کیا قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دیا جاسکتا ہے؟

کیا قربانی کا گوشت کسی غیر مسلم کو دیا جاسکتا ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں ؟
جواب
قربانی کے گوشت کے سلسلے میں حکم یہ ہے کہ اسے آدمی خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی دے سکتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے: کُلُوْا وَادَّخِرُوا وَ تَصَدَّقُوْا ۔(۱) ’’(قربانی کا گوشت) کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔‘‘ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں : کُلُوْا وَ اَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا ۔(۲) ’’(قربانی کا گوشت) کھاؤ، دوسروں کو کھلاؤ اور (آیندہ کے لیے) روک لو۔‘‘ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے یا آئندہ کے لیے روک کر رکھنے کا پس منظر یہ ہے کہ ابتدا میں آں حضرت ﷺ نے حکم دیا تھا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا جائے، یعنی استعمال کے لیے صرف اتنا گوشت روکا جائے جو تین دنوں کے لیے کفایت کرے، بقیہ صدقہ کردیا جائے۔ لیکن بعد میں آپؐ نے یہ ممانعت اٹھا لی اور تین دن سے زیادہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ کسی حدیث میں قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دینے کی ممانعت مذکور نہیں ہے۔ اس کا حکم عام صدقات کا ہے۔ جس طرح زکوٰۃ کے علاوہ دیگر صدقات غیر مسلم کو دیے جاسکتے ہیں ، اسی طرح قربانی کا گوشت بھی اسے دیا جاسکتا ہے۔

Leave a Comment