تقسیمِ میراث کے ایک مسئلے میں آپ سے مشورہ درکار ہے۔ براہِ کرم شرعی رہ نمائی فرمائیں۔
جناب کمال احمد کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی میں ہی تمام بچوں کی شادیاں کر دی تھیں۔ تینوں بیٹے ساتھ رہتے تھے۔ اسی دوران میں انھوں نے دادا سے ملی جائیداد کے علاوہ ایک گھر اور ایک کھیت خریدا۔ پھر چھوٹا بھائی اخلاق احمد حصولِ تعلیم کی غرض سے باہر چلا گیا۔ وہ سال میں دو بار چھٹیوں میں گھر آتا تھا اور گھریلو کام کاج میں بڑے بھائیوں کا ہاتھ بٹاتا تھا۔ اس دوران میں دونوں بڑے بھائیوں نے دو کھیت خریدے۔ یہ چاروں جائیدادیں انھوں نے اپنے باپ کے نام سے لکھوائیں۔
اخلاق احمد نے اپنی تعلیم مکمل کی، جس کے اخراجات کچھ ٹیوشن پڑھا کر پورے کیے اور کچھ بڑے بھائیوں سے لیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعدوہ باہر ہی کرایہ پر رہنے لگا اور کرایے کی جگہ میں دکان کی۔ آج تک مکان اور دکان دونوں کا کرایہ ادا کر رہا ہے، جب کہ دونوں بڑے بھائیوں کی رہائش اور دکان دونوں اپنے آبائی گھروں پر ہیں، جس کا کوئی کرایہ انھیں نہیں دینا پڑتا۔
اخلاق احمد اپنی آمدنی میں سے اپنا خرچ نکالنے کے بعد باقی رقم اپنی ماں کے ہاتھ میں دے دیتا تھا۔ اپنی شادی کے بعد اس نے ماں کو دی جانے والی رقم کم کر دی۔ اس نے ایک زمین خرید لی، جس میں دونوں بڑے بھائیوں نے کچھ بھی پیسہ نہیں دیا۔ اس زمین کی رجسٹری اس نے اپنے نام سے ہی کرا لی۔ ۲۰۱۵ء میں اس کی ماں کا اور دو برس کے بعد اس کے باپ کمال احمد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا۔ ۲۰۱۷ء میں اخلاق احمد نے اپنی خریدی ہوئی زمین فروخت کر کے اس میں کچھ رقم اپنے پاس سے ملا کر اور کچھ قرض لے کر ایک دوسری زمین خریدی، جس کا قرض مکمل طور پر ابھی ادا نہیں ہوا ہے۔ اب وراثت کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے :
تینوں بہنوں (کمال احمد صاحب کی تینوں لڑکیوں ) کو اس جائیداد میں حصہ دار سمجھا گیا جو کمال احمد صاحب کو اپنے والد سے ملی تھیں، بھائیوں کے ذریعے خریدی گئی جائیداد میں بہنوں کو کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔ تینوں بھائیوں کے درمیان تقسیم جائیداد میں دو رائیں بنیں :
۱۔ جب تک تینوں بھائی ساتھ میں رہتے تھے، تب تک کی جائیداد میں تینوں کا برابر حصہ ہے۔ دونوں بھائیوں کے ذریعےخریدی گئی زمین میں اخلاق احمد کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اخلاق احمد کے ذریعے خریدی گئی زمین میں دونوں بھائیوں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
۲۔ اب تک کی ساری جائیدادمیں تینوں بھائیوں کا برابر حصہ ہے، چاہے جس نے خریدی ہو۔
اسی دوسری رائے کو مناسب سمجھ کر تینوں بھائیوں میں جائیداد تقسیم کی گئی، یعنی اب تک کی ساری جائیداد میں تینوں بھائیوں کو برابر کا حصہ دار سمجھا گیا۔
اس تفصیل کی روشنی میں درج ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں :
کیا میراث کی یہ تقسیم صحیح ہے؟ اگر نہیں تو صحیح طریقے کی رہ نمائی فرمائیں۔
اخلاق احمد کے اوپر زمین کا باقی قرض وہ تنہا ادا کرے گا یا تینوں بھائی برابر ادا کریں گے؟
اخلاق احمد کے ذریعے ادا کی گئی دس سال کی کرائے کی رقم میں کیا دونوں بڑے بھائیوں سے کچھ لیا جائے گا؟
مہربانی کر کے اس مسئلے میں رہ نمائی فرمائیں ؟
جواب
پورا کیس پڑھ کر درج ذیل باتیں سمجھ میں آتی ہیں :
۱۔ وراثت کا تعلق اصل مرنے والے کی ملکیت سے ہے۔ جو چیزیں بھی اس کی ملکیت میں ہیں، وہ خواہ کم ہوں یا زیادہ، اس کے مرنے کے بعد شریعت کی طرف سے مقرر کردہ وارثوں میں تقسیم ہوں گی۔
کمال صاحب کے تین لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں۔ کمال صاحب کی ملکیت میں جتنی چیزیں تھیں، خواہ وہ انھیں اپنے والد سے ملی ہوں یا انھوں نے خود کمایا ہو، سب میں ان کے لڑکوں اور لڑکیوں کا حصہ ہوگا۔ آپ کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ کمال صاحب کی لڑکیوں کو صرف اس جائیداد میں حصہ دار سمجھا گیا جو کمال صاحب کو اپنے والد سے ملی تھیں۔ بہ ظاہر یہ ممکن نہیں ہے کہ موروثہ جائیدادوں کے علاوہ کمال صاحب کی ملکیت میں کچھ نہ ہو۔ بہرحال لڑکیوں کو موروثہ جائیداد کے علاوہ کمال صاحب کی ملکیت کی دوسری چیزوں میں بھی حصے دار بنانا چاہیے۔ تمام مملوکہ چیزوں کے نو (۹) حصے کر کے ایک ایک حصہ لڑکی اور دو دو حصے ہر لڑکے کو دینا چاہیے۔
۲۔ باپ کی زندگی میں لڑکے جو کچھ کماتے ہیں اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں : (۱) وہ جو کچھ کمائیں باپ کے حوالے کر دیں۔ (۲) تجارت یا دوسری مملوکہ چیزوں میں باپ کے ساتھ شرکت اختیار کریں۔ (۳) اپنی کمائی کی ملکیت اپنے پاس علیٰحدہ رکھیں۔ شریعت میں مذکورہ بالا تینوں چیزوں میں سے کسی کو بھی اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ صورتِ مسؤلہ میں تینوں بیٹوں نے اپنی جتنی کمائی کا مالک اپنے باپ کو بنا دیا ہے، وہ باپ کی ملکیت تصور کی جائیں گی اور ان کی میراث میں تمام مستحقین کی درمیان تقسیم ہوں گے۔ چاروں جائیدادوں کو کمال صاحب کے نام لکھوایا گیا۔ اس سے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔
۳۔ مشترکہ خاندان کے افراد ایک دوسرے پر جو کچھ خرچ کریں گے، بعد میں اس کا حساب کرنا اور اسے وصول کرنا صحیح نہیں ہے۔ چناں چہ دو نوں بھائیوں نے تیسرے بھائی کی تعلیم پر جو کچھ خرچ کیا، یا تیسرے بھائی نے اپنی آمدنی میں سے جو کچھ ماں کو دیا، اس کا بعد میں حساب کر کے واپس مانگنا صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح تیسرے بھائی اخلاق احمدکئی سال تک گھر سے باہر رہے اور انھوں نے رہائش اور دکان کرایے پر حاصل کی، جب کہ دو بھائی گھر پر رہے، جس کی وجہ سے انھیں رہائش اور دکان کا کرایہ ادا نہیں کرنا پڑا، اس بنا پر میراث تقسیم ہوتے وقت اخلاق احمد کا اپنے بھائیوں سے کرایے کی رقم کا مطالبہ کرنا درست نہیں معلوم ہوتا، اس لیے کہ اخلاق احمد کا باہر رہنا اپنے فیصلے اور مرضی پر ہوا ہوگا، بھائیوں کے کہنے پر یا ان کی مشورے سے نہیں ہوا ہوگا۔
۴۔ جائیدادوں کی تقسیم کی جو دو صورتیں لکھی گئی ہیں، ان میں سے پہلی صورت زیادہ موزوں لگ رہی ہے کہ باپ کے ذریعے خریدی گئی دونوں جائیدادوں میں تینوں بھائیوں کا برابر حصہ ہو، دونوں بھائیوں کے ذریعے خریدی گئی جائیداد ابرار احمد اور اشفاق احمد کے درمیان برابر تقسیم ہو جائے اور اخلاق احمد کے ذریعے خریدی گئی جائیداد میں ان کے دونوں بھائیوں کا کوئی حصہ نہ ہو۔ لیکن اگر دوسری صورت پر تینوں بھائیوں کا اتفاق ہو گیا ہے کہ کل جائیداد یں تینوں میں برابر تقسیم ہوں تو اخلاق احمد کے اوپر زمین کی خریداری میں جو قرض باقی ہے، اس کی ادائیگی میں بھی تینوں کو برابر کا شریک ہونا چاہیے۔
۵۔ تقسیم میراث میں اگر تینوں بھائی کشادہ دلی کا مظاہرہ کریں تو ان شاء اللہ آپس میں اختلاف نہیں ہوگا اور خوش اسلوبی سے تمام معاملات حل ہو جائیں گے۔