جہری نماز تنہا پڑھنے کی صورت میں بہ آواز بلند قرأت

کوئی شخص کسی جگہ اکیلا ہے، جماعت سے نماز پڑھنے کے لیے کوئی دوسرا شخص وہاں نہیں ہے تو کیا اس صورت میں وہ شخص فجر، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں اونچی تیز آواز سے قرأت کرسکتا ہے؟
جواب

منفرد جہری نمازوں میں آواز سے قرأت کرسکتا ہے۔ اس جیسے ایک سوال کا جواب مولانا عزیز الرحمن عثمانیؒ سابق مفتی اول دار العلوم دیوبند نے یہ دیا ہے ’’جہری نمازوں میں (تنہا شخص کے لیے) قراۃ بالجہر پڑھنا اچھا ہے اور جہر باالتکبیربھی درست ہے۔ مگر زیادہ جہر نہ کرے۔ کسی قدر جہر میں کچھ حرج نہیں ہے۔‘‘ (فتاویٰ دار العلوم دیوبند، ۲/۲۴۸)