نماز کا ایک مسئلہ

ہماری مسجد کے امام کو فجر کی فرض نماز کی پہلی رکعت میں غلطی کے نتیجے میں نماز دہرانا پڑی ۔ ہمارے ایک ساتھی نے ، جس کی پہلی رکعت چھوٹ گئی تھی اور جس نے امام کے ساتھ صرف دوسری رکعت پائی تھی ، امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت ملا کر اپنی نماز مکمل کرلی ۔ دیگر مصلیوں نے نماز دہرائی، لیکن اس نے نہیں دہرائی ۔ اس کا استدلال تھا کہ امام صاحب کو پہلی رکعت کی قرأ ت کی خامیوں کی وجہ سے نماز دہرانی پڑی ، جب کہ میں پہلی رکعت میں موجود ہی نہیں تھا ۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ ہمارے ساتھی کو ایسی صورت میں نمازقضا کرنا پڑے گی یانہیں ؟
جواب
پوری نماز ایک اکائی (Unit)ہے ۔ رکعتوں کوالگ الگ کرکے ایک رکعت کودرست اور دوسری رکعت کونادرست قرار دینا صحیح نہیں ۔یا توپوری نماز صحیح ہوگی یا پوری فاسد ہوگی۔ اگر کسی غلطی کی وجہ سے امام صاحب کی نماز فاسد ہوگئی اور انہیں دہرانی پڑی تو تمام مقتدیوں کوبھی نماز دہرانی ہوگی۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جس رکعت میں امام نے غلطی کی تھی ، اس میں شریک نہیں تھا، اس لیے اس کی صحیح رکعت میں ایک اوررکعت شامل کرکے میری نماز درست ہوگئی ۔ اس بنا پر ان صاحب کی نماز نہیں ہوئی ، انہیں اس کی قضا کرلینی چاہیے۔

Leave a Comment