زکوٰۃ کی رقم کو تھوڑا تھوڑا خرچ کرنا

کچھ لوگ اپنی زکوٰۃ نکال کر اسے اپنے پاس ہی رکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ، جب ان کے پاس فقر اء ومساکین اور ضرورت مند آتے ہیں تو اس میں سے انہیں دیتے رہتے ہیں ۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب
جب کوئی رقم نصابِ زکوٰۃ کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزرجائےتو اس کی زکوٰۃ نکال دینی چاہیے۔ آسانی کے لیے یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کوئی ایک وقت متعین کرلیا جائے اوراس میں زکوٰۃ نکال دی جایا کر ے ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی یک مشت بھی کی جاسکتی ہے اورقسطوں میں بھی ۔ زکوٰۃ ادا کرنے والا جس میں سہولت محسوس کرے، اس پر عمل کرسکتا ہے ۔ کوئی شخص یک بارگی زکوٰۃنکالنے میں دشواری محسوس کرتا ہے تو اسے اجازت ہے کہ وہ اسے کئی قسطوں میں تقسیم کرلے اورمہینے دو مہینے پر ایک ایک قسط ادا کرتا رہے ۔ اسی طرح اسے اس بات کی بھی اجازت ہے کہ وہ اپنے مال کا حساب کرکے، زکوٰۃ کی جوبھی رقم بنتی ہے ، اسے الگ کرلے اور وقتاً فوقتاً اس کے پاس جو ضرورت مند آتے ہیں ، انہیں اس میں سے دیتا رہے۔

Leave a Comment