زندگی میں مال وجائیداد کی تقسیم

الحمدللہ میری تجارت میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت دی اورمیں نے خوب کمایا۔ کافی جائیداد پیدا کی ، کئی پلاٹس خریدے، کئی منزلہ کشادہ مکان بنوایا ۔ میری اہلیہ کے علاوہ تین لڑکے اورتین لڑکیاں ہیں ۔ میں نے سوچا کہ میں اپنی زندگی ہی میں تمام مال وجائیداد اپنے متعلقین میں تقسیم کردوں ۔ چنانچہ میں نے اس کا کچھ حصہ اپنے لیے الگ کرکے بقیہ ان میں تقسیم کردیا ۔ اہلیہ کو آٹھواں حصہ دیا اورلڑکوں لڑکیوں میں دوایک کے تناسب سے بانٹ دیا ۔ میری ایک لڑکی معذور ہے، اس لیے اس کا حصہ میں نے اپنے پاس رکھا ہے ۔ اب میں چاہتا ہوں کہ جوحصہ میں نے اپنے لیے الگ کیا تھا اسے صدقہ وخیرات کردوں ، تاکہ بارگاہ الٰہی میں اس کا اجر مجھے ملے ۔ میرے لڑکے اور لڑکیاں خود کفیل ہیں ، اس لیے چاہتا ہوں کہ میرے اپنے لیےبچائے ہوئے حصے میں سے ان کوکچھ نہ ملے۔ ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا انتظام ہوجائے کہ میرے مرنے کے بعد میری معذور لڑکی کے حصے پر کوئی قبضہ نہ کرلے۔ بہ راہِ کرم اس معاملے میں میری رہ نمائی فرمائیں ۔
جواب
وراثت کا تعلق کسی شخص کے مرنے کے بعد ہے، اس لیے قرآن مجید میں مستحقینِ وراثت کے جو حصے بیان کیے گئے ہیں ، کسی شخص کا اپنی زندگی میں اپنا مال ان حصوں کے مطابق اپنے قریبی رشتے داروں میں تقسیم کرنا ضروری نہیں ۔ آدمی اپنا مال، چاہے وہ اسے موروثی طورپر ملا ہویا اس نے خود کمایا ہو ، اس میں سے حسبِ مرضی کسی کو کچھ بھی دے سکتا ہے۔ اگرکوئی شخص اپنی زندگی میں اپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کررہاہو تویوں تو اسے قانونی طورپر اختیار ہے کہ کسی کوکم اورکسی کو زیادہ دے ۔ وہ اپنے جس لڑکے کوفارغ البال اور صاحب حیثیت پاتا ہو اسے کم دے اور جس لڑکے کومعاشی طور پر کم زور پاتا ہو اسے زیادہ دے ۔ لیکن بہتر ہے کہ وہ سب کوبرابر دے ،تاکہ ان سب کا حسن سلوک اس کے ساتھ برابر ہو۔ حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی تلقین کی ہے۔ اس بنا پر فقہا نے یہاں تک لکھا ہے کہ آدمی کو اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنے کی صورت میں اپنےلڑکوں اورلڑکیوں میں بھی فرق نہیں کرنا چاہیے اورسب کوبرابر دینا چاہیے۔ مال اورجائیداد کی ایک شخص سے دوسرے کومنتقلی کی،وراثت کے علاوہ دو اور صورتیں ہیں : وصیت اور ہبہ ۔ وصیت یہ ہے کہ آدمی کہے کہ میرے مرنے کے بعد میری فلاں جائیداد فلا ں شخص کی ہوگی۔ وصیت میں دوباتیں ضرور ی ہیں : ایک یہ کہ کسی مستحق وراثت کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔ دوسرے ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت جائز نہیں ہے ۔ اس صورت میں آپ نے اپنے لیے جوکچھ الگ کررکھا ہے اس کے صرف ایک تہائی کی وصیت آپ کسی تنظیم ، جماعت ، ادارہ، مدرسہ، مسجد یا کسی شخص کےحق میں کرسکتے ہیں ، بقیہ دو تہائی آپ کے مرنے کے بعد آپ کے ورثہ ہی میں تقسیم ہوگا۔ دوسری صورت ہبہ کی ہے ۔ اس کا مطلب ہے آدمی کااپنی زندگی میں اپنی کسی چیز کا دوسرے کو بلا عوض مالک بنادینا ۔ اس طور پر آپ اپنے لیے خاص کیا گیا کل حصہ کسی کو ہبہ کرسکتے ہیں ۔ آپ نے جومال یا جائیداد اپنی معذور بیٹی کودے دی ہے اوراس کی معذوری کی وجہ سے اسے اپنی نگرانی (Guardianship)میں رکھا ہے ، اپنی وفات کے بعد کسی معتمد علیہ شخص کواس کا نگراں بنا سکتے ہیں ۔ اس طرح اس کی ملکیت آپ کی بیٹی ہی کے نام رہے گی اوراس کے تحفظ اورنگرانی کا کام وہ متعین شخص انجام دیتا رہے گا۔

Leave a Comment