سال گرہ پرمبارک باددینا

سال گرہ سے متعلق چند سوالات ہیں ۔ بہ راہِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں رہ نمائی فرمائیں : - کیا کوئی مسلمان اپنی سال گرہ منا سکتا ہے؟ - کیا کوئی غیر مسلم ہماری تاریخ پیدائش پر ہمیں مبارک باد دے تواسے قبول کرنا چاہیے؟ - کیا کسی غیر مسلم کی سال گرہ پر اسے مبارک باد دینا، شال اورپھولوں کے گل دستے سےاس کا استقبال کرنادرست ہے؟
جواب
سلمانوں نے دوسری اقوام کی نقّالی میں جو بہت سی رسمیں ایجاد کرلی ہیں ان میں سےایک سال گرہ منانا اور اس کی مبارک باد دینا بھی ہے۔ اسلامی شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ مسنون عمل ہے۔ اس کا مقصد خوشی کا اظہار اور رشتے داروں اوراحباب کی خاطر تواضع ہے ۔اس کے علاوہ ہر سال یومِ ولادت پر خوشی کا اظہار کرنا، تقریب منعقد کرنا، شال اوڑھنا اور گل دستہ پیش کرنا ، تحفے تحائف دینا، دعوتیں کرنا اور جشن منانا، ان چیزوں کا ثبوت خیر القرون میں نہیں ملتا، دوسری قوموں کی نقّالی میں ان کا رواج ہوگیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری قوموں کی تہذیبی مماثلت ومشابہت کونا پسند فرمایا ہے (ابوداؤد۴۰۳۱، ترمذی۲۶۹۵) اس لیے مسلمانوں کو ایسے کاموں سے بچنا چاہیے۔ چوں کہ ایسے کاموں کودینی اعمال سمجھ کر نہیں انجام دیا جاتا، اس لیے انہیں مطلق ناجائز اور حرام تو نہیں کہا جاسکتا، البتہ غیر قوموں سے مشابہت کی وجہ سے ناپسندیدہ ضرور ہیں ۔ ان سے احتراز کرنا چاہیے۔ رہا کسی کی یومِ ولادت پر اسے مبارک با دینا تو اگرچہ یہ بھی اسلامی تہذیب میں ایک در آمد چیز ہے، لیکن چوں کہ اس کا مطلب یہ لیا جاسکتاہے کہ اللہ آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائے، اس لیے اسے ناجائز نہیں کہا جاسکتا۔

Leave a Comment