اگر دورانِ عدت حیض بند ہو جائے

 ہمارے یہاں ایک صاحب نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ تین مہینے گزر گئے تب انھوں نے بیوی سے کہا کہ تمھاری عدت پوری ہو گئی ہے، اب تم میرے گھر سے نکلو۔ بیوی نے کہا کہ طلاق کے بعد مجھے اب تک ایک بار بھی حیض نہیں آیا ہے۔ اس معاملے نے تنازع کی صورت اختیار کر لی ہے۔ شوہر بیوی کو زبردستی گھر سے نکال رہا ہے۔ جب کہ بیوی کا کہنا ہے کہ عدت پوری ہونے سے پہلے میں گھر سے نہیں نکلوں گی۔

بہ راہِ کرم شرعی طور پر رہ نمائی فرمائیں کہ ایسی عورت کی عدت کا حساب کیسے لگایا جائے گا؟

جواب

قرآن مجید میں عدت کے احکام صراحت سے بیان کیے گئے ہیں۔ جس عورت کو حیض آ رہا ہو اس کی عدت تین حیض ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَالْمُطَلَّقَاتُ یتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ [سورة البقرة: 228]

(جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں)

اور جن لڑکیوں کو ابھی حیض نہ آیا ہو یا زیادہ عمر کی وجہ سے حیض بند ہو گیا ہو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔

وَاللَّائِی یئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِی لَمْ یحِضْنَ [سورة الطلاق: 4]

(اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمھیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔)

جس عورت کو مستقل طور پر حیض آنا بند ہو گیا ہو اسے ‘آئسہ’ کہتے ہیں۔ فقہ حنفی میں آئسہ ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں : اول یہ کہ اس کی عمر پچپن (55)برس ہو چکی ہو، کیوں کہ اس عمر تک کسی بھی وقت حیض آ سکتا ہے۔ دوم یہ کہ ماہ واری بند ہوئے کم از کم چھ ماہ ہو چکے ہوں۔ اگر عورت کی عمر پچپن برس نہیں ہوئی ہے تو اس کا شمار ذوات الحیض (یعنی حیض کے اعتبار سے عدت گزارنے والی عورتیں ) میں ہوگا اور اس کی عدّت تین حیض آنے کے بعد ہی پوری ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ عورت کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرے تاکہ اس کا حیض جاری ہو جائے اور تین حیض آکر اس کی عدت پوری ہو۔ (رد المحتار، کتاب الطلاق، باب العدة، 3/516)

مالکی فقہ میں جس عورت کو پہلے حیض آتا رہا ہو، بعد میں کسی سبب سے رک گیا ہو، اس کی عدت ایک برس قرار دی گئی ہے۔ نو مہینے مدتِ حمل کے اور تین مہینے آئسہ کی عدت کے۔ امام شافعی کا قدیم قول اور امام احمد بن حنبل کی ایک رائے بھی یہی ہے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت عمر بن الخطابؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور تابعین میں سے حضرت حسن بصریؓ کی بھی یہی رائے تھی۔

بعض حنفی علما نے یہ رائے دی ہے کہ اگر سن یاس سے قبل عدّت کی نوبت آ جائے تو عورت بہ ذریعہ علاج حیض جاری کروانے کی کوشش کرے۔ اگر حیض جاری نہ ہو پائے تو مالکی فقہ پر عمل کرتے ہوئے ایک برس کی عدت کا فتویٰ دیا جا سکتا ہے۔ (احسن الفتاویٰ، مفتی رشید احمد لدھیانوی، 4/436)

آج کل جب کہ علاج معالجہ کے میدان میں غیر معمولی ترقیات ہو گئی ہیں اور طبی جانچ کے بہت ایڈوانس آلات اور ذرائع حاصل ہیں، عدت کو ایک برس تک لمبا کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ اگر طبی تحقیقات سے معلوم ہو جائے کہ حیض کا جاری ہونا اب ممکن نہیں اور عورت کا رحم حمل سے خالی ہے تو اس کی عدت تین مہینے مان لینی چاہیے۔ شیخ ابن عثیمینؒ سے ایسی عورت کی عدّت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا “اگر طبی تحقیقات سے معلوم ہو جائے کہ عورت کا رحم خالی ہے، حمل نہیں ہے تو وہ مہینے کے حساب سے عدّت گزار سکتی ہے، اگرچہ بہتر ہے کہ اس معاملے میں سلف کی پیروی کی جائے، یعنی بہ طور احتیاط وہ ایک برس عدت گزارے۔ ”(الشرح الممتع علی زاد المستقنع، محمد بن صالح العثیمین، 13/346)