سفر میں  جمع بین الصلوٰتین کے مسائل

حالتِ سفر میں  نماز سے متعلق درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں  ۱- اگرمغرب کی نماز کا وقت ہوگیا ہوتو کیا اس کے ساتھ عشاء کی نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے؟ ۲- اگر امیدہوکہ رات میں کسی وقت منزل پرپہنچ جائیں  گے تو کیا اس صورت میں  بھی مغرب اور عشاء کو جمع کیاجاسکتا ہے؟ ۳- اگر مغرب کا وقت ہونے کے بعد اس کی نماز نہ پڑھی جائے اوراپنے مقام پرپہنچ کر مغرب اورعشاء دونوں  نمازیں  پڑھ لی جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دونمازوں  کو جمع کرنا (جمع بین الصلوٰتین ) ثابت ہے۔ آپؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ظہر کے وقت میں  ظہر کے ساتھ عصر کی نماز بھی ادافرمائی۔ اسی طرح  آپؐ نے مزدلفہ میں  عشاء کے وقت میں مغرب اورعشاء دونوں نمازیں  ادا فرمائیں ۔ اس بناپر جمع بین الصلوٰتین کی مشروعیت پرفقہاء کا اجماع ہے۔ البتہ ان کے درمیان اختلاف اس امر میں  ہے کہ یہ رخصت حج کے ساتھ خاص ہے یا اس کی علّت سفر ہے؟جمہورفقہاء (مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ) کی رائے ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ اورمزدلفہ میں  جمع بین الصلوٰتین سفر کی وجہ سے کیا تھا، جب کہ حسن بصریؒ، ابن سیرینؒ، مکحولؒ،نخعیؒ اورامام ابوحنیفہؒ کے نزدیک یہ صرف حج کے ساتھ خاص ہے ۔ان حضرات کے نزدیک مسافر کے لیے دونمازوں کو جمع کرنا درست نہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات تواتر سے ثابت ہیں  اور جمع والی احادیث آحاد میں  سے ہیں ۔اس لیے اخبارآحاد کی وجہ سے تواترکو ترک نہیں کیاجاسکتا۔یہ حضرات یہ ترکیب بتاتے ہیں  کہ ظہرکو آخروقت میں پڑھ لیاجائےاور عصرکو اول وقت میں ۔اس طرح  ظاہری طورپر ان کو جمع کیاجاسکتا ہے۔اسے اصطلاح میں ’جمع صوری‘ کہتے ہیں ۔
دوسرے فقہا کے نزدیک متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حالتِ سفر میں نمازوں کو جمع کیاہے۔ذیل میں دوروایتیں پیش کی جاتی ہیں 
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوپہر میں  سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کی نمازکو مؤخر کرتے تھے پھر عصر کا وقت ہونے پر دونوں کو جمع کرتے تھے(دوسری روایت میں  ہے) اوراگر سورج ڈھلنے کے بعد سفر شروع کرتے تو ظہر اور عصر دونوں نمازیں  پڑھ کر سواری پر بیٹھتے تھے‘‘۔ (بخاری۱۱۲، مسلم۷۰۴، بیہقی ۳؍۱۶۲)
حضرت معاذؓ بیان کرتے ہیں ’’ہم غزوۂ تبوک میں  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ آپ ظہر اورعصر کو جمع کرتے تھے۔اسی طرح مغرب اورعشا کو بھی ۔‘‘ (مسلم۷۰۶)
جوفقہاجمع بین الصلوٰتین کے قائل ہیں وہ جمع تقدیم اورجمع تاخیردونوں کی اجازت دیتے ہیں ،یعنی ظہر اورعصر کی دونوں نمازیں  ظہر کے وقت میں  بھی پڑھی جاسکتی ہیں  اور عصر کے وقت میں  بھی۔اسی طرح مغرب اورعشاء کی نمازیں  مغرب کے وقت میں بھی پڑھی جاسکتی ہیں اور عشاء کے وقت میں  بھی ۔
اگرآدمی کو امید ہوکہ وہ رات کسی وقت اپنی منزل پرپہنچ جائے گا تو بھی وہ مغرب کے وقت میں مغرب اورعشاء دونوں کو جمع کرسکتا ہے۔اگر وہ جمع نہ کرے اور مغرب کی نماز بھی ادانہ کرے،بلکہ منزل پرپہنچنے کے بعد مغرب اور عشاء دونوں نمازیں پڑھے تو اس کی مغرب کی نمازقضا سمجھی جائے گی اورعشاء کی نمازوقت میں  اداہوگی۔