کیا رسول اللہ ﷺ کا مشن لوگوں کو بہ جبر مسلمان بنانا تھا؟

ذیل میں صحیح مسلم کی ایک حدیث درج کر رہا ہوں ، اس کا ظاہری مفہوم مجھے اسلام کی مجموعی تعلیمات سے ٹکراتا ہوا محسوس ہو رہا ہے: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کی شہادت دیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔ وہ یہ شرائط تسلیم کرلیں تو ان کی جانیں اور ان کے مال محفوظ ہوجائیں گے۔ الا یہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس حفاظت سے محروم کردیے جائیں ، رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمّے ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث نمبر ۱۲۹) اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا تھا کہ آپؐ جہاد و قتال کے ذریعے مشرکین کو مسلمان بنائیں ۔ اس کی تشریح میں بعض علماء نے لکھا ہے کہ اتمام حجت کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ جو مشرکین ِعرب اسلام قبول نہ کریں انھیں قتل کردیا جائے۔ ایسی صورت میں اسلام دشمن عناصر کے اس الزام کا جواب کس طرح دیا جاسکتا ہے کہ اسلام کے اوّلین اور اہم ترین دور میں ہی اسلام کو بہ زور شمشیر پھیلانے کا حکم دیا گیا تھا اور پیغمبرِ اسلام نے جنگ اور قتال کے ذریعے مشرکین کو مسلمان بنایا تھا؟ اس سلسلے کی چند قابل غور باتیں یہ بھی ہیں : (۱) کیا دور نبوی میں مذکور حدیث کے حکم کے مطابق کوئی جہاد کیا گیا تھا، جس میں مشرکین کو جہاد (بہ معنی قتال) کے ذریعے مسلمان بنایا گیا ہو؟ (۲) کیا فتح مکہ کے بعد تمام مشرکین نے اسلام قبول کرلیا تھا؟ اور جو دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے، وہ سب قتل کردیے گئے تھے؟ (۳) کیا تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ان صحابۂ کرام کے نام ملتے ہیں ، جنھوں نے تلوار کی نوک پر اور موت کے خوف سے اسلام قبول کیا تھا؟ (۴) فتح مکہ کے بعد مشرکین عرب کے سلسلے میں حضوؐر کو دو احکام دیے گئے۔ ایک یہ کہ انھیں جزیرۃ العرب سے نکال دیا جائے اور دوسرے یہ کہ وہ آئندہ سال کعبۃ اللہ کے پاس نہ آنے پائیں ۔ اگر اسلام قبول نہ کرنے والے مشرکین کو قتل کردینے کا حکم تھا تو پھر انھیں جزیزۃ العرب سے نکال دینے اور کعبۃ اللہ کے پاس نہ آنے دینے کا کیا مطلب ہے؟ اس حدیث کے آخری الفاظ ہیں : وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ (رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمّے ہے) اس کا کیا مطلب ہے؟ قرآن کریم کی بہ کثرت آیات میں کہا گیا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ، جو چاہے قبول کرے جو چاہے نہ قبول کرے۔ پیغمبر کی شدید خواہش رہتی تھی کہ آپ جو دعوت پیش کر رہے ہیں ، اسے زیادہ سے زیادہ لوگ قبول کرلیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کو تنبیہہ کی گئی کہ آپؐ کا کام صرف دعوت پہنچا دینا ہے، اسے کون قبول کرتا ہے اور کون نہیں قبول کرتا، اس سے آپ کو غرض نہیں ۔ ان آیات اور درج بالا حدیث میں تضاد اور اختلاف نظر آ رہا ہے۔ دونوں میں کس طرح تطبیق دی جائے گی؟ بہ راہ مہربانی اس کا صحیح مفہوم واضح کیجیے۔
جواب
اس حدیث کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے: (۱) سوال میں جو حدیث نقل کی گئی ہے، وہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے اور اس کی تخریج امام مسلمؒ نے کی ہے۔ الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ اسے حضرت عمر بن الخطابؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت جابر بن عبد اللہؓ، حضرت انس بن مالکؒ، حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ نے بھی روایت کیا ہے اور اس کی تخریج صحاح ستہ، مسند احمد اور حدیث کی دوسری کتابوں میں کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کا مضمون دوسری بہت سی صحیح اور مستند حدیثوں سے ثابت ہے۔ اس میں کسی اعتبار سے شک و شبہ کرنے کی گنجایش نہیں ہے۔ (۲) جو مضمون اس حدیث میں مذکور ہے، وہی قرآن کریم کی بہت سی آیات میں بھی پایا جاتا ہے۔ چند آیات ملاحظہ ہوں : فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَ خُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍج فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ ٰ اتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْط (التوبۃ: ۵) ’’تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انھیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لیے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انھیں چھوڑدو۔‘‘ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً (التوبۃ: ۳۶) ’’اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں ۔‘‘ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰ امَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً ط (التوبۃ: ۱۲۳) ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تمھارے پاس ہیں اور چاہیے کہ وہ تمھارے اندر سختی پائیں ۔‘‘ وَ قَاتِلُوھُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِج فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌo (الانفال: ۳۹) ’’اور ان (کافروں ) سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ فتنہ سے رک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ امام بخاریؒ نے اس حدیث پر جو عنوان (ترجمۃ الباب) قائم کیا ہے، اس میں سورۂ توبہ کی مذکور بالا پانچویں آیت کو شامل کیا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب فَاِنْ تَابُوا وَ اَقَامُوا الصَّلاَۃَ وَ ٰ اتَوُا الزَّکَاۃَ فَخَلُّوا سَبِیْلَھُمْ) اس کی تشریح کرتے ہوئے شارح بخاری حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے: ’’امام بخاریؒ نے اس حدیث کو سورہ التوبہ کی آیت ۵ کی تفسیر کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اس لیے کہ آیت میں توبہ کرنے سے مراد کفر کی روش ترک کرکے توحید کو اختیار کرلینا ہے۔ آیت اور حدیث میں ایک دوسری مناسبت یہ ہے کہ آیت میں کہا گیا ہے ’’تو انھیں چھوڑدو‘‘ اور حدیث میں ہے ’’تو ان کی جانیں اور ان کے مال محفوظ ہوجائیں گے‘‘ دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔‘‘ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، دار المعرفۃ بیروت، ۱/۷۵) یہی تشریح دوسرے شارح بخاری علامہ بدر الدین عینیؒ نے بھی کی ہے۔ فرماتے ہیں : ’’جس طرح آیت میں کہا گیا ہے کہ جو شخص یہ کام کرنے لگے، اسے چھوڑ دیا جائے، اسی طرح حدیث میں مذکور ہے کہ جو شخص یہ کام کرنے لگے اس کی جان اور مال محفوظ ہوجائیں گے۔ دونوں باتوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔ اسی مناسبت سے امام بخاریؒ نے آیت اور حدیث کو یکجا ذکر کیا ہے‘‘ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ، طبع مصر، ۱/۲۰۳) آگے لکھتے ہیں : ’’حدیث کا مفہوم آیت کے مفہوم کے عین مطابق ہے، اسی لیے امام بخاری نے حدیث کے ساتھ آیت کو ذکر کیا ہے۔‘‘ (حوالہ سابق، ۱/۲۰۴) موجودہ دور کے عظیم مصلح اور مفسر قرآن علامہ سید محمد رشید رضا نے لکھا ہے: ’’یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ الفاظ حدیث سے بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بیان کردہ حکم تمام کفار سے قتال کے تعلق سے مطلق اور عام ہے، جب کہ آیت میں بیان کردہ حکم صرف مشرکین کے تعلق سے ہے۔ قابل ِ ترجیح یہ ہے کہ حدیث کو آیت پر محمول کیا جائے، تاکہ اس کا مفہوم صحیح اور محکم رہے۔ امام بخاری کی فقہ اور نکتہ رسی کا اظہار ان ابواب سے ہوتا ہے جو انھوں نے اپنی کتاب کی احادیث پر قائم کیے ہیں ۔ انھوں نے کتاب الایمان کے ایک باب میں اس حدیث کو سورہ التوبہ کی آیت ۵ کے ذیل میں نقل کیا ہے۔‘‘ (تفسیر المنار، طبع مصر، ۱۰/ ۱۷۲) اس تفصیل سے واضح ہوا کہ اس حدیث کا مفہوم سورۂ توبہ کی آیت ِمذکور کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (۳) قرآن کریم میں وارد آیات ِقتال کا مطالعہ ان کے زمانۂ نزول کے پس منظر میں کرنا چاہیے۔ یہ پہلو نگاہوں سے اوجھل ہوجائے تو عموماً ان آیات کو سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے اور طرح طرح کے اشکالات پیدا ہوتے ہیں ۔ اسلام آزادی ِ فکر و عقیدہ کا علمبردار ہے۔ وہ کسی پر ز ور زبردستی اور جبر و کراہ کے ذریعے اپنے خیالات مسلّط نہیں کرتا، بل کہ اسے ناروا ظلم قرار دیتا ہے۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جن لوگوں نے اپنے اس بنیادی حق کو استعمال کرتے ہوئے اسلام قبول کیا، مشرکین مکہ ان کے جانی دشمن بن گئے، ان کو طرح طرح سے ستایا اور ان پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے۔ ان زہرہ گداز حالات سے بچنے کے لیے انھیں اپنا گھر بار اور وطن چھوڑنا پڑا اور پہلے حبشہ، پھر مدینہ میں پناہ لینی پڑی۔ اس کے باوجود مشرکین نے انھیں چین سے بیٹھنے نہ دیا اور وقتاً فوقتاً ان کے خلاف جنگ برپا کرتے رہے اور انھیں بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کی تدبیریں کرتے رہے۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کو جنگ کرنے کی اجازت دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ جو لوگ تمھاری جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور برابر تم سے جنگ برپا کیے ہوئے ہیں تم بھی ان سے جنگ کرو اور ان کی سرکوبی کرنے اور ان کا زور توڑ دینے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کرو۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ قرآن کریم نے مشرکین عرب کو بہ راہ راست خطاب کیا ہے۔ انھیں توحید کی دعوت دی ہے او ران کے سامنے شرک کے خلاف دلائل قائم کیے ہیں ۔ ان کے درمیان اللہ کے رسول ﷺ کی ذات گرامی بہ نفس نفیس موجود تھی۔ آپ نے ہر پہلو سے ان کے سامنے کلمۂ حق پیش کیا اور انھیں شرک سے روکا۔ یہاں تک کہ جب ایک طویل عرصہ گزر گیا اور ان پر حجت تمام ہوگئی تو اعلان کردیا گیاکہ اب مرکز اسلام میں صرف توحید کا بول بالا ہوگا، کسی کو ہرگز شرک پر قائم رہنے کی اجازت نہ ہوگی۔ قرآن کریم میں مذکور آیات ِ قتال عموماً حالت ِ جنگ سے بحث کرتی ہیں ۔ جب جنگ برپا ہو اس وقت نرمی دکھانا اور دشمن پر وار کرنے میں پس و پیش کرنا خود کو موت کے منہ میں ڈھکیلنے کے مترادف ہوتا ہے۔ کسی کی جان لینا یقینا برا ہے، لیکن ’فتنہ‘ اس سے زیادہ برا ہے اور فتنہ یہ ہے کہ کسی کو اس کی پسند کا عقیدہ قبول کرنے کی آزادی نہ دی جائے اور اس کی وجہ سے اس پر ظلم و ستم روا رکھا جائے۔ مسلمانوں سے کہا گیا کہ مشرکین یہی فتنہ برپا کیے ہوئے ہیں ۔ اس لیے ان سے اس وقت تک جنگ کرتے رہو جب تک کہ یہ فتنہ فرو نہ ہوجائے۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ جنگ کے یہ احکام مشرکین ِ عرب کے ساتھ خاص تھے اور ان کا ایک مخصوص پس منظر ہے۔ انھیں تمام غیر مسلموں سے متعلق عام اور مطلق قرار دینا صحیح نہیں ۔ علامہ عینیؒ فرماتے ہیں : ’’سورہ برأۃ (توبہ) کی یہ آیت (نمبر ۵) مشرکین مکہ اور دیگر اہل عرب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اس لیے کہ انھوں نے مسلمانوں سے کیے گئے عہد کو توڑا تھا۔‘‘ (عمدۃ القاری، ۱/۲۰۳) علامہ رشید رضا نے لکھا ہے: ’’یہ بات متفق علیہ ہے کہ قرآن میں مشرکین اور اہل کتاب کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہ آیت (التوبۃ: ۵) مشرکین عرب سے متعلق ہے، جنھوں نے معاہدوں کی پابندی نہیں کی، اس لیے انھیں منسوخ کردیا گیا۔ ان آیات میں مشرکین عرب سے جنگ کرنے کا حکم اس وجہ سے دیا گیا کہ انھوں نے ہی مسلمانوں سے جنگ کا آغاز کیا تھا اور ان سے کیے گئے معاہدوں کو توڑا تھا، جیسا کہ آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنھوں نے رسولؐ کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے‘‘ (التوبۃ: ۱۳) ان سے جنگ کرنے کا حکم ’جیسے کو تیسا‘ کے اصول پر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو، جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں ۔‘‘ (التوبۃ: ۳۶) (تفسیر المنار: ۱۰/۱۶۷- ۱۶۸) حدیث میں بھی اگرچہ الفاظ عام ہیں ، لیکن مراد مشرکین عرب ہی ہیں ۔ امام نوویؒ شارح صحیح مسلم نے قاضی عیاضؒ کا یہ قول نقل کیا ہے: ’’اس سے مراد مشرکین عرب، بت پرست اور غیر موحدین ہیں ۔ یہی وہ لوگ تھے، جنھیں سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی گئی اور اسے قبول نہ کرنے پر ان سے جنگ کی گئی۔‘‘ (شرح صحیح مسلم، نووی، ۱/۲۰۷) حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں : ’’حدیث میں ’الناس‘( لوگ) کا لفظ آیا ہے۔ وہ اگرچہ عام ہے، لیکن اس سے خاص معنی مراد ہے، یعنی مشرکین، غیر اہل کتاب۔ اس کا ثبوت نسائی کی روایت سے ملتا ہے۔ اس میں ’الناس‘ کی جگہ ’المشرکین‘ کا لفظ ہے: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ الْمُشْرِکِیْنَ (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکین سے جنگ کروں ) (فتح الباری: ۱/۷۷) (۴) زیر بحث حدیث اسلام کی مجموعی تعلیمات (کہ دین کے معاملے میں کسی پر کوئی زور زبردستی نہیں ، کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا) سے نہیں ٹکراتی ہے، بل کہ اس کا مخصوص پس منظر ہے، جس کی وضاحت سطور ِ بالا میں کی گئی۔ اس کی تائید ایک دوسرے حدیث سے ہوتی ہے، جسے حضرت جابرؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیں ۔ پھر جب وہ ایسا کرلیں تو ان کی جانیں اور ان کے مال محفوظ ہوجائیں گے۔ الا ّیہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس حفاظت سے محروم کردیے جائیں ۔ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے۔ پھر آپؐ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌoط لَّسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍoلا س (الغاشیۃ: ۲۱، ۲۲) (جامع ترمذی، ابواب تفسیر القرآن، سورۂ غاشیہ، ۳۳۴۱) رسول اللہ ﷺ کا حکم الٰہی کی ترجمانی کرنے کے بعد مذکورہ ارشاد ِ الٰہی کی تلاوت کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ آپؐ کے نزدیک بھی ان دونوں کا محل الگ الگ تھا۔ (۵) حدیث کا آخری ٹکڑا وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ (ان کا حساب اللہ کے ذمّے ہے) بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں سے مسلمانوں کی جنگ ہو رہی ہے، اگر ان میں سے کوئی شخص اسلام لے آئے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا اور اس چیز کی کھود کرید نہیں کی جائے گی کہ وہ سچے دل سے اسلام لایا ہے یا محض موت کے خوف سے اور جان بچانے کے لیے اس نے ایسا کیا ہے۔ بہ الفاظ دیگر اس حدیث میں دوسروں کو بہ جبر مسلمان بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے، بل کہ یہ تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شخص کسی بھی حال میں اسلام کا اظہار کرے تو اس کا اعتبار کیا جائے اور خواہ مخواہ اس کے معاملے میں شک و شبہ سے کام نہ لیا جائے۔ تمام شارحین حدیث نے اس کا یہی مطلب بتایا ہے۔ چند اقوال ملاحظہ ہوں : ابن حجرؒ: ’’اس میں دلیل ہے اس بات کی کہ ظاہری اعمال کو قبول کیا جائے گا اور ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘ (فتح الباری) عینیؒ: ’’یعنی ان کے اسرار کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے جہاں تک ہمارا معاملہ ہے تو ہم ظاہر کے مطابق فیصلہ کریں گے اور ان سے صادر ہونے والے اقوال اور افعال کے ظاہر کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کریں گے۔‘‘ (عمدۃ القاری، ۱/۲۰۷) خطابیؒ: اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام کا اظہار کرے تو خواہ وہ اپنے دل میں کفر چھپائے ہوئے ہو، لیکن اس کے ظاہری اسلام کا اعتبار کیا جائے گا۔ (معالم السنن، طبع حلب، ۲/۱۱) نوویؒ: ’’اس میں کہا گیا ہے کہ احکام ظاہر کے مطابق جاری کیے جائیں گے۔ دلوں کے بھید جاننے والا اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘ (شرح صحیح مسلم، ۱/۲۱۲) طیبیؒ: یعنی جو شخص لا الہ الا اللہ کہہ دے اور اپنے مسلمان ہونے کااظہار کرے اس سے ہم جنگ نہیں کریں گے اور اس کے اندروں میں نہیں جھانکیں گے، کہ وہ مخلص ہے یا نہیں ؟ اس لیے کہ یہ چیز اللہ کے حوالے ہے۔ اس کا حساب لینا اس کے ذمّے ہے۔‘‘ (بہ حوالہ تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، عبد الرحمن مبارک پوری، طبع دیوبند، ۷/۲۸۳) یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے کسی دور میں بھی اسلام قبول کرنے والوں کے بارے میں کسی شک و شبہ کا اظہار نہیں کیا گیا، خواہ انھوں نے کیسے ہی حالات میں اس کا اظہار کیا ہو، بل کہ احادیث میں بعض واقعات ایسے بھی ملتے ہیں کہ دشمن کے کسی فوجی نے تلوار کی زد میں آنے پر کلمہ پڑھ لیا، لیکن صحابی نے اسے قتل کردیا، اللہ کے رسول ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپؐ نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ مخلص ہے یا نہیں ؟ (مسلم: ۲۷۷، ابو داؤد: ۲۶۴۳، ابن ماجہ: ۳۹۳۰) اس تفصیل سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حدیث اسلام کی مجموعی تعلیمات سے نہیں ٹکراتی، بل کہ اس کا ایک مخصوص پس منظر ہے۔ اس لیے اس کا عمومی مفہوم مراد لینا صحیح نہیں ہے۔

Leave a Comment