کیا تراویح میں مصحف دیکھ کر قرآن پڑھاجاسکتا ہے؟

راویح کی نماز میں پورا قرآن پڑھنے اورسننے کی خواہش ہوتو کیانماز میں  مصحف سے دیکھ کر قرآن پڑھاجاسکتا ہے؟
جواب

اس سلسلے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے
شوافع اورحنابلہ کا مسلک یہ ہے کہ تراویح میں مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھا جاسکتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ ماہِ رمضان میں  اپنے غلام ذکوان کی اقتدا میں تراویح پڑھتی تھیں ۔وہ مصحف میں دیکھ کر قراءت کرتاتھا۔(بخاری تعلیقاً ، کتاب الاذان ، باب امامۃ العبد والمولی، مصنف ابن ابی شیبۃ۱؍۲۳۵، السنن الکبریٰ للبیہقی۱؍۳۳۶)
امام نوویؒ نے فرمایا ہے’’مصحف دیکھ کر قرآن پڑھنے سے نماز باطل نہیں ہوگی۔ اوراق پلٹنے سے بھی نہیں ۔‘‘ (المجموع۱؍۲۷)
امام ابوحنیفہؒ اورامام ابن حزمؒ کے نزدیک مصحف میں دیکھ کر قرآن پڑھنے سے نماز فاسد ہوجائے گی۔اس کی دلیل میں  ایک روایت یہ پیش کی جاتی ہے کہ حضرت عمربن الخطابؓ نے نماز میں مصحف میں  دیکھ کر قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔(کتاب المصاحف،ابن ابی دائود۶۵۵) لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کا ایک راوی نہش بن سعید کذّاب متروک ہے۔
دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ قرآن پڑھنے کے لیے ہر رکعت میں مصحف اٹھانا، پھر رکوع کرتے وقت اسے رکھنا، دوسری رکعت میں  پھر اسے اٹھانا اور رکھنا ’ عمل ِ کثیر ‘ہے اور اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
یہ دلیل بھی مضبوط نہیں  ہے ۔احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نماز پڑھتے ہوئے اپنی نواسی حضرت امامہ بنت ابی العاصؓ (حضرت زینبؓ کی صاحب زادی) کو اٹھاکر اپنے کندھے پربٹھالیتے تھے۔جب سجدہ کرتے تو اسے اتار دیتے ۔کھڑے ہوتے تو پھر کندھے پربٹھالیتے۔(بخاری۵۱۶،مسلم۵۴۳) ایک حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ جوتے پہن کر نماز پڑھ رہے تھے۔نماز کے دوران میں ہی آپ کو معلوم ہو ا کہ ان میں  گندگی لگی ہوئی ہے۔آپؐ نے فوراً انہیں اتار دیا۔(ابودائود۶۵۰)
دورانِ نمازکسی بچی کواٹھانا،پھراتارنا،اسی طرح جوتے اتارنا جتنا زیادہ عمل ہے، مصحف اٹھانا اوررکھنا اورورق پلٹنا اس سے کم ہے۔جب اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی تو اس سے بھی فاسد نہیں ہونی چاہیے۔
امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں (صاحبین) امام ابویوسفؒ اورامام محمدؒ کے نزدیک نماز تو ہوجائے گی،لیکن ایساکرنا مکروہ ہے۔کراہت کا سبب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ اہلِ کتاب (یہودونصاریٰ) کے عمل کے مشابہ ہے۔
اس بات میں  بھی وزن نہیں  ہے ۔اس کا جواب خودحنفی فقیہ ابن نجیم ؒنے ان الفاظ میں دیا ہے
’’اہل کتاب سے مشابہت ہرچیز میں مکروہ نہیں ہے۔جیسے وہ کھاتے پیتے ہیں اسی طرح ہم بھی کھاتے پیتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھانا پینا مکروہ ہے۔ناجائز مشابہت وہ ہے جو کسی غلط کام میں کی جائے۔اس بنا پر اگر تشبیہ مقصود نہ ہوتو صاحبین کے نزدیک مصحف سے قراءت مکروہ نہ ہوگی۔‘‘ (البحرالرائق۲؍۱۱)
مصحف ہی کے حکم میں  موبائل بھی ہے۔اس میں دیکھ کربھی قرآن پڑھا جاسکتا ہے۔