نماز میں سر ڈھانپنے کا مسئلہ

میں نماز کے لیے کبھی ٹوپی لگاتا ہوں اور کبھی نہیں لگاتا۔ اس لیے کہ میرے علم کے مطابق ٹوپی نماز کے شرائط میں داخل نہیں ہے، لیکن یہاں ہمارے امام صاحب کا کہنا ہے کہ لوگ بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنے پر اعتراض کرتے ہیں ۔ اب مجھے الجھن یہ ہے کہ اگر میں ٹوپی لگاتا ہوں تو دل میں خیال ہوتا ہے کہ میں امام صاحب کو یا دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یہ عمل کر رہا ہوں اور جو عمل لوگوں کو یا کسی انسان کو خوش کرنے کے لیے کیا جائے اس سے شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اکثر مسلمان داڑھی کے بغیر نماز پڑھتے ہیں ۔ پاجامے ٹخنوں سے نیچے لٹک رہے ہوتے ہیں ، جو گندگی سے بھرے ہوتے ہیں ۔ کوئی اعتراض نہیں کرتا، جب کہ ان دونوں کے بارے میں صحیح حدیثوں میں وضاحت آئی ہے۔ لیکن ٹوپی کے بارے میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے۔ لیکن اس پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ کیا امام صاحب کی یہ ذمے داری نہیں کہ وہ لوگوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کریں کہ کس چیز کا دین میں کیا مقام ہے؟ برائے مہربانی رہ نمائی فرمائیں ۔
جواب
نماز میں سر ڈھانپنے کے مسئلے پر ہمارے سماج میں افراط و تفریط پائی جاتی ہے۔ ایک طرف اس کو اس حد تک ضروری سمجھ لیا گیا ہے کہ اس کے بغیر نماز کو درست ہی نہیں خیال کیا جاتا۔ مسجدوں میں پہلے کھجور اور تاڑ کے پتوں کی بنی ہوئی ٹوپیاں رکھی جاتی تھیں ۔ اب ان کی جگہ پلاسٹک کی ٹوپیوں نے لے لی ہے۔ کثرت ِ استعمال سے وہ ٹوٹ جاتی ہیں ، گندی ہوجاتی ہیں اور ان میں بدبو آنے لگتی ہے، مگر ننگے سر آنے والے نمازی مسجد میں داخل ہوتے ہی انھیں ادھر ادھر تلاش کرتے ہیں اور جیسی بھی ٹوپی ہاتھ لگے اسے اپنے سر کی زینت بنا کر نماز میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ دوسری جانب تفریط کا عالم یہ ہے کہ بعض حضرات نماز میں ننگے سر رہنے کا اس حدتک اہتمام کرتے ہیں ، لگتا ہے کہ ان کے نزدیک سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ بعض حضرات کے ایسے غلو آمیز رویے کی بھی اطلاع ملی ہے کہ وہ ٹوپی لگائے ہوتے ہیں ۔ لیکن مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو ٹوپی اتار کر جیب میں رکھ لیتے ہیں اور ننگے سر نماز پڑھتے ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ ٹوپی نماز کے شرائط میں داخل نہیں ہے۔ اس کے بغیر بھی نماز بلا کراہت جائز ہے۔ لیکن احادیث و آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا معمول سر ڈھانپ کر نماز پڑھنے کا تھا۔ آں حضرت ﷺ کے لباس کے معمولات میں تھا کہ آپ ﷺ کبھی صرف ٹوپی (بغیر عمامہ کے) کبھی صرف عمامہ (بغیر ٹوپی کے) اور کبھی ٹوپی اور عمامہ دونوں پہنتے تھے۔ (زاد المعاد، ابن قیم، ۱؍۱۳۵، فصل فی ملابسہ) کتب احادیث میں آں حضرت ﷺکے طریقۂ وضو میں مروی ہے کہ آپ عمامہ پر مسح فرماتے تھے۔ ظاہر ہے کہ عمامہ کے ساتھ ہی آپ نماز بھی ادا فرماتے ہوں گے۔ حضرت حسنؒ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام نماز میں عمامہ اور ٹوپی پہنے ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب السجود علی الثوب فی شدّۃ الحرّ، حدیث: ۳۸۵ و ترجمۃ الباب) اس کے بالمقابل آں حضرت ﷺ کے ننگے سر نماز پڑھنے کے سلسلے میں کوئی روایت نہیں ملتی۔ اس لیے ننگے سر نماز پڑھنے کے مقابلے میں سر ڈھانپ کر نماز پڑھنا میرے نزدیک پسندیدہ ہے۔ یہ بات کہ چوں کہ ننگے سر نماز پڑھنے پر لوگ اعتراض کرتے ہیں ، اس لیے کہ ان کے اعتراض سے بچنے اور انھیں خوش کرنے کے لیے ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے سے ’شرک‘ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، صحیح نہیں ہے۔ حکمت ِ دعوت یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کے بہ جائے بڑے مقصد پر نظر رکھی جائے۔ اگر ننگے سر نماز پڑھنے پر اصرار کے نتیجے میں عوام کے ہم سے دور ہوجانے اور متنفر ہوجانے کا اندیشہ ہو تو حکمت دعوت یہ ہے کہ ٹوپی لگا کر نماز پڑھی جائے۔ یوں بھی ٹوپی لگا کر نماز پڑھنے سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی۔ بلکہ اگر نبی اکرم ﷺکی اتباع کی نیت کرلی جائے تو ثواب ہی ملے گا۔ آں حضرت ﷺکے ایک عمل سے اس حکمت کی جانب واضح اشارہ ملتا ہے۔ عہد جاہلیت میں ایک موقعے پر خانۂ کعبہ کی از سرِ نو تعمیر کی ضرورت پیش آئی تو قریش نے ٹھیک ان بنیادوں پر اس کی تعمیر نہیں کی، جن پر حضرت ابراہیمؑ نے تعمیر کی تھی، بلکہ کچھ حصہ چھوڑدیا تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک موقعے پر آں حضرت ﷺنے انھیں مخاطب کرکے فرمایا: لَوْلاَ حَدَاثَۃُ عَھْدِ قَوْمِکَ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْکَعْبَۃَ وَ لَجَعَلْتُھَا عَلٰی أَسَاسِ اِبْرَاھِیْمَ۔ (صحیح مسلم، کتاب الحج، باب نقض الکعبۃ وبنائھا، حدیث: ۱۳۳۳، صحیح بخاری، کتاب الحج، باب فضل مکۃ و بنیانھا حدیث: ۱۵۸۵، ۱۵۸۶) ’’تمھاری قوم کا کفر و جاہلیت کا زمانہ ابھی قریب کا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کعبہ کو ڈھاکر اسے از سر نو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا۔‘‘ صحیح بخاری میں اس موقعے پر آپ ﷺکا یہ ارشاد بھی ہے: فَأَخَافُ اَنْ تُنْکِرَ عُقُوْلُھُمْ۔ (کتاب الحج، باب فضل مکۃ و بنیانھا، حدیث: ۱۵۸۴) ’’مجھے اندیشہ ہے کہ میرا یہ عمل ان کی عقلوں کو ناگوار ہوگا۔‘‘ امام بخاریؒ نے اس مضمون کی ایک حدیث پر بڑا بصیرت افروز ترجمۃ الباب قائم کیا ہے: باب من ترک بعض الاختیار مخافۃ ان یقصر فھم بعض الناس عنہ فیقعوا فی أشدّ منہ۔ (کتاب العلم، باب:۴۸) ’’بعض اختیاری چیزوں کو اس وجہ سے چھوڑدینا (جائز ہے ) کہ بعض لوگ اس کی حقیقت نہیں سمجھ پائیں گے، چناں چہ وہ اس سے زیادہ مشکل میں پڑجائیں گے۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عمل کے صحیح ہونے کے باوجود اگر اس کی وجہ سے لوگوں کے فتنے میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو تو اسے ترک کردینا اولیٰ ہے۔ دین میں ہر عمل کا اپنا ایک مقام ہے۔ اس کو اسی مقام پر رکھنا چاہیے۔ نفل، مباح اور مندوب کو فرض و واجب بنا دینا اور فرائض سے سراسر غفلت برتنا بے اعتدالی کا مظہر ہے۔ علمائے دین اور خاص طور سے ائمہ مساجد کی ذمے داری ہے کہ عوام کو اس جانب برابر متوجہ کرتے رہیں اور ان کی ذہنی و فکری تربیت کرتے رہیں ۔ اعتدال اسلامی شریعت کا امتیاز ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے افراط و تفریط سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔

Leave a Comment