میرے والد محترم کا انتقال ہو چکا ہے۔ انتقال سے پہلے انھوں نے میری بہن کو کچھ رقم بہ طور قرض دی تھی، لیکن اس کا طریقہ یہ اختیار کیا تھا کہ ان کا نام ظاہر نہ ہونے پائے۔ انھوں نے یہ رقم میرے ہاتھ سے میری بہن کو دلوائی تھی۔ اب میری بہن وہ رقم واپس کر رہی ہے۔ میں اس کا کیا کروں ؟ ابھی میری والدہ محترمہ حیات ہیں۔ کیا وہ رقم انھیں دی جا سکتی ہے؟ کچھ رقم والد صاحب نے مجھے بھی بہ طور قرض دی تھی۔ اب میں اسے کس کو واپس کروں ؟ اسے والدہ محترمہ کو دے دوں ؟ یا والد صاحب کے نام سے صدقہ کر دوں ؟ یا اسے اپنے بھائیوں بہنوں میں تقسیم کر دوں ؟
جواب
کسی شخص کا انتقال ہو تو اس کی ملکیت کی تمام چیزیں اس کے ورثہ کے درمیان تقسیم ہوں گی۔ اسی طرح اگر اس نے کسی کو کچھ رقم بہ طور قرض دے رکھی ہو اور وہ اس کے انتقال کے بعد واپس ملے تو اسے بھی تمام ورثہ کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
آپ کے والد صاحب کی جو رقم آپ کے پاس اور آپ کی بہن کے پاس بہ طور قرض تھی، اسے والدہ کو دے دینا یا صدقہ کر دینا درست نہ ہوگا, بلکہ اس میں تمام ورثہ کا حق ہے۔ اس میں آپ کی والدہ کا حصہ آٹھواں (12.5%)ہے۔ باقی رقم آپ بھائیوں بہنوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہر بھائی کو ہر بہن کے مقابلے میں دو گنا ملے گا۔ مثال کے طور پر اگر 100 روپے تقسیم ہونے ہیں اورورثہ میں بیوہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں تو بیوی کا حصہ 12.5% ہے، ہر بیٹے کا حصہ29.2%(دو بیٹوں کا58.3%) اور ہر بیٹی کا حصہ14.6% (دو بیٹیوں کا حصہ 29.2%)ہوگا۔