میرے والدین نے 1997 میں ایک گھر بنایا تھا۔ اس میں ہم سب رہتے تھے۔ اس میں والد صاحب کے پچاس ہزار روپے اور والدہ کے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے لگے تھے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد وہ گھر فروخت کر دیا گیا۔ جو رقم ملی اس کی تقسیم کیسے ہو؟ اس سلسلے میں دو رائیں ہیں : ایک یہ کہ والدہ کی لگائی ہوئی رقم ان کو واپس کر دی جائے، باقی رقم کی تقسیم شریعت کے مطابق ہو۔ اس میں والدہ کا جو حصہ ہے وہ ان کو مزید دے دیا جائے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ چوں کہ گھر والد صاحب کے نام سے تھا، اس لیے والدہ کو صرف وہی حصہ دیا جائے جو شریعت میں بیوی کا بتایا گیا ہے، یعنی بیٹے کا ایک حصہ اور بیوی یا بیٹی کا نصف حصہ۔ ان دونوں رایوں میں سے کون سی رائے شریعت کے مطابق ہے؟ برائے کرم رہ نمائی فرمائیں۔
جواب
یہ بات درست نہیں کہ وراثت میں بیوی کا حصہ بیٹے کا نصف ہوتا ہے۔ اگر اولاد ہے تو بیوی کا حصہ آٹھواں (12.5%) اور اگر اولاد نہیں ہے تو چوتھائی (25%) ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ عورت نے اپنے شوہر کی زندگی میں اسے اپنا جو مال دیا تھا اگر اسے ہبہ (gift) کے ارادے سے دیا ہو تو شوہر کے انتقال کے بعد اسے واپس لینے کا حق نہیں ہے۔ اس صورت میں وہ شوہر کے کل مالِ وراثت میں سے صرف اپنے حصے یعنی موجودہ صورت میں آٹھویں حصے کی مستحق ہوگی، لیکن اگر اس نے ہبہ نہ کیا ہو تو وہ بعد میں اپنی دی ہوئی رقم واپس لے سکتی ہے۔ اس رقم کے علاوہ وہ وراثت میں اپنے حصے کی بھی مستحق ہوگی۔
بیوی کا حصہ نکالنے کے بعد باقی مالِ وراثت لڑکوں اور لڑکیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر لڑکے کو ہر لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ملے گا۔
April 2025