2018ء میں، میں اور میرے دو ساتھیوں نے مل کر برابری کی حصہ داری (Equal Partnership) میں شادی ہال تعمیر کرنے کی غرض سے ایک پلاٹ خریدا تھا۔ تعمیری کام کے دوران ایک پارٹنر کی بے احتیاطی (جس پر اس کو مسلسل متوجہ کیا گیا) کی وجہ سے ایک ورکر کی بجلی کے تار کے قریب آنے سے موت ہوگئی۔ اس معاملہ کو رفع دفع کرنے کے لیے فوت شدہ فرد کے خاندان کو گیارہ لاکھ پچاس ہزار روپے( 11,50,000/-)روپے ادا کیے گئے۔
پلاٹ کی خریداری سے لے کر تعمیری کام مکمل ہونے تک کا جو منصوبہ تھا، کورونا کے سبب اور کچھ بے احتیاطی کی وجہ سے متاثر ہوا ہی، ساتھ ہی مجوزہ بجٹ بھی بہت زیادہ بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں متوقع منافع بھی متاثر ہوا۔ آخر میں یہ طے کیا گیا کہ کُل رقم میں جس کا جتنا سرمایہ لگا ہے، اسی حساب سے اس کو منافع دیا جائے۔ لیکن اس پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں:
1۔ اسلامی نقطۂ نظرسے اس معاملے میں تینوں پارٹنروں کے منافع اور خسارے کا تناسب کیا ہوگا؟
2۔ فوت شدہ ملازم کے خاندان کو جو رقم ادا کی گئی ہے، کیا اس میں بھی تمام پارٹنر برابر کے شریک ہوں گے یا جس پارٹنر کی بے احتیاطی کے سبب یہ حادثہ ہوا اسی کویہ رقم ادا کرنی ہوگی؟
رضاعت کا ایک مسئلہ
جواب
مشترکہ تجارت کی اسلامی نقطۂ نظر سے دو صورتیں ہوتی ہیں : شرکت اور مضاربت۔ شرکت کا مطلب ہے کہ ہر فریق سرمایہ لگائے اور کام بھی کرے اور مضاربت کا مطلب ہے کوئی فریق صرف سرمایہ لگائے اور کوئی صرف محنت کرے۔ آپ کا مذکورہ معاملہ شرکت کا ہے۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں :
(1) شرکت میں کون فریق کتنا سرمایہ لگائے؟ اور منافع میں اس کا حصہ کتنا ہوگا؟ یہ باتیں باہم مشورے سے طے کی جا سکتی ہیں۔ جس تناسب سے کسی فریق کا سرمایہ لگے، اسی تناسب سے اس کا منافع طے ہو، یہ ضروری نہیں ہے۔ تمام فریقوں کی مرضی سے منافع کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ البتہ شرکت میں خسارہ ہونے کی صورت میں ہر فریق کو اسی تناسب سے خسارہ برداشت کرنا ہوگا، جس تناسب سے اس کا سرمایہ لگا ہے۔ حضرت علیؓ سے مروی ہے:
الوضیعة علی المال والربح علی ما اصطلحوا علیه (مصنف عبد الرزاق، 15087)
’’خسارہ ہر فریق اپنے مال کے تناسب سے برداشت کرے گا، البتہ منافع وہ جس تناسب سے چاہیں طے کرلیں۔ ‘‘
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وان قلّ رأسُ مالِ أحدھما وکثُر رأسُ مالِ الآخر واشترطا الربحَ بینھما علی السَّواء أو علی التفاضلِ فان الربحَ بینھما علی الشرط، والوضیعة أبداً علی قدرِ رؤوسِ أموالھا۔ (الفتاویٰ الھندیة، طبع دار الفکر، 2؍320)
’’ اگر دو شریکوں میں سے کسی کا مال کم ہو اور کسی کا زیادہ اور وہ طے کرلیں کہ منافع برابر یا کم زیادہ تقسیم کرلیں گے تو وہ ایسا کر سکتے ہیں، لیکن اگر خسارہ ہو تو اسے ان کے اموال کے تناسب سے برداشت کرنا ہوگا۔ ‘‘
(2) کورونا یا دیگر اسباب سے پروجیکٹ وقت پر مکمل ہونے میں تاخیر ہوئی، اس کی وجہ سے منافع کم ہوا تو اسے تمام فریقوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ اسی طرح کام کے دوران میں فوت شدہ ملازم کے اہلِ خاندان کو جو رقم ادا کی گئی اسے بھی تمام فریقوں کو مل جل کر ادا کرنا ہوگا۔ کام کی نگرانی تمام فریقوں کی ذمے داری تھی۔ کسی ایک فریق کی کوتاہی کی وجہ سے صرف اسی کو ذمے دار قرار دینا اور دوسرے فریقوں کو بری قرار دینا درست نہیں۔
October 2024