مجلس کے آداب

اجتماعات میں ہمارے بعض ساتھی دیر سے پہنچتے ہیں ۔ کوئی شخص دیر سے پہنچے تووہ خاموشی سے بیٹھ جائے یاسلام کرکے بیٹھے ؟ اگروہ سلام کرے تو کیا مجلس کے کسی ایک فرد کی طرف سے سلام کا جواب دے دینا کافی ہے؟ اسی طرح اگرکبھی کوئی شخص تنہا قرآن کی تلاوت کررہا ہویا کسی دینی کتاب کا مطالعہ کررہا ہو اور دوسرا شخص وہاں آکر اس کو سلام کرے توکیا اس کے لیے سلام کا جواب دینا ضروری ہے؟ یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ کیا کسی مجلس میں بیٹھے ہوئے شخص کے لیے انگلیاں چٹخانے کی ممانعت احادیث میں آئی ہے ؟
جواب
سلام اسلام کا شعار ہے ۔ حدیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لاَتَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی تُوْمِنُوْا، وَلاَ تُوْمِنُوْا حَتّٰی تَحَابُّوْا ، اَوَلاَ اَدُلُّکُمْ عَلَی شَیِ ءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ ، اَفْشُوْ ا السَّلاَمَ بَیْنَکُمْ (مسلم : ۵۴) ’’تم لوگ جنت میں نہیں جاؤگے جب تک ایمان نہ لے آؤ اورتمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو ۔ کیا میں تمہیں ایک ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں کہ اگر اسے کرنے لگو توتمہارے درمیان آپس میں محبت پیدا ہوجائے گی۔ اپنے درمیان سلام کوعام کرو۔‘‘ علما نے بعـض ایسے مواقع کی نشان دہی کی ہے جب سلام کرنا مناسب نہیں ۔ مثلاً مؤذن ، نمازی، حالتِ احرام میں تلبیہ کہنے والے، تلاوتِ قرآن یا ذکر ودعا میں مشغول شخص کو سلام نہیں کرنا چاہیے۔ خطبۂ جمعہ کے دوران جوشخص مسجد پہنچے اس کوبھی سلام کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، اس لیے کہ خطبے کوخاموشی سے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص کھانا کھانے میں مصروف ہو،یا رفع حاجت کررہا ہوتواسے بھی سلام کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ان مواقع پر اگر کوئی شخص سلام کرلے توجس کوسلام کیا گیا ہے اس کا جواب دینا ضروری نہیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گز ر ا ۔ اس وقت آپؐ  پیشاب کررہے تھے ۔ اس نے آپ کو سلام کیا ، مگر آپ نے جواب نہیں دیا ۔ ( مسلم : ۳۷۰ ) کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تواس کوسلام کرنا چاہیے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اِذَا انْتَہٰی اَحَدُکُمْ اِلٰی مَجْلِسٍ فَلْیُسَلِّمْ (ترمذی۲۷۰۶:) ’’ کوئی شخص کسی مجلس میں جائے توسلام کرے۔‘‘ البتہ احتیاط کرنی چاہیے کہ اگر پروگرام شروع ہوگیا ہو تواتنی زور سے سلام نہ کرے کہ تمام حاضـرین کے انہماک میں داخل پڑے،یا خطیب کاذہن بٹ جائے، بلکہ اتنے دھیرے سے سلام کرےکہ پیچھے بیٹھے ہوئے چند لوگ سن لیں ۔ سب کا جواب دینا بھی ضروری نہیں ، بلکہ ان میں سے کوئی ایک بھی جواب دے دے تو سب کی طرف سے کفایت کرے گا۔ مجلس میں انگلیاں چٹخانے کی ممانعت میں کوئی حدیث مروی نہیں ہے ، لیکن اسے آدابِ مجلس کے خلاف سمجھا گیا ہے۔ خاص طور سے مسجد میں دورانِ نمازیا نماز سے باہر اسے مکروہ کہا گیا ہے ۔ شعبہؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پہلومیں نماز ادا کی ۔ دورانِ نماز میں  میں نے انگلیاں چٹخائیں تو انہوں نے نماز کے بعد مجھے ڈانٹا(مصنف ابن ابی شیبہ: ۲؍۳۴۴)حضرت ابراہیم نخعیؒ اور مجاہدؒ بھی نماز میں انگلیاں چٹخانے کوناپسند کرتے تھے (حوالہ سابق)

Leave a Comment