کیا نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی جاسکتی ہے ؟

اگر نماز جنازہ فرض نماز کےبعدفوراً ہو اوراسی جگہ پڑھ لی جائے جہاں فرضـ نماز ادا کی گئی ہے توکیا ایسا کرنے میں کچھ قباحت ہے ؟
جواب
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  مَنْ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ فِیْ الْمَسْجِدِ فَلَیْسَ لَہُ شَئٌی (ابن ماجہ : ۱۵۱۷۔علامہ البانی ؒ نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔) ’’جس شخص نے مسجدمیں نماز جنازہ پڑھی، اسے کچھ اجر نہیں ملےگا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسجد نبوی کے باہر ایک جگہ نماز جنازہ کے لیے متعین کردی گئی تھی ۔ وہیں آپ ؐ نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ بہت سی احادیث میں اس کا تذکرہ موجودہے ۔ حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے کہ یہ جگہ مسجد نبوی سے متصل مشرقی جانب تھی ۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ، المکتبہ السلفیہ: ۳؍۱۹۹)اس بنا پر بہتر یہ ہے کہ عام حالات میں سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے نماز جنازہ مسجد کے باہرادا کی جائے۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں بعضـ مواقع پر مسجد میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے ۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں : لَقَدْ صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی ابْنَی بَیْضَاءَ فِیْ الْمَسْجِدِ (مسلم : ۹۷۳، ابوداؤد : ۳۱۸۹، ترمذی : ۱۰۳۳، نسائی : ۱۹۶۸) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں کی نماز جنازہ مسجد میں اداکی۔‘‘ حضرت ابوبکر صدیقؓ اورحضرت عمر فاروقؓ کی نماز جنازہ بھی مسجد میں ادا کی گئی۔ (مصنف عبدالر ز اق : ۶۵۷۶،موطا امام مالک : ۹۶۹) اسی بنا پر امام بخاری نے یہ ترجمۃ الباب قائم کیا ہے : باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلیٰ وبالمسجد (اس چیز کا بیان کہ جنازہ گاہ اور مسجد دونوں جگہ نماز جنازہ اداکی جاسکتی ہے ) علامہ محمدناصر الدین البانیؒ نے لکھا ہے : ’’مسجد میں نماز جناز ہ جائز ہے ( بہ طور دلیل انہوں نے کئی حدیثیں نقل کی ہیں ) لیکن افضل یہ ہے کہ مسجد سے باہر جنازہ گاہ میں ادا کی جائے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں معمول تھا ۔‘‘ (احکام الجنائز ، ص ۱۳۵) فقہاء میں امام شافعیؒ اورامام احمدؒ کے نزدیک اگر مسجد میں گندگی ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو وہاں نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔ امام مالکؒ کے نزدیک مسجد میں جنازہ کولے جانا مکروہ ہے ، البتہ اگروہ مسجد کے باہر رکھا ہو تومسجد میں موجودہ افراد اس کی نماز میں شریک ہوسکتے ہیں ۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جس مسجد میں پنج وقتہ نماز ہوتی ہے اس میں جنازہ کی نماز پڑھنی مکروہ ہے ، خواہ جنازہ اورنمازی دونوں مسجد میں ہوں ،یا جنازہ مسجد سے باہر اورنمازی مسجد کے اندر ہوں ، یا جنازہ مسجد میں اور نمازی مسجد کے باہر ہو ں ۔ البتہ بارش یا کسی دوسرے عذر کی بناپر مسجد میں نماز جنازہ بلا کراہت جائز ہے (الفتاویٰ الہندیۃ: ۱؍۱۶۲، فتاویٰ شامی :۱؍۶۱۹۔۶۲۰) اس موضوع پر تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجئے: الموسوعۃ الفقہیۃ کویت۱۶:؍۳۵۔۳۶

Leave a Comment