حق ِ وراثت حاصل کرنے کے لیے لڑائی جھگڑا کرنا

میرے والد کا عرصہ قبل انتقال ہوگیا ہے۔ بڑے بھائیوں نے صریح ناانصافی کرتے ہوئے تجارت میں سے دوسرے بھائیوں اور بہنوں کو محروم کردیا ہے۔ وہ موروثہ جائیداد کو تقسیم کرنا نہیں چاہتے۔ کسی کی ثالثی بھی انھیں منظور نہیں ۔ عدالتوں میں کارروائی کرنا آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے خاصے مصارف کی ضرورت ہوتی ہے اور دیگر مسائل بھی ہوتے ہیں ۔ پھر عدالت ہر بات کا ثبوت چاہتی ہے۔ یہ سوچ کر ہم نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کردیا تھا اور علیٰحدہ زندگی گزارنی شروع کردی تھی۔ مگر حال میں ایک صاحب نے کہا کہ اپنا حق لڑ کر لینے کا حکم ہے، ورنہ آپ گنہ گار ہوں گے۔ ہمیں یقین ہے اور ہوا بھی یہی ہے کہ جب جب ہم نے حق مانگا ہے، بات لڑائی جھگڑے اور خون خرابے تک پہنچ گئی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیا جائے۔ برائے مہربانی شرعی طریقہ بتائیں ۔ کیا خون خرابہ کرکے حق حاصل کرنا صحیح ہوگا؟
جواب
اسلامی شریعت کے امتیازات میں سے یہ ہے کہ اس نے ہر انسان کے مرنے کے بعد اس کے متروکہ مال و جائیداد کو اس کے پس ماندگان میں تقسیم کیے جانے کا قانون وضع کیا ہے۔ اسے قانون ِ میراث کہتے ہیں ۔ اس معاملے میں اس نے مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی اور مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی اس کا مستحق قرار دیا۔ قرآن میں ہے: لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَص وَ لِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَط نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاo (النساء: ۷) ’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت۔ اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔‘‘ اس آیت سے چند باتیں بہت واضح طور پر معلوم ہوتی ہیں : (۱) میراث کے مستحق مرد اور عورت دونوں ہیں ۔ قرآن نے جن لوگوں کا حصہ متعین کیا ہے ان میں سے کسی کو محروم کرنا جائز نہیں ۔ (۲) میت نے جو کچھ چھوڑا ہے سب قابل ِ تقسیم ہے، خواہ وہ منقولہ جائیداد ہو یا غیر منقولہ، مکان ہو یا دوکان، زمین ہو یا مال ِ تجارت۔ (۳) مال ِ میراث کو ہر حال میں تقسیم کیا جائے، خواہ اس کی مقدار کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔ (۴) مستحقین ِ میراث کے حصے بیان کردیے گئے ہیں ۔ ہر وارث کو لازماً اس کا حصہ ملنا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرض ہے۔ جس طرح دیگر فرائض کی عدم ادائی موجب ِ گناہ ہے اسی طرح مال ِ میراث کو تقسیم نہ کرنا یا کسی مستحق کو اس سے محروم کرنا بھی گنا ہ ہے۔ افسوس کہ مسلم معاشرہ اس معاملے میں مجرمانہ غفلت کا شکار ہے۔ زیادہ سے زیادہ میت کی نرینہ اولاد میں میراث تقسیم ہوجاتی ہے اور عورتوں کو کچھ بھی حصہ نہیں ملتا۔ جو لوگ اس حق تلفی کے ذمہ دار ہیں انھیں خبردار ہوجانا چاہیے کہ بارگاہِ الٰہی میں ان سے اس معاملے کی جواب دہی ہوگی اور انھوں نے اہل ِ حق کا جو حق مارا ہوگا اس کی سزا سے وہ بچ نہ سکیں گے۔ حضرت سعید بن زیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ اَخَذَ شِبْرًا مِّنَ الْاَرْضِ ظُلْمًا فَاِنَّہٗ یُطَوَّقُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ سَبْعِ اَرْضِیْنَ۔ (بخاری: ۳۱۹۸ مسلم: ۴۱۳۵) ’’جس شخص نے ایک بالشت بھر زمین بھی ناحق لے لی، قیامت کے دن اس کی گردن میں ویسی سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔‘‘ اگر کسی شخص کو میراث میں اس کے حق سے محروم کردیا جائے تو وہ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کرسکتا ہے۔ قریبی رشتہ داروں کو معاملے کے حل کے لیے واسطہ بنا سکتا ہے۔ قانونی چارہ جوئی کرسکتا ہے۔ دیگر ذرائع اپنا سکتا ہے۔ یہ اس کا حق ہے۔ جو شخص ایسا کرے وہ کسی بھی طور پر قابل ِ ملامت نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کو اندیشہ ہو کہ اپنا حق مانگنے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش میں بات لڑائی جھگڑے بل کہ اس سے آگے بڑھ کر خون خرابے تک پہنچ جائے گی اور وہ اس سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کرلے اور اس معاملے کو اللہ کے حوالے کردے تو اس کا یہ رویہ پسندیدہ ہے۔ بارگاہِ الٰہی میں ضرور وہ اس پر اجر کا مستحق ہوگا۔ سورۂ الشوریٰ میں اہل ِ ایمان کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں ان میں یہ اوصاف بھی ہیں : وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَo وَ جَزٰؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَاج فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِط اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَo وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیْھِمْ مِنْ سَبِیْلٍoط اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّط اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌo وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِo (الشوری: ۳۹- ۴۳) ’’اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے،پھر جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی۔ ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کاموں میں سے ہے۔‘‘ ان آیات میں دونوں پہلوؤں کا واضح بیان ہے۔ زیادتی کا مقابلہ کرنے اور ظلم کا بدلہ لینے کا انسان کو حق حاصل ہے۔ لیکن اگر وہ صبر اور عفو و درگزر سے کام لے کر اپنے حق سے دست بردار ہوجائے تو بارگاہِ الٰہی میں اس کا بھرپور اجر پائے گا۔ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ کے الفاظ قابل ِ غور ہیں ۔ یعنی اس کے معاف کرنے کا مقصد انتشار و فساد، لڑائی جھگڑا اور خون خرابے سے بچنا ہو۔ یہ حکم انفرادی معاملات سے متعلق ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے آیت ِ مذکور کی تفسیر میں لکھا ہے: ’’اس سے معلوم ہوا کہ عام انفرادی واقعات میں زیادہ پسند اللہ تعالیٰ کو اصلاح ہی کا طریقہ ہے۔ خواہ دونوں فریق خود باہم دگر اصلاح و تلافی کی کوشش کریں ، یا دوسروں کو اس کا ذریعہ بنائیں ، یا دوسرے از خود بیچ میں پڑ کر مصالحت کرادیں ۔‘‘ (تدبر قرآن، فاران فاؤنڈیشن لاہور،۶/ ۱۸۱- ۱۸۲)

Leave a Comment