شادی کے بعد بیوی کی کفالت

ہمارے ایک دوست ہیں ، جن کی دو بہنیں ہیں ۔ ایک بہن کی شادی ہوگئی ہے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے۔ دوسری بہن غیر شادی شدہ ہے۔ والدین بھی باحیات ہیں ۔ ایک ماہ قبل ان صاحب کی شادی ہوئی ہے۔ یہ سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں ۔ پاسپورٹ اور ویزا کے مسائل کی وجہ سے ابھی ان کے لیے اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے جانا ممکن نہیں ہے، جب کہ ارادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کے سعودی عرب جانے کے بعد ان کی بیوی اپنے میکے میں رہے یا سسرال میں ؟ واضح رہے کہ دونوں خاندانوں کی معاشی اور سماجی حالت بہتر ہے اور ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سسرال والے اپنی بہو کو اور میکے والے اپنی لڑکی کو اپنے یہاں رکھنے پر تیار ہیں ۔ یہ بھی واضح فرمائیں کہ اگر ان کی بیوی اپنے میکے میں رہے تو کیا وہ ان سے نان و نفقہ پانے کی مستحق ہوگی؟اگر ہاں تو اس کی مقدار کیا ہوگی؟
جواب
شادی کے بعد بیوی کی کفالت اور اس کا نان و نفقہ شوہر کی ذمے داری ہے۔ اگر کسی وجہ سے شوہر بیوی کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا تو کہاں رکھے اس کا نظم کرنا اور اس کے مصارف برداشت کرنا شوہر کی ذمے داری ہے۔ اب بیوی چاہے اپنے میکے میں رہے یا سسرال میں ، اس کے جملہ مصارف شوہر کے ذمے ہوں گے۔ نان و نفقہ کی کوئی مقدار متعین نہیں کی گئی ہے۔ قرآن حکیم کی رو سے شوہر کی مالی اور معاشی حیثیت کے مطابق وہ کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔ (الطلاق: ۷) شادی کے بعد شوہر کے والدین یا اس کی غیر شادی شدہ بہن کی خبر گیری بیوی کی ذمے داری نہیں ہے ، لیکن اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ شوہر کی خوش نودی اور محبت حاصل کرنے کے لیے وہ اس کے متعلقین اور گھر والوں کا خیال رکھے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بیوی اس معاملے میں شوہر کی مرضی کے مطابق کام کرے۔ وہ اس کے گھر والوں کے ساتھ رہے اور شوہر کی اجازت سے کچھ دن اپنے میکے بھی چلی جایا کرے۔ اس پورے عرصے میں وہ شوہر سے نان و نفقہ پانے کی حق دار ہوگی۔

Leave a Comment