کیا غور و تدبر کا تعلق دل سے ہے؟

سورۂ محمد کی آیت نمبر ۲۴ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْٰانَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَاo ’’کیا یہ لوگ قرآن پر غور و تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ؟‘‘ عام طور پر غور و فکر اور تدبر کا تعلق دماغ سے سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس آیت مبارکہ سے پتا چلتا ہے کہ اگر دلوں پر قفل پڑے ہوں تو انسان قرآن مجید پر غور و فکر اور تدبر نہیں کرپاتا۔ از راہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر کے ضمن میں انسانی دل کس طرح اپنا کردار نبھاتا ہے؟
جواب
قرآن کریم میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن میں آخرت اور دیگر عقائد پر استدلال کرتے ہوئے انسانوں کو غور و تدبر کا حکم دیا گیا ہے اور ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو اندھے بہرے بنے رہتے ہیں اور عقل کو کام میں نہیں لاتے۔ کہا گیا ہے کہ مختلف مظاہر کائنات، خود انسان کے وجود اور تاریخ میں کثرت سے نشانیاں ہیں ، ان لوگوں کے لیے جو عقل و تدبر سے کام لیتے ہیں ۔ ان کے لیے قَوْمٌ یَّعْقِلُوْنَ، قَوْمٌ یَّتَفَکَّرُوْنَ، قَوْمٌ یَّفْقَھُوْنَ، قَوْمٌ یَذَّکَّرُوْنَ، اُوْلِی الْاَلْبَابِ، اُوْلِی الْاَبْصَارِ، اُوْلِی النُّھٰی اور ذِیْ حِجْرکے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ اسی طرح تعقل و تفکر پر ابھارنے کے لیے اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ، اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ، اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ، اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ، اور اَفَلاَ تَتَفَکَّرُوْنَ جیسے الفاظ لائے گئے ہیں ۔ (۱) قرآن کریم میں آیت ِ مذکور کے علاوہ متعدد آیات ایسی ہیں ، جن میں علم، عقل، ذکر، فقہ اور تدبر وغیرہ کو قلب کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ مثلاً: اَفَلَمْ یَسِیْرُوا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُونَ بِہَآ (الحج: ۴۶) ’’کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ، جن سے ان کے دل ایسے ہوجائیں کہ ان سے سمجھنے لگیں ۔۔۔‘‘ لَہُمْ قُلُوبٌ لّاَ یَفْقَہُوْنَ بِہَا ز (الاعراف: ۱۷۹) ’’ان کے پاس دل ہیں ، مگر وہ اس سے سوچتے نہیں ۔‘‘ وَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَo (التوبۃ: ۹۳) ’’اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپّہ لگادیا، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے۔‘‘ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَ ہُوَ شَہِیْدٌo (ق: ۳۷) ’’اس (تاریخ) میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو یا جو توجہ سے بات کو سنے۔‘‘ ویسے قرآن میں قلب، قلبین اور قلوب کے الفاظ ۱۳۲ مرتبہ استعمال ہوئے ہیں اور بیش تر مقامات پر ان کی طرف علم و عقل اور غور و تدبر کی صفات کی نسبت کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے قدیم مفسرین اس طرح کی بات لکھ گئے ہیں کہ علم و عقل کا محل قلب ہے۔ امام رازیؒ فرماتے ہیں : ’’میرے نزدیک قلب خیال اور تدبر سے کنایہ ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْریٰ لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ(اس میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو) بعض لوگوں کے نزدیک تفکر کا محل دماغ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ یہ واضح کر رہا ہے کہ اس کا محل سینہ ہے۔۔۔ کیا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل ہی علم ہے اور علم کا محل دل ہے؟ اس کا جواب ہے: ہاں ، اس لیے کہ ارشاد باری تعالیٰ یَعْقِلُوْنَ بِھَا سے مقصود علم ہے۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ قلب اس عقل کا آلہ ہے، اس لیے اسے عقل کا محل ماننا ضروری ہے۔‘‘ (۱) میڈیکل سائنس میں دل اور دماغ کا شمار اعضاے رئیسہ یعنی جسم انسانی کے انتہائی اہم کام انجام دینے والے اعضا میں ہوتا ہے۔ ان سے الگ الگ کام متعلق ہیں ۔ دل سینے میں پایا جانے والا ایک عضو ہے، جو دوران ِ خون کا نظام کنٹرول کرتاہے۔ اس کی انقباضی و انبساطی حرکات سے خون پورے بدن میں ، ہر عضو اور ہرخلیہ میں پہنچتا ہے، پھر واپس دل میں آتا ہے۔ دماغ حس و حرکات کا مبدأ ہے اور وہ تعقل و تفکر اور استنباط و استنتاج کی بھی خدمت انجام دیتا ہے۔ لیکن زبان و ادب کا معاملہ دوسرا ہے۔ اس میں لفظ ’دل‘ اس معنی میں بھی استعمال ہوتاہے جس میں وہ علم تشریح (Anatomy) میں مستعمل ہے اور اس کا استعمال تعقل و ادراک کی خدمت انجام دینے والے عضو کی حیثیت سے بھی ہوتا ہے۔ عربی زبان میں بھی لفظ ’قلب‘ مذکورہ دونوں معنوں میں استعمال ہوتا تھا۔ اسی لیے قرآن کریم نے بھی اسے انہی معانی میں استعمال کیا۔ ماضی قریب کے مفسر شیخ طاہر بن عاشور تیونسی (م ۱۹۷۳ء) نے آیت خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ (البقرۃ: ۶) کی تفسیر میں لکھا ہے: ’’یہاں قلوب سے مراد عقول ہیں ۔ اہل عرب قلب کا اطلاق جسم انسانی میں پائے جانے والے صنوبری شکل کے عضو پر بھی کرتے تھے اور ادراک و عقل پر بھی۔ انسانوں کے تعلق سے انھوں نے اسے صرف انہی دو معانی میں استعمال کیا ہے اور حیوانات میں بھی اس کا اکثر استعمال انہی دو معانی میں ہوا ہے۔ یہاں اس سے مراد ادراک و عقل ہے۔ یقینا اس کا مرکز دماغ ہے، لیکن قلب ہی اس کو وہ قوت بہم پہنچاتا ہے جس سے ادراک کا عمل انجام پاتا ہے۔‘‘ (۱) ڈاکٹر محمد الشرقاوی نے قرآن میں لفظ ’قلب‘ کے استعمالات سے بحث کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’اس بات کی طرف اشارہ کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ’قلب‘ کا استعمال اگرچہ قرآن کریم میں ایک سو تیس سے زائد مقامات پرہوا ہے، لیکن کسی جگہ بھی وہ طبی تشریحی (Medical Anatomical)معنی میں نہیں آیا ہے۔ بلکہ اس سے مراد ادراک و معرفت کا ایک ایسا انتہائی پیچیدہ نظام لیا گیا ہے جو متعدد، متنوع اور باہم مربوط افعال انجام دیتاہے۔ وہ ایسی منفرد خصوصیات رکھتا ہے، جن میں جسم انسانی کی دیگر صلاحیتیں اس کی شریک نہیں ہیں ۔ قرآن نے اس کے مفوضہ کاموں میں سے دو کا تذکرہ خصوصیت سے کیا ہے: ایک ادراک، معرفت اور علم ہے اور دوسرا ایمان اور اس سے متعلق جذبہ، وجدان اور ارادہ ہے۔‘‘ (۱) ایک دوسرے محقق ڈاکٹر محمد علی الجوز و رقم طراز ہیں : ’’قلب کا لفظ قرآن کریم میں ۱۳۲؍ آیات میں استعمال ہوا ہے، جو نفس انسانی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتی ہیں ۔ کبھی معلوم ہوتا ہے کہ ہم عقل کی کسی صورت کے سامنے یا خود عقل کے سامنے ہیں ، کبھی جذبات و احساسات اور وجدانی شعور کے سامنے اپنے کو موجود پاتے ہیں اور کبھی ایسا نظر آتا ہے کہ عقلی و جذباتی پہلوؤں کی جامع تصویر سامنے ہے۔‘‘ (۲) یہ صرف عربی ہی کا معاملہ نہیں ہے، بل کہ دیگر زبانوں میں بھی یہی استعمالات ہیں ۔ مثال کے طور پر اردو زبان میں لفظ ’دل‘ جہاں جسم انسانی میں پائے جانے والے عضو کے لیے بولا جاتا ہے وہیں ادراک، معرفت، احساس، خیال اور ارادے کے افعال بھی اس کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں ۔ مثلاً دل برداشتگی، دل بستگی، دل پزیری، دل پسندی، دل جمعی، دلچسپی، دل دہی، دل سوزی، دل شکستگی، دل فریبی، دل کشی، دل گرفتگی، دل اچاٹ ہونا، دل باغ باغ ہونا، دل بجھنا، دل بھر آنا، دل پگھلنا، دل پھسلنا، دل دہل جانا، دل مچلنا، دل موہ لینا، دل میں آنا وغیرہ۔ قرآن کریم میڈیکل سائنس کی کتاب نہیں ہے، بلکہ کتاب ہدایت ہے۔ وہ اس زبان میں کلام کرتا ہے جسے عام انسان آسانی سے سمجھ سکیں اور الفاظ کے وہی معانی مراد لیتا ہے جن کی طرف لوگوں کے ذہن فوراً منتقل ہوسکیں ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق تفسیر تفہیم القرآن میں آیت أَفَلَمْ یَسِیْرُوا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ (الحج: ۴۶) کی تفسیر میں لکھا ہے: ’’خیال رہے کہ قرآن سائنس کی زبان میں نہیں ، بلکہ ادب کی زبان میں کلام کرتا ہے۔ یہاں خواہ مخواہ ذہن اس سوال میں نہ الجھ جائے کہ سینے والا دل کب سوچا کرتا ہے۔ ادبی زبان میں احساسات، جذبات، خیالات، بلکہ قریب قریب تمام ہی افعال ِ دماغ، سینے اور دل ہی کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ کسی چیز کے ’یاد ہونے‘ کو بھی یوں کہتے ہیں کہ ’وہ تو میرے سینے میں محفوظ ہے۔‘‘ (۱) اوپر جو سوال درج کیا گیا ہے اسی طرح کا سوال ایک صاحب نے مولانا مودودیؒ سے کیا تھا۔ وہ سوال اور مولانا کا جواب دونوں کو ذیل میں درج کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے: سوال: خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ سے معاً یہ خیال آتا ہے کہ گویا دل خیالات کی ایک جلوہ گاہ (Agency)ہے۔ شاید اس زمانے میں جالینوس کے نظریات کے تحت ’دل‘ کو سرچشمۂ افکار (Originator of Thought) سمجھا جاتاتھا۔ لیکن آج کل طبی تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ دل صرف دوران ِ خون کو جاری رکھنے والا ایک عضو ہے اور ہر قسم کے خیالات اور حسیات اور ارادے اور جذبات کا مرکز دماغ ہے۔ اس تحقیق کی وجہ سے ہر اس موقع پر الجھن پیدا ہوتی ہے جہاں دل سے کوئی ایسی چیز منسوب کی جاتی ہے جس کا تعلق حقیقت میں دماغ سے ہوتا ہے۔ جواب: دل کا لفظ ادب کی زبان میں کبھی اس معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے، جس میں یہ لفظ علم تشریح اور علم وظائف الاعضاء (Physiology) میں استعمال ہوتا ہے۔ ادب میں دماغ Creationکی نمایندگی کرتاہے اور اس کے برعکس دل جذبات و حسیات اور خواہش و ارادے کا مرکز مانا جاتا ہے۔ ہم رات دن بولتے ہیں کہ میرا دل نہیں مانتا، میرے دل میں خیال آیا، میرا دل یہ چاہتا ہے۔ انگریزی میں Qualities of head and heartکا فقرہ کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ الفاظ بولتے وقت کوئی شخص بھی علم تشریح والا دل مراد نہیں لیتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کا آغاز اسی نظریے کے تحت ہوا ہو جو جالینوس کی طرف منسوب ہے، لیکن ادب میں جو الفاظ رائج ہوجاتے ہیں ، وہ بسا اوقات اپنے ابتدائی معنی کے تابع نہیں رہتے۔‘‘ (۲) قرآن کریم میں اس معنی کے لیے ’فؤاد‘ اور اس کی جمع ’افئدۃ‘ کے الفاظ کا بھی استعمال ہوا ہے: اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓـئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلاًo (بنی اسرائیل: ۳۶) ’’یقینا کان، آنکھ اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے۔‘‘ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَط (السجدۃ: ۹) ’’اور تم کو کان، آنکھ اور دل دیے۔‘‘ اس کا ترجمہ بھی اردو میں ’دل‘ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے طبی معنی نہیں ، بلکہ ادبی معنی مراد ہوتے ہیں ۔ مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے: ’’دل سے مراد وہ ’ذہن‘ (Mind)ہے جو حواس کے ذریعے سے حاصل شدہ معلومات کو مرتب کرکے ان سے نتائج نکالتا ہے اور عمل کی مختلف امکانی راہوں میں سے کوئی راہ منتخب کرتا اور اس پر چلنے کا فیصلہ کرتا ہے۔‘‘ (۱) قرآن کریم میں ایک لفظ ’صدر‘ (سینہ) کا بھی استعمال اسی معنی میں ہوا ہے۔ گویا قلب، فؤاد اور صدر تینوں الفاظ قرآن میں نیت و ارادہ، تعقل و تفکر، غور و تدبر، جذبہ و خواہش اور علم و ادراک کے مراکز کے طور سے استعمال ہوئے ہیں ۔ اور یہ استعمال ادبی حیثیت سے بالکل درست ہے اور آج بھی دنیا کے تمام خطوں میں اور تمام زبانوں میں معروف ہے۔ یہ تشریح مولانا مودودیؒ کے مکاتیب میں بھی ایک جگہ ملتی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: ’’قرآن مجید چونکہ سائنس کی زبان میں نہیں ، بلکہ ادب کی زبان میں نازل ہوا ہے، اس لیے وہ قلب، فؤاد اور صدر کے الفاظ اسی طرح ادبی طرز میں استعمال کرتا ہے، جس طرح تمام دنیا کی زبانوں میں یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔ مثلاً اردو میں ہم کہتے ہیں کہ ’اس بات کو میرا دل نہیں مانتا‘ یا ’فلاں شخص کا سینہ بے کینہ ہے‘ یا انگریزی میں Heart Searching اور Qualities of Head and Heart کے الفاظ بولے جاتے ہیں ۔ اس سے خود بہ خود یہ ظاہر ہوجاتاہے کہ قلب، فؤاد اور صدر سے مراد علم، شعور، جذبات، ارادوں ، نیتوں اور خواہشات کے مراکز ہیں ۔ ادب کی زبان میں اس مقصد کے لیے دماغ کا لفظ کم اور دل کا لفظ زیادہ استعمال ہوتا ہے، بلکہ دماغ کے بجائے زیادہ تر ’سر‘ کا لفظ بولتے ہیں ، جیسے سرِ پر غرور، یا فلاں شخص سر پھرا ہے۔‘‘ (۲)

Leave a Comment