میراث کے چند مسائل

ایک شخص کے دولڑکے اورایک لڑکی ہے۔ اس نے تمام بچوں کی شادی کردی۔ لڑکی اپنی سسرال چلی گئی۔بڑا لڑکا اپنے والد کے ساتھ کھیتی باڑی کرتا ہے۔ گھر کی تمام ضروریات اسی کی آمدنی سے پوری ہوتی ہیں ۔ چھوٹے لڑکے نے شہر جاکر ملازمت کرلی اور اپنی ضروریات خود پوری کیں ۔ ان کے لیے گھریا والد صاحب سے کسی طرح کی کوئی مالی مدد نہیں لی۔ دونوں لڑکوں میں  اگر کبھی ضرورتاً لین دین ہوا تو بہ طور ِ قرض ہی ہوا۔ ایک بار اس شخص نے چھوٹے لڑکے کو شہر میں دکان خرید نے کے لیے رقم دی، لیکن وہ دکان نہیں  چلاسکا اور اس سے کوئی منافع نہیں ہوسکا، بلکہ نقصان ہی ہوتا رہا، چنانچہ ڈھائی ، تین سال بعد والد کی ہدایت پراس نے دکان فروخت کردی اوراصل رقم مع منافع کے لوٹادی۔ ان صاحب نے کھیتی باڑی کی زائد آمدنی سے جائیداد خریدی۔ اس کا بیع نامہ اپنے نام کرانے کے بجائے دونوں لڑکوں کے نام کرایا، اس میں  لڑکی کو شامل نہیں کیا۔ ایک لڑکے نے انھیں توجہ دلائی کہ بیٹی کو محروم کرنا صحیح نہیں  ہے۔ آپ اس کی اصلاح کردیں ۔ جتنی زمین بیٹوں کے نام کرائی ہے، اسی کے مطابق بیٹی کا جتنا حصہ بنتا ہے ، اس کے نام بھی کرادیں ۔ اس پر انھوں نے کہا کہ تم لوگ درست کرلینا۔ چند مہینے کے بعد والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ : (۱) والد صاحب نے جو زمین خرید کر صرف بیٹوں کے نام بیع نامہ کرایا، اس میں بیٹی کا بھی حصہ ہے یا نہیں ؟ (۲) چھوٹے بیٹے نے شہر میں جو پلاٹ خریدا اور اس پر مکان بنایا، کیا اس میں بڑے بھائی کاشرعاً حصہ بنتا ہے؟
جواب
شریعت کا منشایہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اپنی اولاد میں سے کسی کو محروم نہ کرے اور نہ کسی کو کم دے اور کسی کو زیادہ۔ حتیٰ کہ اس معاملے میں لڑکوں اورلڑکیوں کے درمیان فرق اورکمی بیشی کرنے سے منع کیاگیا ہے اور سب کو برابر برابر دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ اخلاقی ضابطہ ہے، قانونی حیثیت میں آدمی اپنی زندگی میں اپنے مال کا مالک ہے۔ وہ اس میں سے جس کو جتنا چاہے، دے سکتا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں کچھ زمین خرید کراس کا بیع نامہ اپنے دونوں بیٹوں کے نام کرادیا ہے اوربیٹی کا اس میں حصہ نہیں  لگایا ہے تو بیٹے ہی اس زمین کے مالک قرارپائیں گے،بیٹی کا اس میں حصہ نہ ہوگا۔ البتہ اس شخص کی بقیہ زمین ، جائیداد، مکان وغیرہ کی حیثیت مال وراثت کی ہوگی۔ اس میں تمام وارثوں کا حصہ ہوگا۔ کوئی شخص ، اپنے والد کی زندگی میں ، اپنی ذاتی حیثیت میں جو کچھ کمائے، اس کا وہ خود مالک ہے۔ اس کی حیثیت والد کے انتقال پران کے مال وراثت کی نہ ہوگی کہ اس میں اس کے بڑے بھائی اور دیگر رشتہ داروں کا حصہ لگے۔

Leave a Comment