میراث کے چند مسائل

میرے والد صاحب نے میری والدہ کوایک پلاٹ بہ طور مہر دے دیا تھا اوراسے ان کے نام رجسٹرڈ کرادیا تھا ۔ والدہ کا انتقال تقریباً بارہ سال قبل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد والدصاحب نے دوسری شادی کرلی۔ میری سوتیلی ماں سے کوئی اولاد نہیں ہے ۔ دو سال قبل والد صاحب کا بھی انتقال ہوگیا ۔ ہم دو بھائی اوردوبہنیں ہیں ۔ بہ راہِ کرم مطلع فرمائیں کہ ہمارے درمیان وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟
جواب
آپ کی والدہ کے انتقال کے بعد ان کی میراث( پلاٹ جوان کے نام تھا اوران کی مملوکہ دیگر چیزیں ) تقسیم ہونی چاہیے تھی ، جس کی تفصیل یہ ہے کہ صاحبِ اولاد ہونے کی صورت میں شوہر کا حصہ ایک چوتھائی ہے ۔ بقیہ کی تقسیم اولاد کے درمیان اس طرح ہوگی کہ ہر لڑکے کوہر لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ملے گا۔ اب آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوا ہے توان کی میراث اس طرح تقسیم ہوگی کہ ان کی اہلیہ (آپ کی سوتیلی ماں ) کو آٹھواں حصہ ملے گا اوربقیہ میراث آپ دوبھائیوں اور دوبہنوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہر لڑکے کا حصہ ہر لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ہوگا۔ یعنی بقیہ میراث کے چھ حصے کیے جائیں اورایک ایک حصہ ہر لڑکی کواور دو دو حصے ہر لڑکے کو دیے جائیں ۔

Leave a Comment