معاملہ کی شفافیت

ایک معاملہ آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں آپ سے رہ نمائی کا طالب ہوں ۔ بہ راہِ کرم پورے معاملے پر غور کرکے مجھے صحیح رہ نمائی فرمائیں ۔ شکر گزار ہوں گا۔ مجھے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے اورالحمد اللہ اہلِ خاندان سے میرے تعلقات خوش گوار ہیں ، اگر چہ ابھی انہیں قبولِ اسلام کی توفیق نہیں ہوئی ہے ۔ میرے والد صاحب نے ایک قطعۂ اراضی فروخت کیا اورمجھ سے خواہش کی کہ اسے کہیں اِنوسٹ (invest)کرادوں ، تاکہ اس سے آمدنی ہوتی رہے ۔ میں نے اپنے بعـض قریبی دوستوں سے مشورہ کیا ۔ انہوں نے ایک دینی جماعت کے چند سرکردہ افراد کی نشان دہی کی، جوزمین کا کاروبار کرتے ہیں ۔ میں نے ان میں سے ایک صاحب سے رابطہ کیا اوران سے درج ذیل شرائط پر معاملہ طے ہوگیا: ۱- میں انوسٹمنٹ(Investment) کے لیے پندرہ لاکھ روپے دوں گا۔ ۲- ادائیگی چیک، نقد اورڈیمانڈ ڈرافٹ کے ذریعے ہوگی۔ ۳- اس معاملہ کوضبط تحریر میں لایا جائے گا ، جس پر دونوں فریقوں کے دستخط ہوں گے۔ ۴- یہ معاملہ صرف ایک سال کے لیے ہوگا۔ اسے آئندہ بھی جاری رکھنے کے لیے ازسر نو معاہدہ ہوگا۔ ۵- ایک برس مکمل ہونے کے بعد اصل سرمایہ پر ۲۸ سے ۳۳ فی صد کے درمیان منافع دیا جائے گا۔ میں نے مذکورہ رقم ان صاحب کے ذریعے بنائے گئے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردی۔ ساتھ ہی اس معاہدہ کوتحریری شکل دی اور اس پر ان سے دستخط کرنے کا مطالبہ کیا ۔ یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا اورکئی بار کی یاد دہانی کے باوجود تیار شدہ دستاویز پر دستخط نہیں کیےگئے ، یہاں تک کہ گیارہ مہینے گزرگئے ۔تب میں نے اطلاع دی کہ میں اس معاہدہ کومزید جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہوں ، ایک برس پورا ہوتے ہی میری رقم منافع کے ساتھ واپس کردی جائے ۔ میری بات سنی ان سنی کردی گئی۔ ای میل کے ذریعے بار بار ریمائنڈر بھیجنے کے نتیجے میں مدتِ معاہدہ مکمل ہونے کے دو ماہ بعد میری رقم بغیر منافع کے واپس کی گئی ۔ میں نے منافع کا مطالبہ کیا تو جواب دیا گیا کہ کوئی منافع نہیں ہوا ۔ میں نے یاد دلایا کہ آپ نےتو ۲۸ سے ۳۳ فی صد کے درمیان منافع کا وعدہ کیا تھا ۔ اس کا یہ جواب دیا گیا کہ فریق ثانی کومنافع کی امید دلانے کے لیے ایسا کہہ دیا جاتا ہے ، لیکن حقیقت میں وہ مراد نہیں ہوتا، منافع صفر بھی ہوسکتا ہے اورتجارت میں گھاٹا بھی ہوسکتا ہے ۔ فریق ثانی کی یہ بد معاملگی میرے لیے تکلیف دہ ہے ۔ میرے والد ، جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا ہے ، اس رویّے سے بہت نالاں ہیں ۔ ان تک ’اچھے مسلمانوں ‘ کی کیسی تصویر پہنچی ہے ؟ کیا میں ان لوگوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرنے میں حق بہ جانب ہوں ؟
جواب
اسلام نے معاملے کی صفائی اور شفافیت پر بہت زور دیا ہے ۔ اس نے تاکید کی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ کیا جائے تو اسے اس کی تمام شرائط اورضوابط کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۝۰ۥۭ (المائدۃ: ۱) ’’ اے لوگوجوایمان لائے ہو! عہد وپیمان پورے کرو ‘‘۔ معاملہ کی شفّافیت کے لیے اسلام کی ایک تعلیم یہ بھی ملتی ہے کہ اسے ضبط ِتحریر میں لے آیا جائے۔ کوئی معاملہ زبانی طے پائے تو بسا اوقات کچھ عرصہ گزرنے کے بعد فریقین میں اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ ایک فریق کوئی بات کہتا ہے تو دوسرا اس کا انکار کرتا ہے ۔ معاملہ کوتحریری شکل دے دی جائے اور دونوں فریقوں کے اس پر دستخط ہوجائیں تو اختلافات سے بڑی حد تک بچا جاسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْہُ۝۰ۭ (البقرۃ۲۸۲:) ’’ اے لوگوجوایمان لائے ہو!جب کسی مقر ر مدّت کے لیے تم آپس میں  قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیاکرو ‘‘۔ یہ ہدایت صرف قرض کے معاملے کے ساتھ خاص نہیں ہے ، بلکہ تمام معاملات میں اس کی پاس دار ی پسندیدہ اوراختلاف وتنازع کورفع کرنے والی ہے۔ آپ نے جوتفصیلات ذکر کی ہیں ان کے مطابق فریق ثانی نے معاملہ کوزبانی رکھا اور آپ کی خواہش بلکہ اصرار کے باوجود اسے تحریری شکل نہیں دی۔ مزید یہ کہ جب معاملہ متعین طور پر ایک برس کے لیے طے ہوا تھا تو اس کی تکمیل کے بعد رقم کی واپسی میں ٹا ل مٹول سے کام لیا ۔ ان کی جانب سے یہ دونوں رویے درست نہ تھے۔ آپ نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ فریق ثانی نے ۲۸ سے ۳۳فی صد منافع کا وعدہ کیا تھا ، لیکن ایک برس کے بعد اس نے صرف اصل ر قم لوٹادی ، منافع کچھ بھی نہیں دیا ، بلکہ منافع کا مطالبہ کرنے پر یہ جواب دیا کہ متعین منافع کا وعدہ تجارت میں سرمایہ لگانے والے کو محض لبھانے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ یہ روّیہ بھی درست نہیں ہے ۔ یہ بات صحیح ہے کہ منافع کا تعیّن معاملہ کوربا (سود) کے دائرے میں پہنچا دیتا ہے ، اس لیے مناسب یہ ہے کہ اگر ایک فریق کچھ منافع کی امید دلائےتوساتھ ہی یہ بھی صراحت کردے کہ منافع کی شرح اس سے کم بھی ہوسکتی ہے ، اس کا بھی امکان ہے کہ منافع کچھ بھی نہ ہو اورتجارت میں خسارہ بھی ہوسکتا ہے ۔ ان تمام باتوں پر دونوں فریقوں کی رضا مندی کے بعد ہی انہیں شریک ِ تجارت بننا چاہیے۔ موجودہ صورتِ حال میں میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ کسی قانونی کا رروائی سے بچیں ۔ اس میں آپ کا سرمایہ بھی لگے گا اور وقت بھی ، پھر بھی کام یابی یقینی نہیں ۔ آپ اللہ کا شکر اداکریں کہ اصل رقم آپ کو واپس مل گئی ۔ اسے احتیاط اور دانش مندی کے ساتھ کسی دوسری جگہ انوسٹ کریں ۔ آپ چاہیں تواپنا یہ معاملہ اس دینی جماعت کے ذمے داروں کے سامنے رکھ سکتے ہیں جس سے وہ سرکردہ افراد (جن سے آپ نے تجارتی معاملہ کیا تھا ) تعلق رکھتے ہیں ۔

Leave a Comment