ایک پرائیویٹ غیر منافع بخش آن لائن معیاری تعلیمی ادارہ مدارسِ اسلامیہ، دینی مکاتب اور دانش گاہوں کے نادار بچوں، بچیوں، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بلا تفریق مسلک و مشرب، بلا امتیاز رنگ و زبان، ان کے تعلیمی نظام میں کسی قسم کی دخل اندازی کیے بغیر، تجربہ کار اور ماہر اساتذہ کی نگرانی میں عصری تعلیم فراہم کرتا ہے، نیز مدارس کے طلبہ کو NIOS کے امتحانات کی تیاری کراتا ہے، ان کے امتحانات کی فیس ادا کرتا ہے اور دیگر تعلیمی ضروریات کا بھی انتظام کرتا ہے۔ ادارہ ان تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم زکوٰۃ دینے والوں سے بہ حیثیت وکیل وصول کرتا ہے اور اسے طلبہ کی تعلیمی ضروریات پر خرچ کرتا ہے۔ کیا اس ادارے کا زکوٰۃ وصول کرنا اور مذکورہ طریقے سے خرچ کرنا ازروئے شرع جائز ہے؟
جواب
زکوٰۃ کی رقم غریبوں پر کسی بھی کام کے لیے خرچ کی جا سکتی ہے۔ اس کا استعمال ان کے تعلیمی مصارف میں بھی کیا جا سکتا ہے۔
بعض فقہا’ تملیک ‘کی شرط عائد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ زکوٰۃ غریبوں کو دے دی جائے، وہ جس کام میں چاہیں، اس کا استعمال کریں۔ لیکن دوسرے فقہا کہتے ہیں کہ’تملیک‘ ضروری نہیں ہے۔ ضروری یہ ہے کہ وہ غریبوں کی منفعت میں خرچ کی جائے۔ میری بھی یہی رائے ہے۔