بیوہ عورت کا لباس

 کیا کوئی بیوہ عورت آٹھ مہینے کے بعد میرون کلر کا سوٹ پہن سکتی ہے؟

جواب

شوہر کا انتقال ہو جائے تو عورت کو چار ماہ دس دن عدّت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَالَّذِینَ یتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَیذَرُونَ أَزْوَاجًا یتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا (البقرہ: ۲۳۴)

’’ تم میں سے جو لوگ مر جائیں، اُن کے پیچھے اگر اُن کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں۔‘‘

عدّت کے دوران میں جو احکام بیوہ عورت کے متعلق ہیں ان میں سے ایک حکم زیب و زینت ترک کرنے کا ہے۔ لہذا جن چیزوں کا شمار شرعاً یا عرفاً زینت میں ہوتا ہے ان سے بیوہ عورت کو اجتناب کرنا چاہیے، مثلاً زیورات پہننا، زرق برق لباس زیب تن کرنا، خوشبو، سرمہ یا مہندی لگانا، وغیرہ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لا یحِلّ لامرأةٍ تُؤمنُ باللهِ والیومِ الآخِرِ، أن تُحِدَّ على میتٍ فوقَ ثلاثٍ، إلّا على زوجٍ أربعةَ أشهرٍ و عشراً (بخاری:۱۲۸۰، مسلم:۱۴۸۶)

’’ کسی عورت کے لیے، جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں ہے کہ وہ کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر کے کہ وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔ ‘‘

میت پر سوگ منانے کے لیے حدیث میں ‘اِحداد’کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے زیب و زینت ترک کر دینا، خوش بوٗ کا استعمال نہ کرنا اور رنگین اور جاذبِ نظر لباس استعمال نہ کرنا وغیرہ۔

البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ یہ حکم صرف عدّتِ وفات (چار ماہ دس دن) تک کے لیے ہے۔ اس کے بعد عورت ہر طریقے کا لباس استعمال کر سکتی اور ہر طرح کی زیب و زینت اختیار کر سکتی ہے، چاہے اس کی عمر جتنی بھی ہو۔ بعض سماجوں میں بیوہ عورت کو زندگی بھر کے لیے صرف سفید کپڑے پہننے اور زیب و زینت اختیار نہ کرنے کا پابند کیا جاتا ہے۔ شرعی طور پر یہ درست نہیں ہے۔ وہ کسی بھی رنگ کا لباس استعمال کر سکتی ہے۔