عبداللہ کے دو لڑکے (علی اور احمد) اور ایک لڑکی (حوا) تھی۔ عبد اللہ کی وراثت اس کی اولاد کے درمیان شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگئی۔
علی کا ایک لڑکا (عبد الصمد) اور پانچ لڑکیاں تھیں۔ (ایک لڑکی کا نام حلیمہ تھا۔ ) احمد کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھی۔
عبد الصمد کے انتقال کے وقت اس کی بیوی، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں زندہ تھیں۔
احمد نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میری کل پراپرٹی میرے بھتیجے عبد الصمد کی بیوی اور بچوں کو دے دی جائے۔ احمد کی اولاد کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
٭ حلیمہ (عبد الصمد کی ایک بہن) کے بچوں کا کہنا ہے کہ احمد کی پراپرٹی میں، جس کی وصیت انھوں نے اپنے بھتیجے عبد الصمد کے بیوی بچوں کو کی ہے، ہمارابھی حصہ ہے۔
اس تفصیل کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :
کیا احمد کی وصیت درست ہے؟
کیا حلیمہ کے بچوں کا مطالبہ صحیح ہے؟
عبد الصمد کے بیوی بچوں کو احمد سے جو کچھ ملا ہے اس کی تقسیم کیسے ہو؟ کیا وہ برابر تقسیم کرلیں، یاوراثت میں ملنے والے حصوں کے بہ قدر ان کا حصہ ہوگا؟ یہ لوگ کرایے کے مکان میں رہتے ہیں۔ عبد الصمد کی بیوی کا سوال یہ ہے کہ کیا ان کے لیے جائز ہے کہ ابھی اس رقم سے ایک مکان خریدکر اس میں رہنے لگیں، اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد اسے آپس میں تقسیم کرلیں گے؟
براہ کرم ان سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں۔
جواب
(1) کسی شخص کے لیے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اپنے کل مال کی وصیت کرنی چاہی تو اللہ کے رسولﷺ نے انھیں منع کردیااور فرمایا : الثُّلْثُ وَالثُّلثُ کَثِیرٌ (بخاری: ۱۲۹۵، مسلم: ۱۶۲۸) ‘‘ایک تہائی کی وصیت کرو، ایک تہائی بہت ہے۔ ‘‘
اس بنا پر احمد کے مال میں اس کے بھتیجے عبد الصمد کی بیوہ اور اولاد کا حصہ ایک تہائی بنتا ہے۔ باقی دو تہائی احمد کے بچوں کا ہے۔ البتہ وہ لوگ اپنی مرضی سے اپنا حصہ عبد الصمد کی بیوہ اور بچوں کو دے سکتے ہیں۔
(2) حلیمہ احمد کی بھتیجی ہے۔ کسی شخص کے بیٹے /بیٹی کی موجودگی میں اس کی وراثت میں بھتیجی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس بنا پر احمد کے مال میں حلیمہ کا کچھ حصہ نہیں بنتاہے۔ چناں چہ حلیمہ کے بچوں کا مطالبہ صحیح نہیں ہے۔
(3) عبد الصمد کی بیوہ اور اس کے بچے، اس مال میں جو انھیں احمد سے ملا ہے، برابر کے مستحق ہیں۔ وہ حسب سہولت چاہیں تو ابھی تقسیم کرلیں، یا ابھی مکان خرید کر ساتھ میں رہیں اور بعد میں جب ضرورت محسوس کریں، آپس میں اسے تقسیم کرلیں۔ عبد الصمد کی بیوہ کے انتقال پر مکان یا اس کی رقم اس کے تمام بچوں کے درمیان تقسیم ہوگی۔
March 2024