وراثت کے بعض مسائل

,

 ایک صاحب کا ان کی بیوی سے کافی دنوں سے مقدمہ چل رہا تھا۔ بالآخر عدالت نے بیوی کو کچھ رقم دلواکر علاحدگی کروادی اور طے پایا کہ دونوں میں سے کوئی آئندہ نہ دوسرے کے خلاف مقدمہ کرے گا نہ کوئی دعوی کرے گا۔

اب ان صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے بینک اکاؤنٹ میں کچھ رقم ہے۔ اس کا کیا کیا جائے؟ ان کی اُس بیوی سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے۔ یہ دونوں اپنی ماں کے پاس رہتے ہیں۔ مرحوم کے ایک بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ تین بہنوں کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ ایک غیر شادی شدہ ہے۔ ان کی والدہ بھی زندہ ہیں۔ براہ کرم رہ نمائی فرمائیں۔ ان کا مال وراثت کیسے تقسیم ہوگا؟

جواب

طلاق کے بعد بیوی سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا، اس لیے سابق شوہر کی وراثت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ البتہ اولاد اس کی اپنی ہے۔ اس لیے وہ باپ کی وراثت میں حصہ پائے گی۔ اولاد کی موجودگی میں بھائیوں اور بہنوں کا وراثت میں حصہ نہیں ہوتا۔

مرحوم کی وراثت میں والدہ کو چھٹا حصہ (16.7%)ملے گا۔ باقی کے تین حصے کیے جائیں گے: ایک حصہ لڑکی اور دو حصے لڑکے کو ملیں گے۔ بہ الفاظِ دیگر لڑکی کو 27.8% اور لڑکے کو 55.6%ملے گا۔