زکوٰۃ مستحق تک نہ پہنچے تو وہ ادا نہیں مانی جائے گی

میں نے زکوٰۃ کا حساب کر کے اس کی رقم ایک بیگ میں رکھ لی تھی کہ مستحقین کو دیتا رہوں گا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ بیگ چوری ہو گیا۔ کیا میری زکوٰۃ ادا مانی جائے گی، یا مجھے دوبارہ زکوٰۃ نکالنی ہوگی؟

جواب

زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت مکمل سمجھی جائے گی جب وہ کسی مستحق تک پہنچا دی جائے۔ اگر اس سے قبل ہی وہ چوری ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، خواہ یہ رقم اپنے مال میں سے نکالی ہوئی زکوٰۃ ہو یا کسی دوسرے صاحب مال نے دی ہو کہ اسے غریبوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ فقہا نے اس کی صراحت کی ہے۔ فقہ حنفی کی معروف کتاب ’الدرّ المختار ‘میں ہے:

ولا یخرج عن العھدۃ بالعزل، بل بالأداء للفقراء(2؍270)

’’زکوٰۃ کی رقم اصل مال میں سے الگ کر دینے سے ادا نہیں سمجھی جائے گی، بلکہ جب وہ غریبوں تک پہنچ جائے تب اس کی ادائیگی مکمل ہوگی۔ ‘‘

اس بنا پر زکوٰۃ اگر مستحقین تک پہنچنے سے پہلے چوری ہو جائے تو دوبارہ نکالنی ہوگی۔