دوبیویوں میں تقسیم وراثت

ایک شخص کی دوبیویاں ہیں ۔ ایک بیوی سے ایک لڑکا اور دولڑکیاں ہیں ، دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں ۔ اس شخص کا انتقال ہوتو اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ قرآن مجید میں کہاگیا ہے کہ اولاد ہونے کی صورت میں بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھا حصہ۔ پھر کیا دونوں بیویوں کا حصہ الگ الگ ہوگا؟ اولاد والی بیوی کو آٹھواں اور بے اولاد والی بیوی کو چوتھا حصہ دیا جائے گا؟براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں ۔
جواب
وراثت کا تعلق اس شخص سے ہوتا ہے جس کا انتقال ہواہو۔ قرآن مجید میں ہے کہ اگر وفات پانے والے کی اولاد ہو تو اس کی بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا‘‘۔(النساء۱۲) اگر کسی شخص کی ایک سے زائد بیویاں  ہوں تو کل مال ِ وراثت کا آٹھواں حصہ دونوں کے درمیان تقسیم کیاجائے گا۔ باقی کے چار حصے کیے جائیں  گے۔ دوحصہ لڑکے کا اور ایک ایک حصہ دونوں  لڑکیوں کا ہوگا۔ صورتِ مسئولہ میں اگر وراثت کی تقسیم فی صد میں کرنی ہوتو دونوں  بیویوں کو(۵ء۱۲%) (ہربیوی کو حصہ۳ء۶فی صد) لڑکے کو۸ء۴۳فی صد اور دونوں لڑکیوں کو۸ء۴۳(ہر لڑکی کا حصہ۹ء۲۱فی صد) دیے جائیں  گے۔

Leave a Comment