زندگی میں اولاد کو کتنا ہبہ کیا جا سکتا ہے؟

 شوہر اور بیوی دونوں کی علاحدہ علاحدہ جائیدادیں ہیں۔ ان کی پانچ اولادیں ہیں: ایک لڑکا اور چار لڑکیاں۔ دونوں چاہتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں جائیدادیں اولاد کے درمیان تقسیم کر دی جائیں۔

اس صورت میں دونوں میاں بیوی اپنی اپنی جائیداد میں سے اپنے لیے کتنا رکھ سکتے ہیں؟ اور اپنی اولاد کے درمیان کتنا تقسیم کر سکتے ہیں؟

جواب

کوئی مال ایک شخص سے دوسرے کو منتقل کرنے کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں :

۱۔ ہبہ (gift)، ۲۔ وصیت  (Will)، ۳۔ وراثت (Inheritance)۔ ماں باپ اپنی زندگی میں اولاد کو جتنا مال دینا چاہیں، اس کی اجازت ہے۔ اسے ہبہ قرار دیا جائے گا۔ البتہ عام حالات میں سب کو برابر دینا چاہیے، چاہے لڑکا ہو یا لڑکی۔ ان کے درمیان کچھ تفریق نہیں کرنی چاہیے۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد مجھے لے کر اللہ کے رسول ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : “میں نے اپنے اس بیٹے کو فلاں چیز دی ہے۔ اس کی ماں کہتی ہے کہ میں اس پر آپ کو گواہ بنا لوں۔ ”آپؐ نے دریافت کیا : “کیا تم نے وہ چیز اپنی سب اولاد کو دی ہے؟ ” انہوں نے عرض کیا : نہیں۔ تب آپؐ نے فرمایا : فَاتَّقوا اللهَ واعْدِلوا بین أولادِكم (بخاری: ۲۵۸۷، مسلم ۱۶۲۳)

’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل سے کام لو۔ ‘‘

ماں باپ کو اختیار ہے، اپنی جائیداد اور مال میں سے جتنا چاہیں روک لیں اور باقی اولاد کے درمیان برابر تقسیم کر دیں۔