رسول اکرم ﷺ کی تشریعی حیثیت

قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کو بہ حیثیت رسول جو ذمہ داری دی گئی تھی، وہ کتاب اللہ کی تشریح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور (اے نبی) یہ ذکر ہم نے تمھاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کردو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔ (النحل: ۴۴) اس آیت سے صاف معلوم ہوتاہے کہ نبیؐ کو اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری دی تھی کہ قرآن میں جو احکام و ہدایات دیے جا رہے ہیں ، ان کی آپؐ وضاحت اور تشریح فرما دیں ، تاکہ لوگوں کو کلام اللہ کے سمجھنے میں دشواری نہ پیش آئے۔ یہ فریضہ منصب ِرسالت کا ایک اہم جزء ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی ذمہ داریاں آپؐ کے سپرد کی گئی تھیں اور سبھی معاملات میں آپؐکی اتباع کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ بلکہ یہاں تک فرمایا گیاہے کہ رسول کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے (النساء: ۶۴، ۸۰، محمد: ۳۳) اس کے ساتھ آپ کو کچھ اختیارات بھی عطا کیے تھے۔ فرمایا: ’’جو کچھ رسول تمھیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔‘‘ (الحشر:۷) یہ نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ فرائض نبوت کی ادائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہی بصیرت اور حکمت عطا فرمائی تھی، جس کی بنیاد پر آپ مقاصد قرآن کی گہرائیوں تک پہنچتے تھے۔ یہ بصیرت اور حکمت لازمۂ نبوت تھی، جو کتاب کے ساتھ آپ کو عطا کی گئی تھی اور اسی کی بدولت آپؐ لوگوں کو تعلیم خداوندی کے مطابق عمل کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ قرآن میں اس کا بہ کثرت تذکرہ ملتا ہے۔ (ملاحظہ کیجئے البقرۃ: ۱۲۷، ۱۲۹، ۱۵۱، آل عمران: ۱۶۴، الجمعۃ: ۲) علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ (القیامۃ: ۱۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآنی تعلیمات و احکام کی جو تشریح و تعبیر آپؐ اپنے قول و عمل سے کرتے تھے وہ آپؐ کے ذہن کی پیداوار نہ تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ِمبارک ہی آپ پر قرآن نازل کرتی تھی اور وہی آپؐ کو اس کا مطلب بھی سمجھاتی اور اس کے وضاحت طلب امور کی تشریح بھی کرتی تھی۔ یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ آپؐ کے ذرائع معلومات کتاب اللہ کے علاوہ بھی ہیں ، جو قرآن سے ثابت ہیں ۔ سورۂ بقرہ میں ہے: ’’اوروہ قبلہ جس کی طرف تم پہلے رُخ کرتے تھے، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتاہے۔‘‘ (آیت ۱۴۳) چونکہ قبلۂ اول کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم قرآن میں کہیں نہیں پایا جاتا، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو قرآن کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات ملتی تھیں ۔ لہٰذا حضور کی زندگی کا وہ کارنامہ جو آپؐ نے بعثت کے بعد اپنی ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں انجام دیا وہ قرآن کے منشا کی توضیح و تشریح کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں منصب رسالت کے دیگر کاموں کی ادائی ہے۔ اس تفصیل سے بہ خوبی واضح ہوجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا منصب شارح کا تھا، نہ کہ ’شارع‘ کا ۔ لیکن بعض علماء آپؐ کے لیے شارع کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا نام پیش کیا جاسکتا ہے۔ ان کا مسلک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تشریعی اختیارات (Legislative Powers) عطا کیے تھے۔ اس بات کا تذکرہ انھوں نے اپنی تصانیف، خاص کر ’سنت کی آئینی حیثیت‘ میں زور و شور سے کیا ہے اور ایک دو جگہ آپؐ کو ’شارع علیہ السلام‘ کے لقب سے نوازا ہے۔ مولانا مرحوم کی علمی صلاحیتوں کا قائل ہونے کے باوجود ان کا یہ نظریہ ناچیز کی عقل و فہم سے پرے ہے۔ کیوں کہ شارع تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، جس کا قرآن میں صراحت سے ذکر کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ کی حیثیت تو صرف شارح کی تھی۔ مولانا مودودیؒ نے نبی ﷺ کو تشریعی اختیارات حاصل ہونے کی جتنی بھی دلیلیں دی ہیں وہ سب دراصل تشریح کے زمرے میں آتی ہیں ۔ مثال کے طور پر قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ’’اگر تم کو جنابت لاحق ہوگئی ہو تو پاک ہوئے بغیر نماز نہ پڑھو۔‘‘ (النساء: ۴۳) اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپؐ نے بتایا کہ جنابت کیا ہے اور اس سے پاک ہونے کا طریقہ کیا ہے؟ یعنی غسل کیسے کیا جائے گا؟ یہ سب اضافی باتیں تشریح و تفسیر کے زمرے میں ہی آئیں گی۔اسی طرح قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دو سگی بہنوں کو بہ یک وقت ایک مرد سے نکاح کرنے سے منع فرمایا۔ (النساء ۲۳) اس کی تشریح و توضیح آپؐنے یوں کی کہ جس طرح دوسگی بہنیں ایک جگہ جمع نہیں کی جاسکتیں اسی طرح خالہ اور بھانجی یا پھوپھی اور بھتیجی کو بھی ایک جگہ جمع نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح وراثت کا قانون بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انھیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے۔ (النساء: ۱۱) یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر صرف دو لڑکیاں ہوں تو ان کو کتنا حصہ ملے گا؟ اس کی وضاحت آپؐ نے یوں فرمائی کہ دو لڑکیاں ہونے کی صورت میں بھی دونوں کو ترکہ میں سے دو تہائی دیا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ سورۂ النحل آیت ۴۴ میں جس طرح حضوؐر کو قرآنی آیات کی تشریح و توضیح کا حکم دیا گیا ہے اس طرح قرآن میں تشریعی اختیارات عطا کرنے کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے آپؐ کے تشریعی اختیارات کے حق میں مولانا مودودیؒ نے جو دلائل دیئے ہیں اور جو مثالیں پیش کی ہیں وہ ناکافی معلوم ہوتی ہیں ۔ یہاں یہ بات توجہ طلب ہے کہ یہ دین کی کوئی فروعی بحث نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق بنیادی عقائد سے ہے۔ مولانا مودودیؒ کی رائے مان لینے سے اوّل تو عقیدۂ توحید پر زد پڑتی ہے، دوسرے حضوؐر کے اختیارات میں غلو کے باعث فرقہ واریت کو تقویت پہنچتی ہے، جس سے ملت اسلامیہ کے مزید کم زور ہونے کا اندیشہ ہے۔ امید کہ تشفی بخش جواب سے نوازیں گے۔
جواب
اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے واسطے سے اپنا جو کلام آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا اسے قرآن کہا جاتا ہے اور آں حضرت ﷺ کے اقوال و افعال وغیرہ کو، خواہ ان کا تعلق قرآن کی تشریح و تبیین سے ہو یا وہ دیگر معاملات سے متعلق ہوں ، ان کے لیے حدیث کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ایک مسئلہ ابتدا سے یہ زیر بحث رہا ہے کہ دین کے معاملے میں احادیث حجت ہیں یا نہیں ؟ بعض گروہ اور افراد ایسے پائے گئے ہیں ، جو ان کی حجیت کا انکار کرتے ہیں ۔ اس معاملہ میں ماضی بعید میں ’خوارج‘ نامی گروہ کو شہرت ملی اور ماضی قریب میں اس قسم کے افکار رکھنے والے ’اہل قرآن‘ کہلائے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ دین کے معاملے میں صرف ’قرآن‘ حجت ہے۔ وہی احکام قابل قبول اور لائق نفاذ ہیں جو قرآن سے ثابت ہیں ۔ اللہ کے رسول دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ آپ کا اصل کام صرف قرآن کو اللہ کے بندوں تک بے کم و کاست پہنچا دینا تھا۔ اس کی تعبیر و تشریح کے طور پر آپ نے جو کچھ ارشاد فرمایا وہ اپنی بشری حیثیت میں کیا، جسے قبول کرنے کے ہم پابند نہیں ہیں ۔ آپؐ نے احکام قرآن کی اپنے عہد کے اعتبار سے تعبیر و تشریح فرمائی اور ہمیں بھی حق حاصل ہے کہ ان کی تعبیر و تشریح اپنے زمانے کے اعتبار سے کریں ۔ جمہور ِ امت نے اس فکر کو قبول نہیں کیا ہے اور اسے گم راہی قرار دیا ہے، چنانچہ خوارج اور اہل قرآن دونوں کا شمار ’فرق ضالّہ‘ (گم راہ فرقوں ) میں ہوتا ہے۔ جمہور کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے صحیح اور ثابت شدہ اقوال و افعال دین میں اسی طرح حجت ہیں جس طرح قرآن حجت ہے، اگرچہ ان کا درجہ قرآن کے بعد آتا ہے۔ ان کی حجیت کے دلائل خود قرآن کریم میں موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے، ان کے فیصلوں اور احکام کو واجب التعمیل قرار دیا ہے اور ان کی مخالفت سے ڈرایا ہے۔ چند آیات درج ذیل ہیں : یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰ امَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنکُمْج فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَـْیئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط (النساء: ۵۹) ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کو جو تم میں سے صاحب امر ہوں ، پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو، اگر واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ فَلاَ وَ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًاo (النساء: ۶۵) ’’(اے محمدؐ) تمھارے رب کی قسم، یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں ۔‘‘ وَمَآ ٰ اتکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُج وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانتَہُواج (الحشر: ۷) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُونَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌo (النور: ۶۳) ’’رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا ان پر درد ناک عذاب نہ آجائے۔‘‘ قرآن سے حدیث کے تعلق کے تین پہلو ہیں : (۱) کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں قرآن میں مذکور احکام ہی کا تذکرہ بطور تاکید و تائید آیا ہے۔ مثلاً نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج کی ادائی کا حکم اور شرک، جھوٹی گواہی، والدین کی نافرمانی اور ناحق قتل نفس کی ممانعت وغیرہ۔ (۲) بہت سی احادیث قرآن کی تفسیر و تشریح کرتی ہیں ۔ چنانچہ قرآن میں کوئی حکم مجمل بیان ہوا ہے، احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ کوئی حکم قرآن میں مطلق مذکور ہے احادیث میں اس کے سلسلے میں بعض قیود عائد کردی گئی ہیں ۔ کسی حکم کا تذکرہ قرآن میں عمومی صیغے میں ہے، احادیث میں اس کی تخصیص کردی گئی ہے۔ مثلاً قرآن میں نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور حج کرنے کے احکام ہیں ، احادیث میں نمازوں کے اوقات، رکعتوں کی تعداد، ادائی نماز کا طریقہ، زکوٰۃ کی مقدار اور حج کے مناسک وغیرہ بیان کردیے گئے ہیں ۔ قرآن میں خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ احادیث میں خرید و فروخت کی جائز اور ناجائز صورتیں اور سود کی تفصیلات مذکور ہیں ۔ (۳) کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں ایسے احکام بیان کیے گئے ہیں جو قرآن میں مذکور نہیں ہیں ۔ یہ بھی واجب الاتباع ہیں ۔ مثلاً نکاح میں دو ایسی عورتوں کو جمع کرنے کی حرمت جن کے درمیان پھوپھی بھتیجی یا خالہ بھانجی کا رشتہ ہو، یا شکاری درندوں اور پرندوں اور گھریلو گدھوں کی حرمت، یا مردوں کے لیے ریشم اور سونا پہننے کی حرمت، یا میراث میں دادی کا حصہ، یا شادی شدہ زانی کو رجم کی سزا، یا دیت کے احکام وغیرہ۔ (۱) یہ تقسیم جمہور کے نقطۂ نظر سے ہے۔ بعض علماء، جن میں علامہ شاطبیؒ صاحب الموافقات خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ، حدیث کی صرف اوّل الذکر دو قسمیں قرار دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک جملہ احادیث قرآن کی تشریح و تبیین کے قبیل سے ہیں ۔ کوئی حدیث ایسی نہیں جس کی اصل قرآن میں موجود نہ ہو۔ مثال کے طور پر حدیث میں درندوں اور شکاری پرندوں کی حرمت کا تذکرہ ہے۔ اس کی اصل آیتِ قرآنی: وَ یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیھِمُ الْخَبٰئِثَ۔ (الاعراف: ۱۵۷) میں موجود ہے۔ حدیث میں مذکور احکام دیت کی اصل آیت فَدِیَۃٌ مُسَلَّمَۃٌ اِلٰی اَھْلِہٖ (النساء: ۹۲) میں پائی جاتی ہے۔ (۲) موجودہ دور میں عالم اسلام کے مشہور فقیہ شیخ ابو زہرہ نے بھی اس موضوع پر لکھا ہے۔ انھوں نے حدیث کی مذکورہ بالا تینوں قسمیں بیان کرتے ہوئے ہر قسم کی مثالیں دی ہیں ۔ پھر تیسری قسم کی مثالوں کے ضمن میں لکھا ہے: ’’حقیقت یہ ہے کہ ان تمام مثالوں کی اصل کتاب الٰہی میں موجود ہے۔۔۔ ہم سنت میں مذکور ایک حکم بھی ایسا نہ پائیں گے جس کی اصل قریب یا دور سے قرآن میں موجود نہ ہو۔ اسی لیے بعض علماء نے فرمایا ہے: سنت میں جو حکم بھی مذکور ہے اس کی اصل اللہ کی کتاب میں ضرور پائی جاتی ہے۔ اس رائے کوامام شافعیؒ نے الرسالہ میں نقل کیاہے۔ ان کے بعد شاطبیؒ نے بھی اپنی کتاب الموافقات میں اس کا اثبات کیا ہے۔۔۔ تم سنت میں کوئی ایک حکم بھی ایسا نہ پاؤگے جس کے مفہوم پر قرآن اجمالی یا تفصیلی انداز سے دلالت نہ کرتا ہو۔‘‘ (۱) حقیقت یہ ہے کہ احادیث کی تقسیم کے سلسلے میں علماء کا یہ اختلاف کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مروی اور ثابت شدہ تمام احادیث اور احکام، خواہ انھیں مستقل حیثیت دی جائے یا قرآن کی تشریح و تببین کے قبیل سے مانا جائے، واجب التعمیل ہیں ۔ جو علماء تمام تر احادیث کو قرآن کی شارح و مبین قرار دیتے ہیں وہ بھی اس سے اختلاف نہیں کرتے۔ اسی بنا پر موجودہ دَور کے مشہور شامی عالم ڈاکٹر مصطفی سباعی نے اس اختلاف کو لفظی قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں : ’’خلاصہ یہ کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ سنت میں کچھ ایسے نئے احکام پائے جاتے ہیں جو قرآن میں منصوص اور صراحت سے مذکور نہیں ہیں ۔ پہلا فریق کہتا ہے کہ اس سے اسلامی قانون سازی میں سنت کی مستقل حیثیت ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے کہ سنت سے ایسے احکام ثابت ہیں جو اللہ کی کتاب میں مذکور نہیں ہیں ۔ دوسرا فریق تسلیم کرتا ہے کہ وہ احکام قرآن میں صراحت سے مذکور نہیں ہیں ، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ احکام کسی نہ کسی پہلو سے نصوصِ قرآن کے تحت آجاتے ہیں ۔ اس بنا پر وہ کہتا ہے کہ کوئی بھی صحیح حدیث، جس سے ایسا حکم ثابت ہوتا ہو جو قرآن میں مذکور نہیں ہے، وہ ضرور قرآن کے کسی نص یا اس کے کسی اصول کے تحت داخل ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے اس پر عمل درست نہیں ۔ اس سے واضح ہوا کہ یہ اختلاف محض لفظی ہے۔ دونوں فریق اس بات کے قائل ہیں کہ سنت میں ایسے احکام پائے جاتے ہیں جو قرآن میں مذکور نہیں ہیں ۔ ایک فریق سنت کو مستقل تشریعی حیثیت دیتا ہے۔ دوسرا فریق اسے مستقل حیثیت نہیں دیتا، لیکن دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے۔‘‘ (۲) گزشتہ صدی میں انکار سنت کا فتنہ ہندوستان میں زور و شور سے اٹھا۔ اس کے عَلَم برداروں کا کہنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا منصب صرف اللہ کا پیغام قرآن کی شکل میں انسانوں تک پہنچا دینا تھا۔ وہ کام آپ نے کردیا۔ اس کی تعبیر و تشریح کا جو کام آپؐ نے انجام دیا وہ آپؐکی شخصی حیثیت میں تھا۔ ہم صرف احکامِ قرآن پر عمل و نفاذ کے مکلف ہیں ، ارشادات رسول ہمارے لیے حجت نہیں ہیں ۔ اسلامی قانون کا ماخذ صرف قرآن ہے، سنت کو بھی ماخذ قانون قرار دینا درست نہیں ۔ اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے جو علماء میدان میں آئے ان میں سے ایک مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ بھی تھے۔ انھوں نے ان منکرین سنت سے لوہا لیا اور ان کے افکار و نظریات کے تارو پود بکھیر کر رکھ دیے۔ اپنی تحریروں میں مولانا مودودیؒ نے پورے زور و قوت کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا منصب محض ایک ’نامہ بر‘ کا نہیں تھا، بلکہ آپ کو معلم و مربیّ، رہ نما و پیشوا، حاکم و فرماں روا، قاضی، کتاب اللہ کا شارح و مفسر اور شارعِ قانون بھی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ آپ کی اطاعت و پیروی اور آپ کے دیے ہوئے احکام پر عمل مسلمانوں پر فرض ہے اور سنت کے ماخذ ِقانون ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے۔ جو شخص سنت سے آزاد ہوکر قرآن کی پیروی کا دعویٰ کرتا ہے وہ حقیقت میں قرآن کا پیرو نہیں ہے۔ مولانا کی یہ تمام تحریریں پہلے ماہ نامہ ترجمان القرآن لاہور کے ’منصب رسالت نمبر‘ میں شائع ہوئیں ، بعد میں ’سنت کی آئینی حیثیت‘ کے نام سے کتابی صورت میں ان کی اشاعت ہوئی۔ یہ مولانا کی بہترین کتابوں میں سے ہے۔ اس کے ذریعہ انھوں نے پوری امت کی طرف سے دفاع ِسنت کا فرض کفایہ ادا کردیا ہے۔ قرآن سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے جملہ اقوال و ارشادات وحی الٰہی پر مبنی تھے: وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیoطج اِنْ ہُوَ اِلّاَ وَحْیٌ یُّوْحٰیoلا (النجم:۳) ’’وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔‘‘ آپؐ کے تمام اجتہادات کی بنیاد قرآن یا اللہ تعالیٰ کی بہ راہ راست رہ نمائی ہوتی تھی۔ شیخ ابو زہرہؒ نے لکھاہے: ’’اس چیز کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ قانون سازی میں رسول کے اجتہاد کی بنیاد قرآن اور ان کے اندروں میں ودیعت شدہ قانون سازی کی روح اور اس کے اصول و مبادی پر تھی۔ آپؐ جو احکام و قوانین وضع کرتے تھے ان کے معاملے میں قرآنی بیانات پر قیاس کرتے تھے یا قرآنی قانون سازی کے عام اصولوں کو تطبیق دیتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سنت میں مذکورہ احکام کا مرجع و ماخذ قرآن کے احکام ہیں ۔‘‘ (۱) اسی بنا پر علماء نے سنت کو اسلامی قانون کا دوسرا بنیادی ماخذ قرار دیا ہے اور اس سے ثابت شدہ احکام کو مسلمانوں کے لیے حجت اور واجب التعمیل مانا ہے۔ شیخ عبد الوہاب خلاّف فرماتے ہیں : ’’تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے جن اقوال، افعال اور ’تقریرات‘ کا صدور ہوا ہے اور ان کا مقصود قانون سازی اور اقتداء ہے اور وہ ہم تک صحیح سندوں سے، جن سے قطعیت یا ظن ِ غالب کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، پہنچے ہیں ، وہ مسلمانوں کے لیے حجت اور قانون سازی کا سرچشمہ ہیں ، جن سے اجتہاد کرنے والوں کو شرعی احکام کا استنباط کرنا ہے، یعنی احادیث میں وارد ہونے والے احکام سے قرآن میں مذکور احکام کے ساتھ ایک ایسا قانون تشکیل پاتا ہے جس کی اتباع مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔۔۔ اگر یہ توضیح و تشریح کرنے والی احادیث مسلمانوں کے لیے حجت نہ ہوتیں اور ان کی حیثیت واجب الاتباع قانون کی نہ ہوتی تو قرآن کے فرائض کا نفاذ اور اس کے احکام پر عمل ممکن نہ ہوتا۔ ان توضیحی احادیث کی اتباع اسی پہلو سے واجب ہے کہ ان کا صدور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے ہوا ہے۔ اور وہ ایسی سندوں سے مروی ہیں جو قطعیت یا ظن غالب کا فائدہ دیتی ہیں ۔ معلوم ہوا کہ ہر حدیث جس میں کوئی حکم یا قانون مذکور ہو اور رسول ﷺ کی طرف اس کی نسبت صحیح ہو وہ حجت اور واجب الاتباع ہے، خواہ اس کے ذریعے قرآن میں مذکور کسی حکم کی تشریح و تبیین ہو رہی ہو یا اس میں کوئی ایسا حکم بیان کیا گیا ہو جس کے بارے میں قرآن خاموش ہو، اس لیے کہ ان تمام احادیث کا سرچشمہ وہ معصوم ذات گرامی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تبیین کی ذمہ داری دی تھی اور قانون سازی کی بھی۔‘‘ (۱) موجودہ دور کے مشہور فقیہ شیخ وہبہ زحیلیؒ نے لکھا ہے: ’’علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سنت ِ نبوی شرعی احکام کے استنباط کے معاملے میں قرآن کی طرح واجب الاتباع ہے اور یہ کہ وہ قانون سازی کا دوسرا سرچشمہ ہے۔ ثابت شدہ سنت اپنے تمام مشتملات میں واجب الاتباع ہے، خواہ وہ قرآن کے مجمل احکام کی توضیح کر رہی ہو، یا اس کے مطلق احکام پر کچھ قیود عائد کر رہی ہو، یا کوئی ایسا نیا حکم بیان کر رہی ہو، جس کے بارے میں قرآن خاموش ہو، اس لیے کہ آخر کار اس کاخاتمہ وحی الٰہی پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت سے اس کا اعلان کیا ہے۔ فرمایا: وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلّاَ وَحْیٌ یُّوْحٰی (النجم: ۳،۴) (۱) گزشتہ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے بنیادی مصادر دو ہیں : ایک قرآن، دوسرا حدیث۔ جناب مستفسر کو بھی اس سے اختلاف نہیں ہے۔ وہ جہاں یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری دی تھی کہ قرآن میں مذکور احکام کی توضیح و تشریح فرمادیں ، وہیں یہ بھی فرماتے ہیں کہ آپؐ کو دوسری بہت سی ذمہ داریاں بھی سپرد کی گئی تھیں اور سبھی معاملات میں آپؐ کی اتباع کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آپؐکو قرآن کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہ راہ راست ہدایات ملتی تھیں اور آپ کے تمام اقوال و افعال اللہ تعالیٰ کی راست نگرانی میں اور اس کی عطا کردہ بصیرت و حکمت کی روشنی میں انجام پائے تھے۔ ان کاکہنا صرف ہے کہ رسول کو ’شارع‘ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ آپؐکا کام صرف اللہ کی شریعت کو اس کے بندوں تک پہنچادینا تھا۔ شارع حقیقت میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ِ پاک ہے۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ شارع حقیقی صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ وہی حاکم ہے اور تمام شرعی احکام اسی کے دیے ہوئے ہیں ، خواہ اس نے ان کا تذکرہ اپنی کتاب قرآن میں کردیا ہو، یا اس کی ہدایت کے مطابق اس کے رسول نے انھیں بیان کیا ہو۔ اس بات پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ شیخ عبد الوہاب خلا ّف نے لکھا ہے: ’’علماء کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ مکلفین کے تمام افعال کے لیے شرعی احکام کا سرچشمہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات ہے، خواہ اس کے حکم کا اظہار بہ راہ راست ان نصوص سے ہو جن کی اس نے اپنے رسول کی طرف وحی کی تھی، یا اجتہاد کرنے والے استنباطِ احکام کے شرعی دلائل کے واسطے سے اس تک رسائی حاصل کریں ۔ اسی لیے وہ متفقہ طور پر ’حکم شرعی‘ کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ اس سے مراد مکلفین کے افعال سے متعلق اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے۔ اس کے لیے ان کے درمیان یہ اصول مشہور ہے: ’’لا حکم الا اللّٰہ‘‘ ’’حکم کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔‘‘ یہ اصول اللہ کے اس ارشاد سے ماخوذ ہے: ’’اِنِ الْحُکْمُ اِلّاَ لِلّٰہِ۔ (الانعام: ۷۵) (فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے) ۔ (۲) اسی لیے اصطلاحی طور پر لفظ ’شارع‘ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر خالد رمضان حسن لکھتے ہیں : ’’شارع احکام دینے اور قوانین وضع کرنے والے کو کہا جاتاہے۔ شارع اور حاکم صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ اس کا ارشاد ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ۔۔۔ (الشوریٰ: ۱۳) (اس نے تمھارے لیے دین کا طریقہ مقرر کیا ہے۔۔۔) (۱) لیکن بعض علماء، لفظ ’شارع‘ کا استعمال رسول اللہ ﷺ کے لیے بھی کرتے ہیں ۔ ایسا وہ مجازاً کرتے ہیں ۔ زبان و بیان اور بلاغت کے پہلوؤں سے اس کی گنجائش موجود ہے۔ اس لیے اسے بھی غلط نہیں قرار دیا جاسکتا۔ شرعی احکام کے بنیادی سرچشمے دو ہیں : ایک قرآن، دوسرا حدیث۔ قرآن اللہ کا کلام ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کو حدیث کہتے ہیں ۔ جب دونوں سے شرعی احکام حاصل ہوتے ہیں تو دونوں کو شارع کہا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو حقیقتاً اور اس کے رسول ﷺ کو مجازاً۔ بعض علمائے اصول نے اس کی رعایت سے لفظ شارع کا یہ مطلب بتایا ہے۔ الشارع ھو مبیّن الْاحکام۔ (۲) ’’شارع احکام بیان کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔‘‘ اس کی تائید و تصویب قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: یَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْْہِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْْہِمْط (الاعراف: ۱۵۷) ’’وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔‘‘ اس آیت میں تحلیل و تحریم کی نسبت صراحت سے رسول اللہ ﷺ کی جانب کی گئی ہے۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیں ۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ تحریم و تحلیل کے جو کام آپؐ نے کیے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے اختیارات کی بنا پر کیے ہیں ، اس لیے وہ بھی قرآنی احکامِ تحلیل و تحریم کی طرح واجب الاتباع ہیں ۔ یہی مضمون بعض احادیث میں بھی مذکور ہے۔ ایک حدیث حضرت ابو رافعؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: لاَ اُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ مُتَّکِئًا عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ یَاتِیْہِ الْاَمْرُ مِنْ اَمْرِیْ مِمَّا اَمَرْتُ بِہٖ اَوْ نَھَیْتُ عَنْہُ فَیَقُوْلُ: لاَ نَدْرِیْ مَا وَجَدْنَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ اتَّبِعْنَاہُ ۔(۱) ’’میں ہرگز تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر ٹیک لگائے ہو اور اس کے پاس میرے اوامر و نواہی میں سے کوئی بات پہنچے تو وہ یہ کہنے لگے: ہم نہیں جانتے۔ ہم جو کچھ اللہ کی کتاب میں پائیں گے صرف اسی کی اتباع کریں گے۔‘‘ اس مضمون کی اور بھی متعدد احادیث مروی ہیں ۔‘‘ (۲) اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ شرعی احکام و قوانین دینے کے معاملے میں اللہ کے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرح مختار مطلق تھے اور آپؐ کو کلی اختیار حاصل تھا کہ اللہ کی رہ نمائی اور بصیرت کے بغیر جو چاہیں قوانین وضع کریں تو یقینا اس کی زد عقیدۂ توحید پر پڑتی ہے اور اس سے آپؐ کے اختیارات کے معاملے میں غلو ہوجاتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی مکمل ہدایت، وحی اور راست نگرانی میں تشریعی اختیارات (Legislative Powers) حاصل تھے۔ اس بنا پر وہ آپ کے لیے بھی ’شارع‘ کا لفظ استعمال کرتاہے تو ایسا کرنا غلط نہیں ہے۔ اس سے نہ عقیدۂ توحید پر زد پڑتی ہے نہ آپؐ کے اختیارات میں غلو ثابت ہوتا ہے۔

Leave a Comment