اسقاطِ حمل کی صورت میں عدّت

میری بھابی کو جب ان کے شوہر نے طلاق دی تو حمل سے تھیں۔ لیکن ابھی ان کا حمل صرف تین ماہ کا تھا کہ اسقاط ہوگیا۔ حاملہ کی عدّت وضع حمل بیان کی گئی ہے۔ کیا اسقاط کی صورت میں یہ سمجھ لیا جائے کہ ان کی عدّت پوری ہوگئی، یا اس کا دوسرا حکم ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرمادیں

جواب

عدّت کے احکام قرآن مجید میں بیان کردیے گئے ہیں۔ جوان عورت کی عدّت تین ماہ واری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالْمُطَلَّقٰتُ یتَـرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوٓءٍ (البقرة: 228)

’’جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو وہ تین مرتبہ ماہ واری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔‘‘

اور حاملہ عورتوں کی عدّت وضع حمل بیان کیا گئی ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

وَاُولَاتُ الْاَحْـمَالِ اَجَلُـهُنَّ اَنْ یضَعْنَ حَـمْلَـهُنَّ(الطلاق: ۴)

’’اور حاملہ عورتوں کی عدّت اُس وقت تک ہے جب ان کا وضعِ حمل ہوجائے۔ ‘‘

بعض فقہا کی رائے ہے کہ چاہے حمل کی مدّت پوری ہونے کے بعد بچے کی ولادت ہو، یا اس سے قبل ہی اسقاط ہوجائے، یا اسقاط کروادیا جائے، ہر صورت میں عدّت پوری مانی جائے گی۔ مغیرہ نے حضرت ابراہیم نخعیؒ سے اسقاط کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا: ’’اس سے عدّت پوری ہوجائے گی۔ ‘‘ قاضی شریحؒ کی رائے ہے: ’’مطلّقہ عورت کا اسقاط ہوجائے تو اس کی عدّت پوری ہوجاتی ہے۔ ‘‘ حسن بصریؒ کہا کرتے تھے: ’’اگر عورت کے حمل کا علم ہو، پھر علقہ یا مضغہ کی صورت میں اس کا اسقاط ہوجائے تو عدّت پوری ہوجائے گی۔ (یہ تینوں اقوال مصنف ابن ابی شیبہ میں مروی ہیں۔ ملاحظہ ہو: ۴؍۱۸۵، روایت نمبر: ۲۰۵۳)

فقہ حنفی میں اس کی کچھ تفصیل ہے۔ وہ یہ کہ اگر حمل میں بچے کے اعضاء (ہاتھ، پیر، انگلی، ناخن وغیرہ) کی بناوٹ ظاہر ہوچکی ہو تو اس کا اسقاط ہوجانے کی صورت میں عدّت مکمل سمجھی جائے گی، لیکن اگر اعضاء کی بناوٹ ظاہر نہ ہوئی ہو تو اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور تین ماہ واری گزارنے کے بعد عدّت مکمل ہوگی۔

فقہا نے اس کی حد ایک سو بیس دن یعنی چار ماہ قرار دی ہے۔ اگر مطلقہ عورت کا حمل چار ماہ یا اس سے زیادہ کا ہے اور اس کا اسقاط ہوجائے تو سمجھا جائے گا کہ اس کی عدّت مکمل ہوگئی، ورنہ نہیں۔

البحر الرائق میں ہے:

واذا أسقطت سقطاً استبان بعض خلقه انقضت به العدّۃ، لأنه ولد، وان لم یستبن بعض خلقه لم تنقض ( کتاب الطلاق، باب العدة، ۴؍۱۴۷)

’’کسی مطلّقہ عورت کا اسقاط ہوجائے، اس وقت اگر حمل کے بعض اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہوچکی ہو تو سمجھا جائے گا کہ اس کی عدّت پوری ہوگئی اور اگر بعض اعضاء کی بناوٹ ظاہر نہ ہوئی ہو تو عدّت مکمل نہیں سمجھی جائے گی۔ ‘‘

فتاویٰ شامی میں ہے:

ولا یستبین خلقه الّا بعد مائة وعشرین یوماً (مطلب فی احوال السقط: ۱؍۳۰۲)

’’حمل کے اعضاء کی بناوٹ ایک سو بیس دن کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ ‘‘

ایسی صورت میں اسقاط کے بعد اگر کم از کم تین دن تک خون آیا تو اسے ایک حیض شمار کیا جائے گا۔ اس کے بعد دو حیض اور گزارنے ہوں گے، تب عدّت مکمل ہوگی۔