تقسیمِ وراثت کا ایک مسئلہ

 ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے۔ ہم دو بھائی چار بہنیں ہیں۔ آبائی مکان اور ایک کھیت ساڑھے چار بیگھے کا ہے۔ ایک کھیت میں باغ ہے۔

براہِ کرم واضح فرمائیں کہ ہم بھائی بہنوں کے درمیان وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ ایک بہن کہہ رہی ہے کہ ہم کو نہیں چاہیے، جب کہ قرآن میں ہے کہ عورتوں کا بھی وراثت میں حصہ ہے۔ اس کے معاملے میں کیا کریں ؟

جواب

قرآن مجید میں وراثت کی تقسیم کا صریح حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لِّلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِّمَّا تَـرَكَ الْوَالِـدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیبٌ مِّمَّا تَـرَكَ الْوَالِـدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ نَصِیبًا مَّفْرُوْضًا(النساء: ۷)

’’مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔ ‘‘

اس آیت میں ایک بات تو یہ کہی گئی ہے کہ مالِ وراثت میں صرف مرد ہی حق دار نہیں ہیں، بلکہ عورتوں کا بھی اس میں حصہ ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مالِ وراثت چاہے زیادہ ہو یا کم سے کم، اسے ہر حال میں مستحقین میں تقسیم ہونا ہے۔ مفسرین نے ایک اہم بات یہ کہی ہے کہ وراثت چاہے ایسے مال پر مشتمل ہو جو صرف مردوں کے کام آنے والا ہو، لیکن لازماً اس میں عورتوں کا بھی حصہ لگایا جائے گا، اگر وہ موجود اور مستحقِ وراثت ہوں۔ تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ تقسیم وراثت ایک لازمی حکم ہے، اس کی اللہ تعالیٰ نے تاکید کی ہے اور اس پر عمل ضروری ہے۔

قرآن میں ورثہ کے حصے بھی بیان کردیے گئے ہیں۔ یہ بیان سورۂ نساء کی صرف تین آیات (۱۱۔ ۱۲۔ ۱۷۶) میں مذکور ہے۔ اگر مالِ وراثت کی تقسیم صرف اولاد کے درمیان ہونی ہو تو اس کے سلسلے میں قرآن کا یہ بیان ہے:

یوْصِیكُمُ اللّٰـهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیینِ(النساء: ۱۱)

’’اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں ہدایت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔‘‘

اس اعتبار سے اگر کسی شخص کے دو لڑکے اور چار لڑکیاں ہوں تو اس کے مال کے آٹھ حصے کیے جائیں گے۔ دو دو حصے ہر لڑکے کو اور ایک ایک حصہ ہر لڑکی کو ملے گا۔ دوسرے الفاظ میں ہر لڑکے کو 25%اور ہر لڑکی کو 12.5%ملے گا۔ آبائی مکان، کھیت اور باغ کی قیمت نکال لی جائے، پھر یا تو اسے فروخت کرکے رقم تقسیم کرلی جائے، یا حصہ داروں میں کوئی ایک یا ایک سے زائد لوگ دوسروں کے حصے خرید لیں۔

تقسیم وراثت کے معاملے میں ایک اصول یہ ہے کہ کوئی مستحق وراثت، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اپنی آزاد مرضی سے اپنا حصہ کلّی یا جزئی طور پر چھوڑ سکتا ہے یا کسی اور کو دے سکتا ہے۔ چوں کہ عورتیں سماجی دباؤ کی وجہ سے اپنا حصہ چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتی ہیں، اس لیے فقہا نے کہا ہے کہ پہلے مالِ وراثت تمام مستحقین کے درمیان تقسیم کردیا جائے، اس کے بعد ہر ایک کو آزادی رہے گی کہ وہ اپنا حصہ نہ لینا چاہے تو کسی دوسرے کو دے دے۔

March 2025