قرآن مجید میں  آیات ِ سجدہ

قرآن مجید میں  اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم پندرہ(۱۵) مقامات پرسجدہ کریں ۔ پھر ہم صرف چودہ(۱۴) مقامات پرسجدہ کیوں کرتے ہیں ؟ ایک مقام پرسجدہ کیوں چھوڑدیتے ہیں ؟ کیا ایک امام کی پیروی اللہ اوراس کے رسول کی پیروی سے بڑھ کر ہے؟ براہِ کرم سنن ابی داؤد کی یہ حدیث (نمبر ۱۴۰۲) ملاحظہ کیجیے۔ حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:کیا سورئہ حج میں دوسجدے ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا:’’ ہاں  اورجس نے ان آیتوں پرسجدہ نہیں کیا، اس نے گویا ان کی تلاوت ہی نہیں کی۔‘‘
جواب
سورئہ حج میں دوسجدے ہیں : ایک آیت نمبر ۱۸ پر اور دوسرا آیت نمبر ۷۷ پر۔ دوسرا سجدہ امام شافعیؒ کے نزدیک ہے، امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نہیں ہے۔ فقہاء کے درمیان اس طرح کے بہت سے اختلافات ہیں ۔ اسے اللہ اور رسول کو چھوڑ کر امام کی پیروی نہیں قراردیا جاسکتاہے۔ قرآن مجید میں پندرہ(۱۵) ایسے مقامات ہیں  جہاں سجدئہ تلاوت کیا جاتاہے۔ان میں  سے کچھ پر علماء کا اتفاق ہے اورکچھ پر اختلاف ۔متفق علیہ مقامات دس(۱۰) ہیں : (۱)الاعراف۲۰۶:(۲) الرعد۱۵:(۳)النحل۵۰:(۴) الاسراء۱۰۹:(۵) مریم۵۸: (۶) الحج ۱۸: (۷)النمل ۲۷: (۸)السجدۃ ۱۵: (۹)الفرقان ۶۰: (۱۰) حم السجدۃ ۳۸: پانچ مقامات پر سجدئہ تلاوت کیے جانے کے معاملے میں  اختلاف ہے: (۱) الحج۷۷: شوافع اورحنابلہ اس پر سجدئہ تلاوت کے قائل ہیں  ۔ ان کی دلیل سنن ابی داؤد کی وہ حدیث ہے جو اوپر سوال میں  درج کی گئی ہے۔ صحابہ کرام میں حضرات عمر، علی ، عبداللہ بن عمر، ابوالدرداء اورابوموسیٰ رضی اللہ عنہم کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیہ اورمالکیہ اس مقام پرسجدئہ تلاوت کے قائل نہیں ہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ مشہور صحابی حضرت ابی بن کعبؓ نے قرآن مجید کے وہ مقامات گنائے جہاں  انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدئہ تلاوت کرنے کی ہدایت سنی تھی ، تو انھوں نے سورئہ حج میں ایک ہی سجدہ (آیت نمبر ۱۸) بتایا۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباسؓ اورحضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ سورئہ حج کی آیت ۱۸ پرسجدہ تلاوت ہے اورآیت ۷۷ پر سجدئہ نماز۔ وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں بھی سجدہ کے ساتھ رکوع کا تذکرہ آیا ہے وہاں سجدئہ نماز مراد ہوتا ہے ، سجدئہ تلاو ت نہیں ۔مثلاً سورئہ اٰل عمران کی آیت ۴۳ یہ ہے :يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ۝۴۳(اے مریم! اپنے رب کی تابع فرمان بن کررہ ، اس کے آگے سربہ سجود ہواورجو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ توبھی جھک جا) ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ الحج ۔۷۷ پرمدینہ کے فقہاء وقراء سجدئہ تلاوت نہیں کرتے تھے۔ (بدائع الصنائع: ۱؍۱۹۳ : فتح القدیر: ۱؍۳۸۱، جواہرالاکلیل: ۱؍۷۱) (۲) سورئہ ص میں  حنفیہ اورمالکیہ کے نزدیک سجدئہ تلاوت ہے ۔البتہ حنفیہ کے نزدیک آیت نمبر ۲۵ (فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِكَ۝۰ۭ وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَـزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ۝۲۵ ) پر اورمالکیہ کے نزدیک آیت نمبر ۲۴ (وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہٗ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ۝۲۴۞) پرہوگا ۔ شوافع اورحنابلہ کے نزدیک سورئہ ص میں سجدئہ تلاوت ضروری نہیں ۔ اس میں سجدئہ شکر ہے۔ (۳) النجم ۶۲: (۴) الانشقاق ۲۱: (۵) العلق ۱۹: جمہورفقہاء ان تین مقامات پرسجدئہ تلاوت کے قائل ہیں  ،البتہ امام مالک ؒ اس کا انکار کرتے ہیں ۔ فقہاء نے اپنی آرا کے حق میں دلائل دیے ہیں ۔ یہاں  ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیےالموسوعۃ الفقھیۃ ،کویت ، جلد ۲۴،صفحات ۲۱۶:۔۲۲۰۔

Leave a Comment