سود کی رقم کو بہ طور قرض دینا

میرا ایک دوست مقروض ہے۔ اس قرض کی ادائیگی کے لیے وہ مجھ سے قرضِ حسن کا خواہش مند ہے۔ میرے پاس اسے بہ طور قرض دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، البتہ بینک انٹرسٹ کی کچھ رقم موجود ہے۔ کیا میں اسے یہ سودی رقم بہ طور قرض دے سکتا ہوں۔ میرا ارادہ ہے کہ اسے ابھی قرض کہہ کر دے دوں، بعد میں معاف کر دوں گا۔

جواب

بینک میں رکھی ہوئی رقومات پر ملنے والی اضافی رقم (interest amount) کو علما نے  سود (ربا) قرار دیا ہے، جسے قرآن مجید میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ (البقرة: ۲۷۵، ۲۷۶، ۲۷۸، آل عمران:۱۳۰) اس لیے اسے اپنے کسی استعمال میں لانا ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے۔ اسے بینک میں چھوڑ دینے سے بھی علما منع کرتے ہیں، اس لیے کہ اس کے غلط استعمال کے اندیشے رہتے ہیں۔ اسے نکلوا لینا چاہیے۔ اسے غریبوں اور ضرورت مندوں کو بلا نیت ثواب دیا جا سکتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ دیتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ سودی رقم دی جا رہی ہے۔

سودی رقم کو بہ طور قرض دینا درست نہیں ہے۔ اس سے قرض دینے والے کی ملکیت اس مال پر باقی رہتی ہے۔ جب کہ اس کی ذمے داری ہے کہ وہ جلد از جلد اس رقم سے خود کو پاک کرے۔