وراثت کے بعض مسائل

 میرے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ میری کل جائیداد ایک عدد رہائشی مکان ہے۔ یہ مکان پہلے کچّا تھا۔ بعد میں کچھ میری کمائی سے اور کچھ تین بیٹوں کے مالی تعاون سے نیا بنایا گیا۔ چوتھے بیٹے نے اس کی تعمیر میں حصہ نہیں لیا، کیوں کہ وہ ہم سے الگ رہ رہا تھا اور اس نے اپنا ذاتی مکان بنا لیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ میرا یہ بیٹا جس نے نئے مکان کی تعمیر میں کچھ بھی حصہ نہیں لیا، کیا میری وفات کے بعد، میرے دیگر بیٹوں کی طرح وراثت کا حق دار ہوگا اور اس مکان میں سے حصہ پائے گا؟

جواب

باپ کی زندگی میں اولاد جو کچھ اسے دیتی ہے یا اس کا مالی تعاون کرتی ہے شریعت کی نگاہ میں وہ باپ کا ہی سمجھا جاتا ہے، الا یہ کہ بیٹا کوئی چیز دیتے وقت صراحت کرے کہ اسے میں صرف استعمال کے لیے دے رہا ہوں، اس کی ملکیت میری ہی ہے۔

اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے انیسویں فقہی سیمنار منعقدہ ہانسوٹ گجرات 12 تا 15 فروری 2010ء میں جن موضوعات پر اجتماعی غور و فکر کیا گیا تھا ان میں سے ایک موضوع تھا: کاروبار میں والد کے ساتھ اولاد کی شرکت۔ اس میں منظور کی جانے والی تجاویز میں ایک شق یہ بھی تھی:

’’باپ کی موجودگی میں اگر بیٹوں نے اپنے طور پر مختلف ذرائع کسب اختیار کیے اور اپنی کمائی کا ایک حصہ والد کے حوالے کرتے رہے تو اس صورت میں باپ کو ادا کردہ سرمایہ باپ کی ملکیت شمار کی جائے گی۔ ”(نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے، اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا)، طبع 2017، ص256)

اس بنا پر نیا مکان بھی باپ کی ملکیت سمجھا جائے گا اور اس کے انتقال کے بعد تمام بیٹوں میں تقسیم ہوگا۔ ورثا میں صرف چار بیٹے ہونے کی صورت میں ہر ایک چوتھائی (25%)کا مستحق ہوگا۔

January 2025