مرنے کے بعد آنکھوں کی وصیت

کیا کوئی شخص یہ وصیت کرسکتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی آنکھیں کسی مستحق کودے دی جائیں ؟ آج کل آنکھوں کے عطیے(Eye Donation) کی ترغیب دی جاتی ہے اورکہا جاتا ہے کہ اس طرح ایک آدمی کی دو آنکھوں سے چارنابینا لوگوں کو روشنی مل سکتی ہے۔ بہ راہ کرم اس سلسلے میں اسلامی نقطۂ نظر واضح فرمائیں ؟
جواب
اسلامی نقطۂ نظر سے انسان اپنے جسم وجان کا مالک نہیں  ہے۔ جان اللہ تعالیٰ  کی دی ہوئی ہے اوروہی اسے لے سکتا ہے۔ اسی طرح جسم بھی اسی کا عطا کردہ ہے ، اس لیے انسانوں کو اپنی طرف سے اس میں تصرف کرنے کا کوئی حق نہیں  ہے۔ عام حالات میں اعضائے بدن کا عطیہ جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ اس میں دیگر مفاسد کے ساتھ انسانیت کی توہین اور اس کی عزت وشرف کی پامالی ہے۔ لیکن موجودہ دور کے بدلتے ہوئے حالا ت ، شدید ضروریات اور متبادل کی عدم موجودگی کی وجہ سے فقہاء نے بعض استثنائی صورتوں کی اجازت دی ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کا چوبیسواں کل ہند فقہی سیمینار یکم تا ۳؍مارچ ۲۰۱۵ء کو دارالعلوم الاسلامیۃ اوچیرہ، کیرلا میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں  اس موضوع پربھی غوروخوض کیاگیاتھا۔ فیصلے کے چند نکات درج ذیل ہیں : n خون انسانی جسم کا ایک اہم اوربنیادی جز ہے، جس سے حیات ِ انسانی کی بقا مربوط ہے۔ اگر کسی انسان کو خون کی ضرورت پڑے اورماہر ڈاکٹر کی تجویز ہوکہ اس کے لیے خون ناگزیرہے تو انسانی جان بچانے کے لیے ایک مسلمان کادوسرے مسلمان یا غیر مسلم کو عطیہ کرنا جائز ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان کے لیے اس سے لینا بھی جائز ہے۔ n موجودہ طبی تحقیق کے مطابق زندہ شخص کے جگر کے بعض حصے کو دوسرے ضرورت مند انسان کومنتقل کرنا ممکن ہوگیا ہے اور عطیہ کرنے والے کے جگر کے بقیہ بچے ہوئے حصے کا چند مہینوں میں مکمل ہوجانا تجربہ میں  آچکا ہے۔ اس لیے جگر کی منتقلی اور پیوندکاری اپنے کسی عزیز، دوست کے لیے رضا کارانہ طورپر جائز ہے، البتہ خریدوفروخت قطعاً جائز نہیں ہے۔ n انسانی دودھ کا بینک قائم کرنا جائز نہیں ۔ اگر بینک قائم ہوتو اس میں دودھ جمع کرنا اور اس میں کسی طرح کا تعاون کرنا بھی جائز نہیں  ہے۔ n مرد یا عورت کے مادئہ تولید کا بینک قائم کرنا یا کسی مرد یا خاتون کا کسی بینک کو یا کسی ضرورت مند کو مادئہ تولید فروخت کرنا یا بلاقیمت فراہم کرنا یا لینا حرام ہے۔‘‘ آنکھ کے عطیہ (Eye Donation) کے بارے میں بھی اس سیمینار میں  غور کیاگیا اور فیصلہ کیا گیا کہ زندہ شخص کی آنکھ کا قرنیہ (Cornea) دوسرے ضرورت مندوں کے لیے منتقل کرنا جائز نہیں  ہے۔ البتہ کیا مردہ کا قرنیہ کسی ضرورت مند کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے یا نہیں ؟ اس پر سیمینار میں  کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا، اس پر آئندہ غور کیا جائے گا۔ اب تک فقہاء کی رائے اس کے بھی عدم جوا ز کی ہے۔ زندگی میں مال وجائیداد کی تقسیم سوال: الحمدللہ میری تجارت میں اللہ تعالیٰ نے بہت برکت دی اورمیں نے خوب کمایا۔ کافی جائیداد پیدا کی ، کئی پلاٹس خریدے، کئی منزلہ کشادہ مکان بنوایا ۔ میری اہلیہ کے علاوہ تین لڑکے اورتین لڑکیاں ہیں ۔ میں نے سوچا کہ میں اپنی زندگی ہی میں تمام مال وجائیداد اپنے متعلقین میں تقسیم کردوں ۔ چنانچہ میں نے اس کا کچھ حصہ اپنے لیے الگ کرکے بقیہ ان میں تقسیم کردیا ۔ اہلیہ کو آٹھواں حصہ دیا اورلڑکوں لڑکیوں میں دوایک کے تناسب سے بانٹ دیا ۔ میری ایک لڑکی معذور ہے، اس لیے اس کا حصہ میں نے اپنے پاس رکھا ہے ۔ اب میں چاہتا ہوں کہ جوحصہ میں نے اپنے لیے الگ کیا تھا اسے صدقہ وخیرات کردوں ، تاکہ بارگاہ الٰہی میں اس کا اجر مجھے ملے ۔ میرے لڑکے اور لڑکیاں خود کفیل ہیں ، اس لیے چاہتا ہوں کہ میرے اپنے لیےبچائے ہوئے حصے میں سے ان کوکچھ نہ ملے۔ ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا انتظام ہوجائے کہ میرے مرنے کے بعد میری معذور لڑکی کے حصے پر کوئی قبضہ نہ کرلے۔ بہ راہِ کرم اس معاملے میں میری رہ نمائی فرمائیں ۔

Leave a Comment