میراث کے چند مسائل

ایک صاحب کا انتقال ہوگیا ہے ۔ ان کے وارثوں میں صرف ان کی بیوی ، ایک بہن،ایک چچازاد بھائی اور چار چچازاد بہنیں  ہیں ۔ وہ لا ولد تھے ۔ براہ ِ کرم بتائیں ان کی میراث کیسے تقسیم ہوگی؟
جواب
قرآن کریم میں  میراث کے تفصیلی احکام مذکورہیں ۔ان کے مطابق : ۱۔اولاد نہ ہوتو بیوی کا حصہ چوتھائی (۴؍۱) ہے: وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ۝۰ۚ (النساء۱۲:) ۲۔ اولادنہ ہواورصرف ایک بہن ہوتو اسے میراث کا نصف (۲؍۱) ملے گا۔ اِنِ امْرُؤٌا ہَلَكَ لَيْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗٓ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَكَ۝۰ۚ (النساء۱۷۶:) ۳۔چچازاد بھائی عصبہ میں  سے ہے (اگرمیت کا لڑکا،باپ،چچا وغیرہ نہ ہوں ) اس لیے میراث کے بقیہ حصے(ایک چوتھائی، ۴؍۱) کا وہ مستحق ہوگا۔ ۴۔ چچازاد بہنوں کو کچھ نہیں  ملے گا۔

Leave a Comment