طلاق کے بعد حلالہ کا حکم

میں فوج میں ملازمت کر رہا ہوں ۔ میرے بہت سے ساتھی غیرمسلم ہیں ، وہ وقتاً فوقتاً اسلام پر اعتراض کرتے رہتے ہیں ۔ ایک موقعے پر ایک صاحب نے یہ اعتراض کیا کہ ’’اسلام میں بیوی کو طلاق دینے کے بعد اسے واپس لینے کے لیے حلالہ کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ یہ تو طوائف گیری جیسا کام ہوا۔‘‘ میں نے انھیں جواب دینے کی کوشش کی لیکن اس جواب سے وہ مطمئن نہ ہوسکے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس اعتراض کا اطمینان بخش جواب مرحمت فرمائیں ۔ یہ اعتراض عموماً غیرمسلموں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔
جواب
آپ کے غیرمسلم دوست کا اعتراض یہ ہے کہ ’’اسلام میں بیوی کو طلاق دینے کے بعد اسے واپس لینے کے لیے حلالہ کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے، یہ تو طوائف گیری جیسا کام ہوا۔‘‘ انھوں نے پہلے تو اپنی طرف سے یہ فرض کرلیا کہ ’’اسلام میں حلالہ کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے‘‘ اور پھر اس پر اعتراض جڑدیا۔ اس سے واضح ہورہاہے کہ وہ اسلام کے ضابطۂ طلاق کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیں ۔ اس غلط فہمی میں اضافہ مسلمانوں کی بدعملی سے ہوتا ہے، جو نہ صرف یہ کہ اسلام کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل نہیں کرتے، بلکہ اپنی ذاتی خواہشات پوری کرنے کے لیے ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں ، جنھیں اسلام میں سخت ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ سطور ذیل میں اسلام کے ضابطۂ طلاق کی مختصر وضاحت کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ اس سے مذکورہ اعتراض خود بہ خود رفع ہوجائے گا۔ اسلام نے معاشرتی زندگی کے، جو اصول دیے ہیں وہ انسانی نفسیات سے پوری طرح ہم آہنگ اور حکمتوں پر مبنی ہیں ۔ اس نے نکاح کا مقصد نسل انسانی کی بقا کے ساتھ زوجین کے مابین ہم آہنگی اور باہم محبت و مودت قرار دیا ہے اور زوجین کو ایک دوسرے کے لیے باعث سکون قرار دیا ہے۔ قرآن میں ہے: وَ مِنْ ٰ ایٰـتـِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً ط (الروم:۲۱) ’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں ، تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔‘‘ طلاق کو وہ سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اَبْغَضُ الْحَلاَلِ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی الطَّلاَقُ ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز کاموں میں سب سے ناپسندیدہ کام طلاق دینا ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب فی کراھیۃ الطلاق، حدیث: ۲۱۷۸، ضعّفہ الألبانی) دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’شیطان کو سب سے زیادہ خوشی اس بات سے ہوتی ہے کہ کسی خاندان کا شیرازہ منتشر ہوجائے اور میاں بیوی میں علیحدگی ہوجائے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: ۲۸۱۳) طلاق کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دینے کے باوجود اسلام نے اس پر پابندی عائد نہیں کی اور اسے یکلخت ممنوع نہیں قرار دیا، اس لیے کہ ایسا کرنا معاشرتی تقاضوں اور مصلحتوں کے برخلاف ہوتا۔ بسا اوقات زوجین میں ذہنی ناموافقت پائی جاتی ہے، اس وجہ سے یا دیگر اسباب سے، باوجود ہزار کوششوں کے ان کی یکجائی ممکن نہیں رہتی۔ ایسے حالات میں ایک صورت تو یہ تھی کہ ایک بار نکاح ہوجانے کے بعد زوجین کو مجبور کیا جائے کہ وہ ہر حال میں نباہ کریں ، خواہ ایک دوسرے کو کتنا ہی ناپسند کرتے ہوں اور خواہ ان میں ادنیٰ سی بھی موافقت نہ پائی جاتی ہو۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں کو اختیار دے دیا جائے کہ اگر باوجود ہزار کوششوں کے کسی بھی صورت میں نباہ ممکن نہ ہو تو خوش اسلوبی کے ساتھ علیٰحدگی اختیار کرلیں ۔ اسلام نے دونوں صورتوں میں سے دوسری صورت اختیار کی ہے، اس لیے کہ یہی انسانی نفسیات اور معاشرتی تقاضوں کے عین مطابق تھی۔ جن مذاہب نے (مثلاً ہندو مت اور عیسائیت) پہلی صورت کو ترجیح دی اور طلاق پر قطعی پابندی عائد کردی ہے ان میں زوجین ناموافقت کی صورت میں گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ، یا شوہر اور اس کے گھر والے عورت سے گلو خلاصی کے لیے اسے نذر آتش کردینے میں عافیت محسوس کرتے ہیں ۔ اس قسم کے واقعات آئے دن ہمارے مشاہدے میں آتے رہتے ہیں ۔ اسلام نے طلاق کی اجازت بہ درجۂ مجبوری اس وقت دی ہے جب زوجین کے درمیان موافقت کی تمام تدابیر ناکام ہوگئی ہوں ۔ اس سے پہلے وہ متعدد اقدامات کی ہدایات کرتا ہے اور طلاق بھی وہ تدریجاً دینے کا حکم دیتا ہے۔ ان اقدامات کی تفصیل یہ ہے۔ ۱-اگر بیوی کی طرف سے نافرمانی اور سرکشی کا مظاہرہ ہو تو اسلام نے مرد کو حکم دیا ہے کہ وہ اسے سمجھائے بجھائے۔ اس کا بستر جدا کردے اور ضرورت ہو تو اسے ہلکی جسمانی سزا دے۔ قرآن میں ہے: وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّج فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلاً ط (النساء: ۳۴) ’’اور جن عورتوں کی سرکشی کا تمھیں اندیشہ ہو ان کو سمجھاؤ، ان کے بستر جدا کردو اور انھیں مارو۔ اگر وہ اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرو۔‘‘ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بیوی کو ایسی مار مارنے سے منع فرمایا ہے، جس سے اس کا بدن زخمی ہوجائے ۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الحج۔ باب حجۃ النبی) گھر میں رہتے ہوئے قطع تعلق ایک ایسی سزا ہے، جسے بیوی زیادہ دنوں تک نہیں جھیل سکتی۔ لامحالہ وہ شوہر کی اطاعت و فرماں برداری پر مجبور ہوگی۔ ۲- بسا اوقات زوجین کو ایک دوسرے سے ایسی شکایات ہوتی ہیں ، جن کا وہ خود باہم مل کر ازالہ کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں اسلام حکم دیتا ہے کہ دونوں کے خاندان کا ایک ایک نمائندہ مل بیٹھ کر تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کریں ۔ قرآن میں ہے: وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَاج اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَاط (النساء:۳۵) ’’اگر تم میں میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک حکم (فیصلہ کرنے والا) شوہر کے گھر والوں میں سے اور ایک حکم بیوی کے گھر والوں میں سے بھیجو، اگر وہ دونوں معاملہ کو سدھارنا چاہیں تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کردے گا۔ ‘‘ ۳- اگر اس صورت میں بھی مسئلہ جوں کا توں باقی رہے تو اسلام حکم دیتا ہے کہ شوہر بیوی کو صرف ایک طلاق طہر (یعنی جب ماہواری نہ آرہی ہو) کی حالت میں دے۔ طہر کی شرط اس لیے ہے کہ اس حالت میں معمول کے تعلقات زن و شو ہونے سے سنجیدہ طلاق کی توقع کی جاسکتی ہے، جب کہ حالت حیض میں اس تعلق کے نہ ہونے سے غصے، جھنجھلاہٹ اور رد عمل کی کیفیات کی شمولیت ہوسکتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بیوی کو اپنے رویہ پر غور کرنے کا موقع مل سکے اور شوہر بھی اپنے اقدام پر سنجیدگی سے غور کرسکے۔ اس کو طلاق رجعی کہتے ہیں ۔ یعنی شوہر عدت کے اندر جس وقت چاہے بیوی کو واپس لے سکتا ہے۔ محض زبان سے واپس لینے کا اظہار یا عمل سے اس کا ثبوت کافی ہے۔ نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر عدت گزر جائے تو ازسر نو نکاح کی ضرورت ہوگی۔ ۴- اگر ایک طلاق واقع ہوجانے کے باوجود زوجین دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے پر آمادہ نظر نہ آئیں تو اسلام شوہر کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اگلے طہر میں دوسری طلاق دے۔ یہ طلاق بھی رجعی ہوگی، یعنی عدت کے اندر شوہر رجوع کرسکتا ہے۔ لیکن اگر عدت گزر جائے تو یہ طلاق بائن ہوجائے گی یعنی ان دونوں کے درمیان علیٰحدگی ہوگئی، ان کا ازدواجی تعلق ختم ہوگیا اور بیوی کی حیثیت عام عورتوں کی سی ہوگئی۔ اب اگر شوہر اسے واپس لینا چاہے تو اس طرح واپس نہیں لے سکتا، جس طرح طلاق رجعی کے بعد اسے واپس لینے کا اختیار تھا، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اب اسے واپس لینے کی کوئی صورت نہ ہو، بلکہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ اگر دو طلاق کے بعد وہ دوبارہ ازدواجی زندگی گزارنے پر رضا مند ہوجائیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں ۔ البتہ اس کے لیے ان کے درمیان از سر نو نکاح ہونا ضروری ہے۔ قرآن میں ہے: اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِص فَاِمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌم بِاِحْسَانٍط (البقرہ:۲۲۹) ’’طلاق دو مرتبہ ہے اس کے بعد یا تو شوہر بیوی کو اچھی طرح رکھے یا خوش اسلوبی سے چھوڑدے ۔‘‘ از سر نو نکاح کی صورت میں عورت دوبارہ مہر کی مستحق ہوگی ۔ ۵-اگر دو طلاق کے بعد وہ ازسر نو نکاح کرکے ازدواجی زندگی گزارنے پر رضا مند تو ہوجائیں ، لیکن ان کے درمیان موافقت اور سدھار پائیدار نہ ہو اور پھر ایسے اختلافات رونما ہوجائیں کہ وہ قطع تعلق پر آمادہ ہوجائیں تو اسلام انھیں اس آزادی اور حق سے محروم تو نہیں کرتا، لیکن ساتھ ہی شوہر کو سخت تاکید کرتا ہے کہ وہ تیسری مرتبہ طلاق بہت سوچ سمجھ کر دے۔ طلاق بچوں کا کھیل نہیں کہ جب جی چاہا بیوی کو طلاق دے دی اور جب جی چاہا اسے واپس لے لیا۔ وہ نکاح کو ایک محترم و مقدس رشتہ قرار دیتا ہے۔ اس کے تقدس کو قائم رکھنے کے لیے ہی وہ شوہر کو وارننگ دیتا ہے کہ اگر اس نے تیسری مرتبہ بھی طلاق دے دی تو اب بیوی اس کے لیے قطعاً حرام ہوجائے گی۔ اب وہ اسے واپس نہیں لے سکتا۔ جو شوہر اپنی بیوی کو ایک بار نہیں ، دو بار نہیں ، بلکہ تین بار طلاق دے چکا ہو وہ اس قابل نہیں کہ اب وہ عورت اس کی بیوی بن کر رہ سکے۔ وہ اس مرد کو اس عورت سے بالکلیہ محروم کرکے اب سماج کے دوسرے مردوں کو اجازت دیتا ہے کہ اس عورت کو بے یار و مددگار نہ چھوڑیں ، بلکہ اسے اپنی زوجیت میں لیں ۔ اس عورت کے پہلے شوہر کی حیثیت اب عام مردوں کی سی ہوگئی۔ وہ اس عورت سے دوبارہ نکاح اس لیے نہیں کرسکتا کہ وہ کسی دوسرے کی زوجیت میں چلی گئی ہے۔ لیکن اگر دوسرا شوہر بھی اسے طلاق دے دے یا اس کی وفات ہوجائے اور اب وہ دونوں (یعنی عورت اور اس کا پہلا شوہر) پھر رشتۂ زوجیت میں منسلک ہونا چاہیں تو اسلام انھیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ قرآن میں ہے: فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗط فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِط (البقرہ:۲۳۰) ’’پھر اگر شوہر (تیسری مرتبہ) طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہ ہوگی، جب تک کہ کسی دوسرے مرد سے اس کا نکاح نہ ہوجائے اور وہ اسے طلاق نہ دے دے (اگر دوسرا شوہر بھی اسے طلاق دے دے) تو کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ دونوں دوبارہ باہم نکاح کرنا چاہیں ۔ اگر انھیں امید ہو کہ وہ اللہ کی بتائی ہوئی حدود پر قائم رہیں گے۔‘‘ اسلام کے نظام طلاق کو اتنی تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی، تاکہ واضح ہوسکے کہ اس نے، جن حالات میں طلاق کی اجازت دی ہے اور اس کا جو طریقہ بتایا ہے وہ سراسر انسانوں کے لیے رحمت ہے اور اس میں انسانی نفسیات اور معاشرتی پیچیدگیوں اور ضرورتوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ غلط فہمی در اصل مسلمانوں کے اسلامی طریقہ طلاق سے ناواقفیت اور غلط طریقے سے طلاق دینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ آج کل مسلمان کسی بات پر طیش میں آکر بیک زبان تین طلاقیں دے کر بیوی کو علیحدہ کردیتا ہے اور اس آسانی سے خود کو محروم کرلیتا ہے، جو اسے اسلام نے تین طہروں میں الگ الگ طلاق دینے کا حکم دے کر فراہم کی تھی۔ پھر جب جلد ہی اپنے کیے پر پچھتاتا ہے تو بیوی کو واپس لینے کی کوئی تدبیر اس کے سامنے نہیں ہوتی، اس کے سوا کہ وہ کسی دوسرے شخص کو اس بات پر رضا مند کرلے کہ وہ اس عورت سے نکاح کرکے اسے طلاق دے دے، تاکہ دوبارہ اس کے لیے اس عورت سے نکاح جائز ہوجائے۔ اس عمل کو حلالہ کہتے ہیں ۔ یقینا یہ ایک غلط طریقہ ہے۔ جو شخص حلالہ کرواتا ہے وہ بھی غلط کام کرتا ہے اور جو شخص اس پر رضا مند ہوتاہے وہ بھی ایک گھناؤنی حرکت کرتا ہے۔ اسلام میں اس طریقے کو سخت ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے: ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ۔ (سنن ابن ماجہ۔ کتاب النکاح، باب المحلّل والمحلَّل لہ، حدیث: ۱۹۳۴، ۱۹۳۵) ’’جو شخص حلالہ کرتا ہے اور جو شخص حلالہ کرواتا ہے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں آپؐ نے ایسے شخص کے بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’کرایے کا سانڈ‘ (التِّیْسُ الْمُسْتَعَار) قرار دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حوالہ سابق حدیث: ۱۹۳۶) آخری بات یہ کہ غیرمسلم بھائیوں سے گفتگو کرتے وقت ترجیحات طے کرلینی چاہیں ۔ جب تک اصول و کلیات کے سلسلے میں ذہن صاف نہ ہو، جزئیات پر گفتگو نہ صرف یہ کہ نتیجہ خیز نہیں ہوسکتی، بلکہ اکثر و بیش تر التباس اور سوال در سوال کا پیش خیمہ بھی بنتی ہے۔

Leave a Comment