قربانی کے بعض مسائل

قربانی کے بارے میں بسا اوقات طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں ، جن کی بنا پر ذہن الجھن کا شکار ہوجاتا ہے، بہ راہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہ نمائی فرمائیں : ۱- کیا کسی مرحوم شخص کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے؟ بعض حضرات اس پر اشکال وارد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی میت کے نام سے قربانی جائز نہیں ہے۔ ۲- بعض حضرات اپنے علاوہ اپنے بیوی بچوں ، ماں باپ اور دیگر اعز ّہ کی طرف سے بھی قربانی کرتے ہیں ۔ اس کے لیے وہ کئی چھوٹے جانور ذبح کرتے ہیں یا بڑے جانوروں میں کئی حصے لیتے ہیں ۔ بیوی اگر صاحب نصاب ہو تو کیا اس کا الگ سے قربانی کروانا ضروری ہے؟ ۳- بعض حضرات سے یہ بھی سننے کو ملا کہ جانور کا خصی کرانا اس میں عیب پیدا کرتا ہے۔ حدیث میں عیب دار جانور کی قربانی سے منع کیا گیا ہے۔ اس لیے خصی کیے گئے جانور کی قربانی جائز نہیں ۔
جواب
آپ کے دریافت کیے گئے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں : ۱- میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ دو مینڈھوں کی قربانی کی۔ ایک اپنی طرف سے اور دوسری اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے جو اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے قربانی نہ کرسکے ہوں ۔ اس حدیث کو ابو یعلی اور بیہقی نے روایت کیا ہے اور ہیثمی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے ایک مرتبہ دو مینڈھوں کی قربانی کی۔ ان کے شاگرد حنش نے دریافت کیا کہ یہ دوسرا کس کی طرف سے ہے؟ فرمایا: یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہے۔ آپؐ نے مجھے ایسا کرنے کو کہا تھا۔ اس لیے میں برابر ایسا ہی کرتا ہوں ۔ (ابو داؤد: ۲۷۹۰، ترمذی: ۱۴۹۵) امام ترمذی نے اس روایت کو ’غریب‘ کہا ہے۔ علامہ البانی نے ابو داؤد اور ترمذی دونوں کی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ امام ترمذی نے لکھا ہے کہ بعض اہل علم میت کی طرف سے قربانی کی اجازت دیتے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کہتے ہیں : میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ میت کی طرف سے قربانی نہ کی جائے، بل کہ اس کی طرف سے صدقہ کردیا جائے۔ اور اگر قربانی کی جائے تو قربانی کرنے والا اس کا کچھ بھی گوشت نہ کھائے، بل کہ سب صدقہ کردے۔ (ترمذی، ابواب الاضاحی، باب ماجاء فی الأضحیۃ عن المیت) فقہاء میں سے احناف اور حنابلہ میت کی طرف سے قربانی کرنے کو مطلق اور مالکیہ کراہت کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں ۔ البتہ شوافع اسے ناجائز کہتے ہیں ۔ ان کے نزدیک میت کی طرف سے اسی صورت میں قربانی کی جاسکتی ہے جب میت نے اس کی وصیت کی ہو یا وقف کیا ہو۔ جواز کے قائلین کا استدلال یہ ہے کہ مالی عبادت دوسرے شخص کی طرف سے کی جاسکتی ہے۔ چناں چہ جس طرح صدقہ یا حج میت کی طرف سے کیا جاسکتا ہے، اسی طرح اس کی طرف سے قربانی بھی کی جاسکتی ہے۔ دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والا اسی طرح اس کے گوشت کو کھا سکتا ہے، جس طرح وہ اپنی قربانی کا گوشت کھا سکتا ہے۔ البتہ اگر میت نے قربانی کی وصیت کی ہو تو پورے گوشت کو صدقہ کردینا ضروری ہے۔ ۲- ایک شخص اپنی طرف سے ایک جانور کی بھی قربانی کرسکتا ہے اور ایک سے زائد جانوروں کی بھی۔ اسی طرح وہ اپنے متعلقین کی جانب سے بھی قربانی کرسکتا ہے اور پورے گھر والوں کی طرف سے ایک جانور کی قربانی بھی کفایت کرسکتی ہے۔ احادیث میں ہر صورت کا بیان موجود ہے: حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپؐ نے اپنے ہاتھوں سے انھیں ذبح کیا۔ (بخاری: ۵۵۵۸، مسلم: ۱۹۶۶) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے اور دیگر ازواج ِ مطہرات کے سفر ِ حج کے احوال بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ آپؐ نے اپنی ازواج کی طرف سے گایوں کی قربانی کی۔ (بخاری: ۵۵۵۹، مسلم: ۱۲۱۱) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مینڈھے کی قربانی کی۔ اسے ذبح کرتے وقت آپؐ نے یہ دعا پڑھی: ’’اے اللہ اسے قبول کرلے،محمد کی طرف سے، آلِ محمد کی طرف سے اور امت محمد کی طرف سے‘‘ (مسلم: ۱۹۶۷) دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی۔ ایک محمد اور آل محمد کی طرف سے اور دوسرا امت ِ محمد کی طرف سے۔ (ابن ِ ماجہ: ۳۱۲۲) عطا بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں نے صحابی ِ رسول حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے دریافت کیا: عہد ِ رسول میں کس طرح قربانیاں کی جاتی تھیں ؟ انھوں نے جواب دیا: اس زمانے میں آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتا تھا۔ تمام لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔ بعد میں لوگوں میں فخر و مباہات کے طور پر زیادہ سے زیادہ جانوروں کی قربانی کا جذبہ پیدا ہوگیا اور ان کا ویسا حال ہوگیا جیسا تم دیکھ رہے ہو۔‘‘ (ترمذی: ۱۵۰۵) ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے معاملے کو آدمی کی صواب دید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہ حسب ِ توفیق جتنے جانور چاہے قربان کرسکتا ہے۔ البتہ اس نیک عمل کو اخلاص کے ساتھ اور اجر و ثواب کی امید میں انجام دینا چاہیے۔ فخر و مباہات کے جذبے اور ریا کاری کے شائبے سے بچنا چاہیے۔ ۳- خصی کیے گئے جانور کی قربانی جائز ہے۔ ناجائز ایسے جانور کی قربانی ہے، جس میں کوئی ایسی تبدیلی قدرتی طور پر یا بعد میں پیدا ہوگئی ہو، جس کا شمار عموماً عیب میں کیا جاتا ہو۔ خصی کیے جانے کو عیب نہیں سمجھا جاتا۔ بل کہ ایسے جانوروں کا گوشت زیادہ عمدہ اور لذیذ ہوتا ہے، اس میں بدبو نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ سے خصی کیے گئے جانور کی قربانی ثابت ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے دو خصی کیے ہوئے موٹے تازے مینڈھوں کی قربانی کی۔ (ابن ِ ماجہ: ۳۱۲۲، احمد، ۵/۱۹۶، ۶/۸، ۲۲۰، ۲۲۵)

Leave a Comment