کا عین منشا اور تقاضا معلوم ہوتا ہے۔ جواب: حدیث ’’اَنْتَ اَحَقُّ بِہٖ مَالَمْ تَنْکِحِیْ‘‘ سے آپ نے جو استنباطات کیے ہیں ان کے بارے میں بنیادی بات یہ عرض کردینی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ کسی مسئلہ کی کوئی قانونی شق مستنبط کرتے وقت صرف ایک ہی حدیث کو پیش ِ نگاہ رکھنا کافی نہیں ہے، بل کہ اللہ کے رسول ﷺ کے دیگر اقوال، افعال اور عمل ِ صحابہ کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا، تبھی مسئلہ کی صحیح نوعیت واضح ہوگی، ورنہ غلطی میں پڑنے کا امکان ہے۔ اس حدیث سے آپ کا پہلا استنباط کہ ماں کے نکاح کرتے ہی اس کا حق ِ حضانت ختم ہوجانا چاہیے، پورے طور پر درست نہیں ہے۔ حضرت ام سلمہؓ کا دوبارہ نکاح ہوجانے کے باوجود ان کی بیٹی زینب ان کے ساتھ رہی۔ معلوم نہیں کیوں آپ اس واقعہ سے استدلال درست نہیں سمجھتے۔ یہاں زیر بحث افراد نہیں ، بل کہ صورت ِ واقعہ ہے۔ اس کا ثبوت خود قرآن سے بھی ملتا ہے۔ سورۂ نساء میں محرمات (جن عورتوں سے نکاح حرام ہے) کی جو فہرست پیش کی گئی ہے اس میں ایک قسم یہ بھی ہے: وَ رَبَـآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّز (النساء: ۲۳) ’’اور تمھاری بیویوں کی لڑکیاں جنھوں نے تمھاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔‘‘ اگر ماں کے دوبارہ نکاح کرلینے کے بعد، اس کا اپنی بچی کو اپنے ساتھ رکھنا جائز ہی نہ ہوتا تو قرآن عورتوں کی اس قسم کا تذکرہ ہی نہ کرتا۔ آپ کا دوسرا استنباط کہ ماں کا حق حضانت ختم ہوجائے تو باپ کو اس کا حق دے دینا چاہیے، نانی یا کسی اور کو یہ حق دینا درست نہیں ، یہ استنباط بھی صحیح نہیں ہے۔ کتب حدیث میں عہد ِ صحابہ کے بعض نظائر موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حق ماں کے بعد نانی کو دیا گیا۔ خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرؓ کے عہد کا واقعہ ہے۔ حضرت عمر بن الخطابؓ نے ایک انصاری عورت سے نکاح کیا، پھر کچھ عرصہ کے بعد اسے طلاق دے دی۔ اس سے ایک بچہ ہوا جس کا نام عاصم تھا۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے بچے کو لینا چاہا تو اس کی نانی نے، جس کی پرورش میں وہ بچہ تھا، کیوں کہ اس کی ماں کا نکاح دوسرے شخص سے ہوگیا تھا ( و أم عاصم یومئذ حیۃ متزوجۃ) حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں مرافعہ کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے نانی کے حق میں فیصلہ کردیا اور حضرت عمرؓ پر نفقہ لازم کیا۔ (اِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ طَلَّقَ اُمَّ عَاصِمٍ فَکَانَ فِیْ حِجْرِ جَدَّتِہٖ فَخَاصَمَتْہُ اِلٰی أبِی بَکْرٍ فَقَضٰی اَنْ یَّکُوْنَ الْوَلَدُ مَعَ جَدَّتِہٖ وَالنَّفْقَۃُ عَلٰی عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَ قَالَ ھِیَ أَحَقُّ بِہٖ) السنن الکبریٰ البیہقی، دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن، ۸؍۴-۵، امام بیہقیؒ نے اس مضمون کی متعدد روایتیں جمع کردی ہیں اور ان سے استنباط کرتے ہوئے یہ عنوان قائم کیا ہے: باب الام تتزوج فیسقط حقّھا من حضانۃ الولد و ینتقل الی جدّتہ (اس چیز کا بیان کہ ماں نکاح کرلے تو اس کا حق ِ حضانت ساقط ہوجائے گا اور وہ بچے کی نانی کی طرف منتقل ہوجائے گا) فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر بچے کی ماں موجود نہ ہو یا اس کا حق ِ حضانت کسی وجہ سے ساقط ہوگیا ہو تو استحقاق حضانت میں ماں کے سلسلے کی عورتیں باپ کے سلسلے کی عورتوں سے مقدم ہوں گی۔ اگر مستحق حضانت کوئی عورت نہ ہو، یا اس کے لیے آمادہ نہ ہو یا کسی شرعی سبب سے اس کا حق ساقط ہوگیا ہو تو ایسی صورت میں جو عصباتی رشتہ دار وراثت میں مقدم ہیں وہ حضانت میں بھی مقدم ہوں گے۔ جیسے باپ، پھر دادا، پھر بھائی وغیرہ۔ لیکن اس کے ساتھ اس بات کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ بچے کا حقیقی ولی باپ ہے، اگرچہ ماں یا اس کے سلسلے کی کوئی دوسری عورت بچے کا حق ِ حضانت رکھتی ہو، لیکن بچے کی نگرانی، نگہ داشت اور تعلیم و تربیت کا حق باپ کا ہے۔ اگر وہ بچے کو کسی ایسی جگہ لے جانا چاہے جہاں باپ اس کی نگرانی اور نگہ داشت نہیں کرسکتا تو وہ حق ِ حضانت کھو دیتی ہے۔ اسی وجہ سے فقہاء نے صراحت کی ہے کہ بچے کو اسی شہر میں رکھنا ضروری ہے جہاں باپ رہتا ہو۔ کوئی مجبوری ہو تو زیادہ سے زیادہ بچے کو اتنے فاصلے پر رکھا جاسکتا ہے کہ باپ آسانی سے اس تک پہنچ سکے اور بہ سہولت اس کی نگرانی و خبر گیری کرسکے۔ آپ کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ فقہاء نے حضانت کے سلسلے میں جو ترتیب بیان کی ہے وہ کوئی ایسی نص نہیں ہے کہ اس میں حالات اور مصالح کے متقاضی ہونے کے باوجود کوئی تقدیم و تاخیر جائز نہ ہو۔ فقہاء نے عام حالات میں مستحقین ِ حضانت کی ایک فہرست مرتب کردی ہے۔ اس ترتیب میں انھوں نے اس بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ کس کے پاس بچے کی پرورش اچھی طرح ہوسکتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ بچے کا مفاد مقدم رکھا جائے گا اور حالات کے تقاضے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ چناں چہ کبھی بچے کا اپنی ماں کے پاس رہنا اس کے حق میں زیادہ مفید ہوگا، کبھی ماں کی ماں (نانی) یا دوسرے رشتہ دار کے پاس اس کا رہنا زیادہ فائدہ مند ہوگا، کبھی خود بچے کو یہ اختیار دینا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتا ہے۔ عہد ِ نبوی اور عہد ِ صحابہ میں مذکورہ صورتوں میں سے ہر ایک کی نظیریں موجود ہیں ۔ اور اگر حالات مظہر ہوں کہ ماں کے زیر پرورش دینے سے بچے کو دینی یا دنیوی اعتبار سے کوئی نقصان پہنچنے کا امکان ہے تو ماں کے موجود اور غیر شادی شدہ ہونے کے باوجود اس کے حوالے نہ کرنا زیادہ قرین ِ صواب ہوگا، لیکن یہ فیصلہ کرنے کا اختیار مسلم ممالک میں عدالتوں ، یا دار القضاء کے قاضی کو ہوگا کہ وہ فریقین کی باتوں اور ان کے دلائل سن کر اور حالات کا باریکی سے جائزہ لے کر کوئی ایسا فیصلہ کرے جو بچے کے حق میں بہتر ہو۔ چناں چہ پڑوسی ملک پاکستان کی عدالتوں میں ایسے متعدد فیصلے ہوئے ہیں جن میں حالات کو پیش نظر رکھ کر فقہاء کی مبینہ فہرستِ مستحقین حضانت کے برخلاف فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر پاکستانی دانش ور جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمن نے اپنی کتاب ’مجموعہ قوانین اسلام‘ (ناشر: ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد، پاکستان، جلد سوم، ص ۸۷۷-۹۰۹) میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ انھوں نے مسلم ممالک: تیونس، شام، عراق، مصر، اردن میں حضانت کے موضوع پر رائج الوقت قوانین کی دفعات نقل کی ہیں اور پاکستانی عدالتوں کے فیصلے بھی تحریر کیے ہیں ۔ اس کتاب کا مطالعہ مفید ہوگا۔

Leave a Comment