پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ کا ایک مسئلہ

ہمارے ادارے میں کام کرنے والے مستقل ملازمین کے مشاہرہ سے دس فی صد رقم پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے کاٹ لی جاتی ہے اوراتنی ہی رقم ادارہ کی جانب سے شامل کرکے بینک میں جمع کردی جاتی ہے ۔ وقتِ ضرورت ملازم کو اپنے حصے کی رقم کا نصف بہ طور قرض حاصل کرنے کی اجازت ہے، جس کی واپسی اسے قسطوں میں کرنی پڑتی ہے ۔یہ پوری رقم اسے ریٹائرمنٹ یا ملازمت سے سبک دوشی کے وقت دے دی جاتی ہے ۔ ادارہ کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ پراویڈنٹ فنڈ کی پوری رقم کا زیادہ تر حصہ تجارت میں لگادیا جائے ، تاکہ روپے کی قدر میں جوکمی آتی ہے وہ پوری ہو اورملازمین کا فائدہ ہو ۔ یہ رقم پراپرٹی کی تجارت میں لگادی گئی ۔ انتظامیہ نے یہ بھی طے کیا کہ جوملازم ریٹائرہوگا اس کا پی ایف پس انداز رقم سے ادا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کچھ کمی ہوگی تو وقتی طور پر کہیں سے قرض لے کر اس کوادا کردیا جائے گا اور اگر ملازم چاہے گا تو اس کی ادائیگی بعد میں اس وقت کی جائے گی جب پراپرٹی فروخت ہوجائے گی اوررقم خالی ہوجائے گی۔ ادارہ کے ایک ملازم ریٹائر ہوگئے ہیں ۔ ان کا پی ایف کا حساب اب تک نہیں کیا گیا ہے اور ان کی واجب الادا رقم ان کونہیں دی گئی ہے ۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ریٹائر منٹ کے بعد ، اب جب کہ ان کواپنی پی ایف کی رقم سے استفادہ کا حق حاصل ہوگیا ہے ، کیا اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟
جواب
پراویڈنٹ فنڈ کی رقم سے ملازم کواستفادہ کا اختیار نہیں رہتا۔ جوکچھ وہ لے سکتا ہے اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے ۔ اس بنا پر دورانِ ملازمت اس رقم پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ جوملازم ریٹائر ہوگیا ہووہ اپنی پی ایف کی رقم کا مستحق بن جاتا ہے ۔ ضابطہ کے مطابق اس کا حساب صاف کردینا چاہیے اور اس کی رقم اس کے حوالے کردینی چاہیے۔ یہ ادائیگی ادارہ کی تحویل میں پی ایف کی پس انداز رقم میں سے کی جاسکتی ہے اوروقتِ ضرورت کسی د وسری مدسے قرض بھی لیا جاسکتا ہے ۔ ملازم نے ریٹائر منٹ کے بعد اپنی پی ایف کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا ، یا ادارہ نے حساب کرکے اس کی رقم اس کے حوالے نہیں کی، یا دونوں کی موافقت سے طے پایا کہ پراپرٹی فروخت ہونے کے بعد جب رقم خالی ہوگی تب پی ایف کی ادائیگی کردی جائے گی ،بہ ہر صو رت ملازم کو ریٹائر منٹ کے بعد اپنی پی ایف کی رقم سے استفادہ کا حق حاصل ہوگیا جواسے دورانِ ملازمت حاصل نہیں تھا۔ اس بنا پر میری رائے ہے کہ اب اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی، البتہ اس کی ادائیگی اس وقت تک کے لیے مؤخر کی جاسکتی ہے جب تک وہ ہاتھ میں نہ آجائے۔ واللہ اعلم

Leave a Comment