طلاق بہ طور ہتھیار

شوہر بیوی کے درمیان ناخوش گواری کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ شوہر بات بات پر گالم گلوچ کرتا ہے اور بیوی کو زبان سے اذیت پہنچاتا ہے۔ وہ بات بات پر کہتا ہے کہ میں تجھ کو طلاق دے دوں گا۔ کیابار بار طلاق کا لفظ دہرانے سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟
جواب
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ’ میں نے طلاق دے دی ‘ تبھی طلا ق نافذ ہوگی۔ وہ بیوی سے ہزار بار کہے کہ میں تجھ کو طلاق دے دوں گا، اس کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ اصل میں بعض لوگ طلاق کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ ان کے خیال میں بیوی سرکشی پر آمادہ ہوتی ہے تو اس کو قابو میں کرنے کے لیے دھمکی دیتے ہیں کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا۔ اس دھمکی سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ میں نے طلاق دے دی تو وہ طلاق نافذ ہوجائے گی۔

Leave a Comment