کرنسی نوٹ میں زکوٰۃ کا نصاب

زکوٰۃ کے لیے موجودہ کرنسی نوٹ کی مقدار کیا ہے؟ ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر یا ۵۲ تولہ چاندی کے برابر کی رقم، معیار سونا ہے یا چاندی؟
جواب
ادائی زکوٰۃ کے لیے فقہاء نے چاندی کو معیار مانا ہے۔ اس میں غریبوں اور مستحقین کی مصلحت اور مفاد پیش نظر ہے۔ جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم کے برابر کرنسی نوٹ ہوں اس پر زکوٰۃ عائد ہوگی۔

2 thoughts on “کرنسی نوٹ میں زکوٰۃ کا نصاب”

  1. السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    کرنسی کا اسٹینڈرڈ سونا ہے چاندی نہیں ، اور دورنبوی سونا اور چاندی میں خریداری ہوتی تھی اور دونوں کرنسی تھے آج کرنسی سونا ہے اور اسی حساب سے صاحب نصاب مانا جائے گا

    جواب دیں
  2. زکوۃ کا وجوب مال داروں پر ہے تاکہ ان سے لے کر غریبوں میں تقسیم ہو۔ کیا آج کے زمانے میں سال کے اختتام والے ماہ میں اگر کسی کو چالیس ہزار روپے پنشن ملی ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہو جائے گی کیوں کہ چاندی کے اعتبار سے تو تقریباً اتنی ہی رقم بنتی ہے؟ اگر کوئی شخص خود ہی زکوۃ دینے والے زمرہ میں شامل ہے اس طرح اس پر مالدار ہونے کا اطلاق ہو جاتا ہے تو کیا وہ زکوۃ لے سکتا ہے؟ اگر نہیں، تو اتنی قلیل رقم مشاہرہ یا پنشن پانے والے افراد بسا اوقات مدد کے محتاج ہوتے ہیں، انہیں زکوۃ سے تو مدد فراہم نہیں کی جا سکتی۔

    جواب دیں

Leave a Comment