حج پر قادرشخص کا دوسرے کوحج کرانا

زید ہرلحاظ سے صاحبِ استطاعت ہے ۔ اس پر حج فرض ہے اوروہ سفرِ حج پر قادر بھی ہے، لیکن وہ اپنے عوض اپنی بیوی کو، جس پر حج فرض نہیں ہے ،اپنے پیسے سے محرم کے ذریعے حج کروانا چاہتا ہے ۔ کیا یہ درست ہے ؟
جواب
ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے جوچیزیں فرض کی گئی ہیں ان میں سے ایک حج ہے ۔ حج ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض ہے ۔ صاحبِ استطاعت کا مطلب یہ ہے کہ وہ مصارفِ سفر برداشت کرسکے اوراتنا مال چھوڑ کر جائے جواس کی واپسی تک اس کے زیر کفالتِ افراد کی ضرور یا ت کے لیے کافی ہو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا۝۰ۭ (آل عمران۹۷:) ’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جواس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے ۔‘‘ اگر کسی شخص نے حج پر قدرت کے باوجود حج نہیں کیا ، یہاں تک کہ وہ سفر سے معذور ہوگیا ، یا اس کا انتقال ہوگیا توحج بدل کے طور پر دوسرا شخص اس کی طرف سے حج کرسکتا ہے ۔ ایک عورت خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئی اوراس نے سوال کیا : میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی ، لیکن وہ حج نہ کرسکی ،یہاں تک کہ اس کا انتقال ہوگیا ، کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ آپؐ نے فرمایا :ہاں اس کی طرف سے حج کرلو۔ ( بخاری: ۱۸۵۲، مسلم۱۱۴۹:) لیکن اگر کسی شخص پر حج فرض ہو اوروہ اس کی ادائیگی پر قادر بھی ہو ، اس کے باوجود وہ خود حج نہ کرے ، بلکہ اپنی جگہ کسی اور کوبھیج دے تواس صاحبِ استطاعت شخص کا حج ادا نہ ہوگا اوروہ گنہ گار ہوگا۔

Leave a Comment