صدقہ کے طورپر جانور ذبح کرنا

میرے چچا بہت بیمار تھے۔ انھوں نے صدقہ کے طورپر بکراذبح کرنا چاہا ، لیکن لوگوں نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ جان کے بدلے جان نہیں لینا چاہیے۔ اگر آپ بیماری کی وجہ سے صدقہ کرنا چاہتے ہیں تو مال صدقہ کردیں ۔ بعض لوگوں  نے کہا کہ جان کے بدلے جان لینے کا تصور ہندومذہب میں  پایا جاتا ہے ، اسلام میں  یہ چیز جائز نہیں ہے۔ اس بنا پر یہ معاملہ الجھ گیا ہے اورہمارے خاندان کے لوگ کنفیوژن کاشکارہوگئے ہیں ۔ بہ راہ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں ۔ کیا مذکورہ صورت میں صدقہ کے طورپر جانور ذبح کرنا شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے؟
جواب
اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تمام چیزیں  انسانوں کی منفعت کے لیے پیدا کی ہیں ۔ قرآن کریم میں  ہے: ھُوَالَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۝۰ۤ (البقرۃ ۲۹:) ’’وہی تو ہے جس نے تمہارے لیےزمین کی ساری چیزیں پیدا کیں ۔‘‘ ان میں سے چوپائے بھی ہیں کہ انھیں باربرداری کے لیے استعمال کیاجاتا ہے اوران کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اَللہُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْہَا وَمِنْہَا تَاْكُلُوْنَ۝۷۹ۡ (المؤمن۷۹:) ’’اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں ،تاکہ ان میں  سے کسی پر تم سوارہواور کسی کا گوشت کھائو۔‘‘ عام حالات میں حلال جانوروں کو ذبح کرکے ان کا گوشت کھایا جاسکتا ہے اوربہ طور صدقہ اسے تقسیم بھی کیا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح پالتو جانوروں کی قربانی کی جاسکتی ہے۔ یہ تمام صورتیں اسلامی شریعت میں جائز ہیں ۔ کسی مناسبت سے جانورذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کرنے کو ’جان کے بدلے جان لینا ‘کہہ کر اس سے روکنا صحیح نہیں  ہے اورنہ اسے ہندوانہ تصور قراردینا درست ہے۔البتہ اگر بہ طورصدقہ جانورذبح کیاجائے تو اس کا پورا گوشت صدقہ کرنا ضروری ہے ، اس میں سے کچھ حصہ اپنے استعمال میں  لانا جائز نہیں ہے۔

Leave a Comment